The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-An'am • Ayah 3

Para 7 Surah 6 : 3
وَهُوَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَفِى ٱلْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَهُوَ
ٱللَّهُ
فِى
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ
وَفِى
ٱلْأَرْضِ
ۖ
يَعْلَمُ
سِرَّكُمْ
وَجَهْرَكُمْ
وَيَعْلَمُ
مَا
تَكْسِبُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Which was revealed in MakkahThe Virtue of Surat Al-An`am and When it Was RevealedAl-`Awfi, `Ikrimah and `Ata' said that Ibn `Abbas said, "Surat Al-An`am was revealed in Makkah" At-Tabarani recorded that Ibn `Abbas said, "All of Surat Al-An`am was revealed in Makkah at night, accompanied by seventy thousand angels, raising their voices in glorification of Allah" As-Suddi said that Murrah said that `Abdullah said, "Surat Al-An`am was revealed in the company of seventy thousand angels." بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. All Praise is Due to Allah for His Glorious Ability and Great PowerAllah praises and glorifies His Most Honorable Self for creating the heavens and earth, as a dwelling for His servants, and for making the darkness and the light to benefit them in the night and the day. In this Ayah, Allah describes darkness in the plural, Zulumat where Zulmah is singular for darkness, while describing the light in the singular, An-Nur, because An-Nur is more honored. In other Ayat, Allah said, ظِلَـلُهُ عَنِ الْيَمِينِ(To the right and to the lefts.) 16:48 Near the end of this Surah (chapter 6), Allah also said; وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ(And verily, this is my straight path, so follow it, and follow no (other) ways, for they will separate you away from His way.) 6:153 Allah said next, ثْمَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ(Yet those who disbelieve hold others as equal with their Lord.) meaning, in spite of all this, some of Allah's servants disbelieve in Him and hold others as partners and rivals with Him. Some of Allah's servants claimed a wife and a son for Allah, hallowed be He far above what they attribute to Him. Allah's statement, هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن طِينٍ(He it is Who has created you from clay,) refers to the father of mankind, Adam, from whom mankind originated, multiplied in numbers and spread about, east and west. Allah said, ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ(Then has decreed a stated term. And there is with Him another determined term...) His saying; ثُمَّ قَضَى أَجَلاً(Then has decreed a stated term,) refers to death, while, وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ(And there is with Him another determined term...) refers to the Hereafter, according to Sa`id bin Jubayr who reported this from Ibn `Abbas. Similar statements were narrated from Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak, Zayd bin Aslam, `Atiyyah, As-Suddi, Muqatil bin Hayyan and others. Ibn `Abbas and Mujahid said that, ثُمَّ قَضَى أَجَلاً(And then has decreed a stated term,) is the term of this earthly life, while, وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ(And there is with Him another determined term) refers to man's extent of life until he dies as mentioned in Allah's statement; وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ(It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day, then He raises (wakes) you up again that a term appointed (life) be fulfilled.) 6:60 The meaning of Allah's statement, عِندَهُ(With Him) is that none but Him knows when it will occur. Allah said in other Ayat, إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لاَ يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلاَّ هُوَ(The knowledge thereof is with my Lord. None can reveal its time but He.) 7:187, and, يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَـهَا - فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا - إِلَى رَبِّكَ مُنتَهَـهَآ (They ask you about the Hour -- when will be its appointed time You have no knowledge to say anything about it. To your Lord belongs (the knowledge of) the term thereof.) 79:42-44 Allah said, ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ(Yet you doubt.) the coming of the (last) Hour, according to As-Suddi. Allah said next, وَهُوَ اللَّهُ فِى السَّمَـوَتِ وَفِى الاٌّرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ (And He is Allah in the heavens and the earth, He knows what you conceal and what you reveal, and He knows what you earn.) Meaning, it is He Who is called Allah, throughout the heavens and the earth, that is, it is He who is worshipped, singled out, whose divinity is believed in by the inhabitants of the heavens and the earth. They call Him Allah, and they supplicate to Him in fear and hope, except those who disbelieve among the Jinns and mankind. In another Ayah, Allah said; وَهُوَ الَّذِى فِى السَّمآءِ إِلَـهٌ وَفِى الاٌّرْضِ إِلَـهٌ(It is He Who is God in the heavens and the earth.)43:84 meaning, He is the God of those in heaven and those on earth, and He knows all affairs, public and secret. وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ(And He knows what you earn) all the good and bad deeds that you perform.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

تفسیر سورۃ الانعام:یہ سورت مکے میں اتری ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ پوری سورت ایک ہی مرتبہ ایک ساتھ ہی ایک ہی رات میں مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے، اس کے اردگرد ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح پڑھ رہے تھے۔ [طبرانی کبیر:12930:ضعیف] ‏ ایک روایت میں ہے کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے فرشتوں کی کثرت زمین سے آسمان تک تھی، یہ ستر ہزار فرشتے اس سورت کے پہنچانے کے لئے آئے تھے۔ [طبرانی کبیر:178/24:ضعیف] ‏ مستدرک حاکم میں ہے، اس سورت کے نازل ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مبارک سورت کو پہنچانے کیلئے اس قدر فرشتے آئے تھے کہ آسمان کے کنارے دکھائی نہیں دیتے تھے۔‏“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:تحت الحدیث:5627:ضعیف و منقطع] ‏ ابن مردویہ میں یہ بھی ہے کہ فرشتوں کی اس وقت کی تسبیح نے ایک گونج پیدا کر دی تھی زمین گونج رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» پڑھ رہے تھے۔ [الدر المنشور للسیوطی:3/3:ضعیف] ‏ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھ پر سورۃ انعام ایک دفعہ ہی اتری۔ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح و حمد بیان کر رہے تھے۔ [طبرانی صغیر:220:ضعیف] ‏اللہ کی بعض صفات ٭٭اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے۔ جیسے فرمان ربانی آیت «عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ» [16-النحل:48] ‏ میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت «وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» [6۔ الانعام:153] ‏ میں۔ یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو جمع کے لفظ سے بتایا، اللہ ہی قابل حمد ہے، کیونکہ وہی خالق کل ہے مگر پھر بھی کافر لوگ اپنی نادانی سے اس کے شریک ٹھہرا رہے ہیں کبھی بیوی اور اولاد قائم کرتے ہیں کبھی شریک اور ساجھی ثابت کرنے بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے، اس رب نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس کی نسل سے مشرق مغرب میں پھیلا دیا، موت کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، آخرت کے آنے کا وقت بھی اسی کا مقرر کیا ہوا ہے، پہلی اجل سے مراد دنیاوی زندگی دوسری اجل سے مراد قبر کی رہائش، گویا پہلی اجل خاص ہے یعنی ہر شخص کی عمر اور دوسری اجل عام ہے یعنی دنیا کی انتہا اور اس کا خاتمہ۔صفحہ نمبر2527سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ «قَضَى أَجَلًا» سے مراد مدت دنیا ہے اور «أَجَلٌ مُسَمًّى» سے مراد عمر انسان ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس کا استدلال آنے والی آیت «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] ‏ سے ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت «ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا» سے مراد نیند ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے، پھر جاگنے کے وقت لوٹا دی جاتی ہے اور «أَجَلٌ مُسَمًّى» سے مراد موت ہے یہ قول غریب ہے۔ «عِنْدَهُ» سے مراد اس کے علم کا اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہونا ہے، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ» [7۔ الأعراف:187] ‏ یعنی ” قیامت کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہی ہے “، سورۃ النازعات میں بھی فرمان ہے کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا» [79-النازعات:42-44] ‏ ” لوگ تجھ سے قیامت کے صحیح وقت کا حال دریافت کرتے ہیں حالانکہ تجھے اس کا علم کچھ بھی نہیں وہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے “۔ باوجود اتنی پختگی کے اور باوجود کسی قسم کا شک شبہ نہ ہونے کے پھر بھی لوگ قیامت کے آنے نہ آنے میں تردد اور شک کر رہے ہیں۔ اس کے بعد جو ارشاد جناب باری نے فرمایا ہے، اس میں مفسرین کے کئی ایک اقوال ہیں لیکن کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو جہمیہ لے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے ہر جگہ ہے، نعوذ باللہ، اللہ کی برتر و بالا ذات اس سے بالکل پاک ہے۔ آیت کا بالکل صحیح مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں بھی اسی کی ذات کی عبادت کی جاتی ہے اور زمینوں میں بھی، اسی کی الوہیت وہاں بھی ہے اور یہاں بھی، اوپر والے اور نیچے والے سب اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں، سب کی اسی سے امیدیں وابستہ ہیں اور سب کے دل اسی سے لرز رہے ہیں جن و انس سب اسی کی الوہیت اور بادشاہی مانتے ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ» [43۔ الزخرف:84] ‏ یعنی ” وہی آسمانوں میں معبود برحق ہے اور وہی زمین میں معبود برحق ہے، یعنی آسمانوں میں جو ہیں، سب کا معبود وہی ہے اور اسی طرح زمین والوں کا بھی سب کا معبود وہی ہے “۔صفحہ نمبر2528اب اس آیت کا اور جملہ «يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ» [6۔ الأنعام:3] ‏ خبر ہو جائے گا یا حال سمجھا جائے گا اور یہ بھی قول ہے کہ اللہ وہ ہے جو آسمانوں کی سب چیزوں کو اس زمین کی سب چیزوں کو چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، جانتا ہے۔ پس «يَعْلَمُ» متعلق ہو گا «فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ» کا اور تقدیر آیت یوں ہو جائے گی آیت «وَهُوَ اللَّهُ یعلمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ» ایک قول یہ بھی ہے کہ آیت «وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ» پر وقف تام ہے اور پھر جملہ مستانفہ کے طور پر خبر ہے کہ آیت «وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ» امام ابن جریر اسی تیسرے قول کو پسند کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” تمہارے کل اعمال سے خیر و شر سے وہ واقف ہے “۔صفحہ نمبر2529

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 3 وَہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِ ط ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں کا خدا کوئی اور ہو زمین کا کوئی اور۔ ہاں فرشتوں کے مختلف طبقات ہیں۔ زمین کے فرشتے ‘ فضا کے فرشتے اور آسمانوں کے فرشتے معین ہیں۔ پھر ہر آسمان کے الگ فرشتے ہیں۔ پھر ملائکہ مقربین ہیں۔ لیکن ذات باری تعالیٰ تو ایک ہی ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The third verse contains the consequential outcome of what was said in the first two verses. It declares that Allah is the only Being who is worthy of worship and obedience in all the heavens and the earth, and He is the One who knows everything human beings conceal or reveal and, particularly, everything they say or do.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.