Surah Ali 'Imran • Ayah 13
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Threatening the Jews With Defeat and Encouraging Them to Learn a Lesson From the Battle of BadrAllah commanded the Prophet Muhammad ﷺ to proclaim to the disbelievers,سَتُغْلَبُونَ(You will be defeated) in this life,وَتُحْشَرُونَ(And gathered together) on the Day of Resurrection,إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ(to Hell, and worst indeed is that place of rest)Muhammad bin Ishaq bin Yasar recorded that `Asim bin `Umar bin Qatadah said that when the Messenger of Allah ﷺ gained victory in the battle of Badr and went back to Al-Madinah, he gathered the Jews in the marketplace of Bani Qaynuqa`.Therefore, Allah said,قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌ(There has already been a sign for you) meaning, O Jews, who said what you said! You have an Ayah, meaning proof, that Allah will make His religion prevail, award victory to His Messenger, make His Word apparent and His religion the highest.فِي فِئَتَيْنِ(In the two armies) meaning, two camps,الْتَقَتَا(that met) in combat (in Badr),فِئَةٌ تُقَـتِلُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ(One was fighting in the Cause of Allah) the Muslims,وَأُخْرَى كَافِرَةٌ(And as for the other, in disbelief) meaning, the idolators of Quraysh at Badr. Allah's statement,يَرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ الْعَيْنِ(They saw them with their own eyes twice their number) means, the idolators thought that the Muslims were twice as many as they were, for Allah made this illusion a factor in the victory that Islam had over them.It was said that the meaning of Allah's statement,يَرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ الْعَيْنِ(They saw them with their own eyes twice their number) is that the Muslims saw twice as many idolators as they were, yet Allah gave them victory over the disbelievers. `Abdullah bin Mas`ud said, "When we looked at the disbelievers' forces, we found that they were twice as many as we were. When we looked at them again, we thought they did not have one man more than we had. So Allah's statement,وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِى أَعْيُنِكُمْ قَلِيلاً وَيُقَلِّلُكُمْ فِى أَعْيُنِهِمْ(And (remember) when you met, He showed them to you as few in your eyes and He made you appear as few in their eyes.) 8:44".When the two camps saw each other, the Muslims thought that the idolators were twice as many as they were, so that they would trust in Allah and seek His help. The idolators thought that the believers were twice as many as they were, so that they would feel fear, horror, fright and despair. When the two camps stood in lines and met in battle, Allah made each camp look smaller in the eyes of the other camp, so that they would be encouraged to fight each other,لِّيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْراً كَانَ مَفْعُولاً(so that Allah might accomplish a matter already ordained.) 8:42 meaning, so that the truth and falsehood are distinguishable, and thus the word of faith prevails over disbelief and deviation, so that the believers prevail and the disbelievers are humiliated. In a similar statement, Allah said;وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ(And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force) 3:123. In this Ayah 3:13 Allah said,وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَآءُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لَعِبْرَةً لاوْلِى الاٌّبْصَـرِ(And Allah supports with His victory whom He wills. Verily, in this is a lesson for those who understand.) meaning, this should be an example for those who have intelligence and sound comprehension. They should contemplate about Allah's wisdom, decisions and decree, that He gives victory to His believing servants in this life and on the Day the witnesses stand up to testify.
اولین معرکہ حق و باطل ٭٭اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم دنیا میں بھی ذلیل و مغلوب کئے جاؤ گے، ہارو گے، ماتحت بنو گے اور قیامت کے دن بھی ہانک کر جہنم میں جمع کئے جاؤ گے جو بد ترین بچھونا ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب بدر کی جنگ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مظفر و منصور واپس ہوئے تو بنوقینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا: اے یہودیو! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تمہیں بھی ذلت و پستی دیکھنا پڑے اسلام قبول کر لو، تو اس سرکش جماعت نے جواب دیا کہ چند قریشیوں کو جو فنونِ جنگ سے ناآشنا تھے، آپ نے انہیں ہرا لیا اور دماغ میں غرور سما گیا، اگر ہم سے لڑائی ہوئی تو ہم بتا دیں گے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں، آپ کو ابھی تک ہم سے پالا ہی نہیں پڑا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [سیرۃ ابن ھشام:2/427:مرسل ضعیف] اور فرمایا گیا فتح بدر نے ظاہر کر دیا ہے کہ اللہ اپنے سچے اچھے اور پسندیدہ دین کو اور اس دین والوں کو عزت و حرمت عطا فرمانے والا ہے، وہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کی اطاعت گزار امت کا خود مددگار ہے۔ وہ اپنی باتوں کو ظاہر اور غالب کرنے والا ہے۔ دو جماعتیں لڑائی میں گھتم گتھا ہو گئی تھیں، ایک صحابہ کرام کی اور دوسری مشرکین قریش کی، یہ واقعہ جنگ بدر کا ہے، اس دن مشرکین پر اس قدر رعب غالب آیا اور اللہ نے اپنے بندوں کی اس طرح مدد کی گو مسلمان گنتی میں مشرکین سے کہیں کم تھے لیکن مشرکوں کو اپنے سے دُگنے نظر آتے تھے،صفحہ نمبر1025مشرکوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی جاسوسی کیلئے عمیر بن سعد کو بھیجا تھا جس نے آ کر اطلاع دی تھی کہ تین سو ہیں، کچھ کم یا زائد ہوں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ صرف تین سو دَ س اور کچھ تھے لیکن لڑائی کے شروع ہوتے ہی اللہ عزوجل نے اپنے خاص اور چیدہ فرشتے ایک ہزار بھیجے۔ ایک معنی تو یہ ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کافر ہم سے دوچند ہیں، پھر بھی اللہ عزوجل نے انہی کی مدد کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بدری صحابہ تین سو تیرہ تھے اور مشرکین چھ سو سولہ تھے۔ لیکن تواریخ کی کتابوں میں مشرکین کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تک بیان کی گئی ہے، ہو سکتا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قرآن کے الفاظ سے یہ استدلال ہو کہ ابن الحجاج قبلیہ کا جو سیاہ فام غلام پکڑا ہوا آیا تھا اس سے جب حضور نے پوچھا کہ قریش کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا بہت ہیں، آپ نے پھر پوچھا اچھا روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں، اس نے کہا ایک دن نو دوسرے دن دس، آپ نے فرمایا بس تو ان کی گنتی نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔ [سیرۃ ابن ھشام:2/195:مرسل ضعیف] پس مشرکین مسلمانوں سے تین گنے تھے «واللہ اعلم» صفحہ نمبر1026لیکن یہ یاد رہے کہ عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک ہزار تو ہیں لیکن مجھے ضرورت ایسے ہی دوگنا کی ہے اس سے مراد ان کی تین ہزار ہوتی ہے۔ اب کوئی مشکل باقی نہ رہی، لیکن ایک اور سوال ہے وہ یہ کہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا» [8۔ الانفال:44] یعنی جب آمنے سامنے آ گئے تو اللہ نے انہیں تمہاری نگاہوں کے سامنے کم کر کے دکھایا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں زیادہ کر کے دکھایا تاکہ جو کام کرنے کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا وہ ہو جائے۔ پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تعداد سے بھی کم نظر آئے اور مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ بلکہ دُگنے نظر آئے۔ تو دونوں آیتوں میں تطبیق کیا ہو گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول اور تھا اور اس کا وقت اور تھا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر والے دن ہمیں مشرکین کچھ زیادہ نہیں لگے، ہم نے غور سے دیکھا پھر بھی یہی معلوم ہوا کہ ہم سے ان کی گنتی زیادہ نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ مشرکین کی تعداد اس قدر کم معلوم ہوئی کہ میں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر ہوں گے، اس نے کہا نہیں نہیں سو ہوں گے، جب ان میں سے ایک شخص پکڑا گیا تو ہم نے اس سے مشرکین کی گنتی پوچھی، اس نے کہا ایک ہزار ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/236] صفحہ نمبر1027اب جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے تو مسلمانوں کو یہ معلوم ہونے لگا کہ مشرکین ہم سے دوگنے ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں اپنی کمزوری کا یقین ہو جائے اور یہ اللہ پر پورا بھروسہ کر لیں اور تمام تر توجہ اللہ کی جانب پھیر لیں اور اپنے رب عزوجل سے اعانت اور امداد کی دعائیں کرنے لگیں، ٹھیک اسی طرح مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد دوگنی معلوم ہونے لگی تاکہ ان کے دِلوں میں رعب اور خوف بیٹھ جائے اور گھبراہٹ اور پریشانی بڑھ جائے، پھر جب دونوں بھڑ گئے اور لڑائی ہونے لگی تو ہر فریق دوسرے کو اپنی نسبت کم نظر آنے لگا تاکہ ایک دِل کھول کر حوصلہ نکالے اور اللہ تعالیٰ حق و باطل کا صاف فیصلہ کر دے، ایمان و کفر و طغیان پر غالب آ جائے۔ مومنوں کو عزت اور کافروں کو ذلت مل جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ» [3-آل عمران:123] یعنی البتہ اللہ تعالیٰ نے بدر والے دن تمہاری مدد کی حالانکہ تم اس وقت کمزور تھے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا اللہ جسے چاہے اپنی مدد سے طاقتور بنا دے، پھر فرماتا ہے «وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» [3-آل عمران:13] اس میں عبرت و نصیحت ہے اس شخص کیلئے جو آنکھوں والا ہو جس کا دماغ صحیح و سالم ہو، وہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں لگ جائے گا اور سمجھ لے گا کہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کی اس جہان میں بھی مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا بچاؤ کرے گا۔صفحہ نمبر1028
آیت 13 قَدْ کَانَ لَکُمْ اٰیَۃٌ فِیْ فِءَتَیْنِ الْتَقَتَا ط یعنی بدر کی جنگ میں ایک طرف مسلمان تھے اور دوسری طرف مشرکین مکہ تھے۔ اس میں تمہارے لیے نشانی موجود ہے۔ فِءَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَہُمْ مِّثْلَیْہِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ط اس کے کئی معانی کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کو تو کھلم کھلا نظر آ رہا تھا کہ ہمارے مقابل ہم سے دوگنی فوج ہے ‘ جبکہ وہ تگنی تھی۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں کفار پر ایسا رعب طاری کردیا تھا کہ انہیں نظر آ رہا تھا کہ مسلمان ہم سے دگنے ہیں۔وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ یہ عبرت اور سبق آموزی صرف ان کے لیے ہوتی ہے جو آنکھیں رکھتے ہوں ‘ جن کے اندر دیکھنے کی صلاحیت موجود ہو۔ اگلی آیت فطرت انسانی کے اعتبار سے بڑی اہم ہے۔ بعض لوگوں میں خاص طور پر دنیا اور علائق دنیوی کی محبت زیادہ شدید ہوتی ہے۔ یہاں اس کا اصل سبب بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعتا یہ شے فطرت انسانی میں رکھی ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو قیامت تک آباد رکھنا ہے اور اس کی رونقیں بحال رکھنی ہیں۔ چناچہ مرد اور عورت کی ایک دوسرے کے لیے کشش ہوگی تو اولاد پیدا ہوگی اور دنیا کی آبادی میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اس طرح دنیا قائم رہے گی۔ دولت کی کوئی طلب ہوگی تو آدمی محنت و مشقت کرے گا اور دولت کمائے گا۔ اس لیے یہ چیزیں فطرت انسانی میں basic animal instincts کے طور پر رکھ دی گئی ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جبلی تقاضوں کو دبا کر رکھا جائے ‘ اللہ کی محبت اور اللہ کی شریعت کو اس سے بالاتر رکھا جائے۔ یہ مطلوب نہیں ہے کہ ان کو ختم کردیا جائے۔ تعذیب نفس اور نفس کشی self annihilation اسلام میں نہیں ہے۔ یہ تو رہبانیت ہے کہ اپنے نفس کو کچل دو ‘ ختم کر دو۔ جبکہ اسلام تزکیۂ نفس اور self control کا درس دیتا ہے کہ اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ نفس انسانی ایک منہ زور گھوڑا ہے۔ گھوڑا جتنا طاقت ور ہوتا ہے اتنا ہی سوار کے لیے تیز دوڑنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن منہ زور اور طاقتور گھوڑے کو قابو میں رکھنے کی ضرورت بھی ہے۔ ورنہ سوار اگر اس کے رحم و کرم پر آگیا تو وہ جہاں چاہے گا اسے پٹخنی دے دے گا۔
SequenceIn the previous verses, the disbelievers were informed that they will be overcome. Now, cited in this verse is an example of how the prophecy has been fulfilled.CommentaryThis verse refers to the Battle of Badr in which the disbelievers had about 1000 men, 700 camels and 100 horses, while the Muslim mujahidin were just over 300, having a total of 70 camels, 2 horses, 6 armours and 8 swords. The encounter was certainly strange as each combating group saw the opponent being twice its own numbers. The sighting of so many Muslims inspired awe in the hearts of the disbelievers, while Muslims who saw the disbelievers as twice of them turned to Allah more fervently. They had hopes of Allah's help, and ultimate victory, because they had placed their total trust in Allah, were steadfast and sincerely believed in the promise of Allah revealed to them in the following words:إِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّـهِIf there be among you a hundred patient one, they shall over-come two hundred. (8:66)If the actual number of disbelievers which was three times more than their own were to be realized by Muslims, they may have been overawed. This state of sighting the numbers of the other group as twice its own was at a particular time. At another time each of the two combating groups felt the other one as low in numbers, as it would appear later in Surah al-Anfal.To sum up, it can be safely said that making a small group of people with very little to fight against a much stronger group and score a victory, as prophesied in Makkah, is an unusual event full of lessons for the observant and the discerning.
The first major military battle between the Muslims and the Quraysh of Makkah. Despite being vastly outnumbered (313 Muslims vs. ~1,000 Quraysh), the Muslims achieved a decisive victory. The battle is described in detail in the Quran in Surah Al-Anfal. Allah sent angels to aid the believers.
Shortly after Badr, the Banu Qaynuqa tribe violated the Constitution of Madinah by publicly insulting a Muslim woman and killing the Muslim who came to her aid. The Prophet (ﷺ) besieged their fortress for 15 days until they surrendered. Abdullah ibn Ubayy (the hypocrite leader) interceded for them. The Prophet exiled them north to Adhraat in Syria. This was the first expulsion of a Jewish tribe from Madinah.
Ibn Khaldun argued that religion amplifies asabiyyah beyond what tribal or racial solidarity can achieve alone — it directs group energy toward transcendent goals and suppresses internal competition. The early Islamic community's rapid conquest of Persia and Byzantium illustrated this perfectly: a small Arab community, united by prophetic religion with fierce asabiyyah, overcame two superpowers that lacked this unified purpose. Ibn Khaldun's insight — that monotheism creates the most powerful form of social solidarity — aligns precisely with the Quranic account of how believers prevailed against overwhelming odds (3:13; 8:65).
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.