The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Ali 'Imran • Ayah 12

Para 3 Surah 3 : 12
قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

قُل
لِّلَّذِينَ
كَفَرُوا۟
سَتُغْلَبُونَ
وَتُحْشَرُونَ
إِلَىٰ
جَهَنَّمَ
ۚ
وَبِئْسَ
ٱلْمِهَادُ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Threatening the Jews With Defeat and Encouraging Them to Learn a Lesson From the Battle of BadrAllah commanded the Prophet Muhammad ﷺ to proclaim to the disbelievers,سَتُغْلَبُونَ(You will be defeated) in this life,وَتُحْشَرُونَ(And gathered together) on the Day of Resurrection,إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ(to Hell, and worst indeed is that place of rest)Muhammad bin Ishaq bin Yasar recorded that `Asim bin `Umar bin Qatadah said that when the Messenger of Allah ﷺ gained victory in the battle of Badr and went back to Al-Madinah, he gathered the Jews in the marketplace of Bani Qaynuqa`.Therefore, Allah said,قَدْ كَانَ لَكُمْ ءَايَةٌ(There has already been a sign for you) meaning, O Jews, who said what you said! You have an Ayah, meaning proof, that Allah will make His religion prevail, award victory to His Messenger, make His Word apparent and His religion the highest.فِي فِئَتَيْنِ(In the two armies) meaning, two camps,الْتَقَتَا(that met) in combat (in Badr),فِئَةٌ تُقَـتِلُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ(One was fighting in the Cause of Allah) the Muslims,وَأُخْرَى كَافِرَةٌ(And as for the other, in disbelief) meaning, the idolators of Quraysh at Badr. Allah's statement,يَرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ الْعَيْنِ(They saw them with their own eyes twice their number) means, the idolators thought that the Muslims were twice as many as they were, for Allah made this illusion a factor in the victory that Islam had over them.It was said that the meaning of Allah's statement,يَرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَأْىَ الْعَيْنِ(They saw them with their own eyes twice their number) is that the Muslims saw twice as many idolators as they were, yet Allah gave them victory over the disbelievers. `Abdullah bin Mas`ud said, "When we looked at the disbelievers' forces, we found that they were twice as many as we were. When we looked at them again, we thought they did not have one man more than we had. So Allah's statement,وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِى أَعْيُنِكُمْ قَلِيلاً وَيُقَلِّلُكُمْ فِى أَعْيُنِهِمْ(And (remember) when you met, He showed them to you as few in your eyes and He made you appear as few in their eyes.) 8:44".When the two camps saw each other, the Muslims thought that the idolators were twice as many as they were, so that they would trust in Allah and seek His help. The idolators thought that the believers were twice as many as they were, so that they would feel fear, horror, fright and despair. When the two camps stood in lines and met in battle, Allah made each camp look smaller in the eyes of the other camp, so that they would be encouraged to fight each other,لِّيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْراً كَانَ مَفْعُولاً(so that Allah might accomplish a matter already ordained.) 8:42 meaning, so that the truth and falsehood are distinguishable, and thus the word of faith prevails over disbelief and deviation, so that the believers prevail and the disbelievers are humiliated. In a similar statement, Allah said;وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ(And Allah has already made you victorious at Badr, when you were a weak little force) 3:123. In this Ayah 3:13 Allah said,وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَآءُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لَعِبْرَةً لاوْلِى الاٌّبْصَـرِ(And Allah supports with His victory whom He wills. Verily, in this is a lesson for those who understand.) meaning, this should be an example for those who have intelligence and sound comprehension. They should contemplate about Allah's wisdom, decisions and decree, that He gives victory to His believing servants in this life and on the Day the witnesses stand up to testify.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

اولین معرکہ حق و باطل ٭٭اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم دنیا میں بھی ذلیل و مغلوب کئے جاؤ گے، ہارو گے، ماتحت بنو گے اور قیامت کے دن بھی ہانک کر جہنم میں جمع کئے جاؤ گے جو بد ترین بچھونا ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب بدر کی جنگ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مظفر و منصور واپس ہوئے تو بنوقینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا: اے یہودیو! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تمہیں بھی ذلت و پستی دیکھنا پڑے اسلام قبول کر لو، تو اس سرکش جماعت نے جواب دیا کہ چند قریشیوں کو جو فنونِ جنگ سے ناآشنا تھے، آپ نے انہیں ہرا لیا اور دماغ میں غرور سما گیا، اگر ہم سے لڑائی ہوئی تو ہم بتا دیں گے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں، آپ کو ابھی تک ہم سے پالا ہی نہیں پڑا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [سیرۃ ابن ھشام:2/427:مرسل ضعیف] ‏ اور فرمایا گیا فتح بدر نے ظاہر کر دیا ہے کہ اللہ اپنے سچے اچھے اور پسندیدہ دین کو اور اس دین والوں کو عزت و حرمت عطا فرمانے والا ہے، وہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کی اطاعت گزار امت کا خود مددگار ہے۔ وہ اپنی باتوں کو ظاہر اور غالب کرنے والا ہے۔ دو جماعتیں لڑائی میں گھتم گتھا ہو گئی تھیں، ایک صحابہ کرام کی اور دوسری مشرکین قریش کی، یہ واقعہ جنگ بدر کا ہے، اس دن مشرکین پر اس قدر رعب غالب آیا اور اللہ نے اپنے بندوں کی اس طرح مدد کی گو مسلمان گنتی میں مشرکین سے کہیں کم تھے لیکن مشرکوں کو اپنے سے دُگنے نظر آتے تھے،صفحہ نمبر1025مشرکوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی جاسوسی کیلئے عمیر بن سعد کو بھیجا تھا جس نے آ کر اطلاع دی تھی کہ تین سو ہیں، کچھ کم یا زائد ہوں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ صرف تین سو دَ س اور کچھ تھے لیکن لڑائی کے شروع ہوتے ہی اللہ عزوجل نے اپنے خاص اور چیدہ فرشتے ایک ہزار بھیجے۔ ایک معنی تو یہ ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کافر ہم سے دوچند ہیں، پھر بھی اللہ عزوجل نے انہی کی مدد کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بدری صحابہ تین سو تیرہ تھے اور مشرکین چھ سو سولہ تھے۔ لیکن تواریخ کی کتابوں میں مشرکین کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تک بیان کی گئی ہے، ہو سکتا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قرآن کے الفاظ سے یہ استدلال ہو کہ ابن الحجاج قبلیہ کا جو سیاہ فام غلام پکڑا ہوا آیا تھا اس سے جب حضور نے پوچھا کہ قریش کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا بہت ہیں، آپ نے پھر پوچھا اچھا روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں، اس نے کہا ایک دن نو دوسرے دن دس، آپ نے فرمایا بس تو ان کی گنتی نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔ [سیرۃ ابن ھشام:2/195:مرسل ضعیف] ‏ پس مشرکین مسلمانوں سے تین گنے تھے «واللہ اعلم» صفحہ نمبر1026لیکن یہ یاد رہے کہ عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک ہزار تو ہیں لیکن مجھے ضرورت ایسے ہی دوگنا کی ہے اس سے مراد ان کی تین ہزار ہوتی ہے۔ اب کوئی مشکل باقی نہ رہی، لیکن ایک اور سوال ہے وہ یہ کہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا» [8۔ الانفال:44] ‏ یعنی جب آمنے سامنے آ گئے تو اللہ نے انہیں تمہاری نگاہوں کے سامنے کم کر کے دکھایا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں زیادہ کر کے دکھایا تاکہ جو کام کرنے کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا وہ ہو جائے۔ پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تعداد سے بھی کم نظر آئے اور مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ بلکہ دُگنے نظر آئے۔ تو دونوں آیتوں میں تطبیق کیا ہو گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول اور تھا اور اس کا وقت اور تھا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر والے دن ہمیں مشرکین کچھ زیادہ نہیں لگے، ہم نے غور سے دیکھا پھر بھی یہی معلوم ہوا کہ ہم سے ان کی گنتی زیادہ نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ مشرکین کی تعداد اس قدر کم معلوم ہوئی کہ میں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر ہوں گے، اس نے کہا نہیں نہیں سو ہوں گے، جب ان میں سے ایک شخص پکڑا گیا تو ہم نے اس سے مشرکین کی گنتی پوچھی، اس نے کہا ایک ہزار ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/236] ‏صفحہ نمبر1027اب جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے تو مسلمانوں کو یہ معلوم ہونے لگا کہ مشرکین ہم سے دوگنے ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں اپنی کمزوری کا یقین ہو جائے اور یہ اللہ پر پورا بھروسہ کر لیں اور تمام تر توجہ اللہ کی جانب پھیر لیں اور اپنے رب عزوجل سے اعانت اور امداد کی دعائیں کرنے لگیں، ٹھیک اسی طرح مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد دوگنی معلوم ہونے لگی تاکہ ان کے دِلوں میں رعب اور خوف بیٹھ جائے اور گھبراہٹ اور پریشانی بڑھ جائے، پھر جب دونوں بھڑ گئے اور لڑائی ہونے لگی تو ہر فریق دوسرے کو اپنی نسبت کم نظر آنے لگا تاکہ ایک دِل کھول کر حوصلہ نکالے اور اللہ تعالیٰ حق و باطل کا صاف فیصلہ کر دے، ایمان و کفر و طغیان پر غالب آ جائے۔ مومنوں کو عزت اور کافروں کو ذلت مل جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ» [3-آل عمران:123] ‏ یعنی البتہ اللہ تعالیٰ نے بدر والے دن تمہاری مدد کی حالانکہ تم اس وقت کمزور تھے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا اللہ جسے چاہے اپنی مدد سے طاقتور بنا دے، پھر فرماتا ہے «وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» [3-آل عمران:13] ‏ اس میں عبرت و نصیحت ہے اس شخص کیلئے جو آنکھوں والا ہو جس کا دماغ صحیح و سالم ہو، وہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں لگ جائے گا اور سمجھ لے گا کہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کی اس جہان میں بھی مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا بچاؤ کرے گا۔صفحہ نمبر1028

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 11 کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا والَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط تمہاری تو حیثیت ہی کیا ہے ! کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ آل فرعون کا معاملہ یاد کرو ‘ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ فرعون بہت بڑا شہنشاہ اور بڑے لاؤ لشکر والا تھا ‘ لیکن اس کا کیا حال ہوا ؟ اور اس سے پہلے عاد وثمود جیسی زبردست قومیں اسی جزیرہ نمائے عرب میں رہی ہیں۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

CommentarySome readers of verse 12: قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُ‌وا سَتُغْلَبُونَ just cited, above may have some doubt about disbelievers being overcome because this is not the case with all disbelievers of the world. But, this doubt is unfounded as the disbelievers referred to here are the disbelievers and Jews of that particular time - from among whom, the pagans were overcome when killed or taken prisoners, and the Jews were overcome through killing or imprisonment as well as through Jizya and extradition. Therefore, this 'overcoming' of disbelievers mentioned in the verse simply does not refer to disbelievers universally.

Seerat Event: Expulsion of Banu Qaynuqa — First Jewish Tribe Exiled 2 AH AH / 624 CE (Shawwal)

Shortly after Badr, the Banu Qaynuqa tribe violated the Constitution of Madinah by publicly insulting a Muslim woman and killing the Muslim who came to her aid. The Prophet (ﷺ) besieged their fortress for 15 days until they surrendered. Abdullah ibn Ubayy (the hypocrite leader) interceded for them. The Prophet exiled them north to Adhraat in Syria. This was the first expulsion of a Jewish tribe from Madinah.

📍 Location: Madinah, Arabian Peninsula
🏷️ Category: battle
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: Banu Qaynuqa Affair
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.