Surah Al-Hajj • Ayah 75
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Allah chooses Messengers from the Angels and Messengers from MankindAllah tells us that He chooses Messengers from His angels as He wills by His law and decree, and He chooses Messengers from mankind to convey His Message.إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ(Verily, Allah is All-Hearer, All-Seer.) means, He hears all that His servants say, and He sees them and knows who among them is deserving of that, as He says:اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ(Allah knows best with whom to place His Message) 6:124يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الاٍّمُورُ (He knows what is before them, and what is behind them. And to Allah return all matters.) He knows what will happen to His Messengers and the Message He sent them with, for none of their affairs are hidden from Him. He says:عَـلِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً ("The All-Knower of the Ghayb (Unseen), and He reveals to none His Ghayb.")72:26 until His saying;وَأَحْصَى كُلَّ شَىْءٍ عَدَداً(and He keeps count of all things.) 72:28 So He, may He be glorified, is guarding them, and is Witness to what is said about them. He is protecting them and supporting them.يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ(O Messenger! Proclaim which has been sent down to you from your Lord. And if you do not, then you have not conveyed His Message. Allah will protect you from mankind) 5:67.
منصب نبوت کا حقدار کون؟ ٭٭اپنی مقرر کردہ تقدیر کے جاری کرنے اور اپنی مقرر کردہ شریعت کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ جس فرشتے کو چاہتا ہے، مقرر کر لیتا ہے اسی طرح لوگوں میں سے بھی پیغمبری کی خلعت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ بندوں کے سب اقوال سنتا ہے ایک ایک بندہ اور اس کے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ منصب نبوت کا مستحق کون ہے؟ جیسے فرمایا آیت «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» [6-الأنعام:124] ” رب ہی کو علم ہے کہ منصب رسالت کا صحیح طور اہل کون ہے؟ رسولوں کے آگے پیچھے کا اللہ کو علم ہے، کیا اس تک پہنچا، کیا اس نے پہنچایا، سب اس پر ظاہر و باہر ہے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا» [72-الجن:28-26] ، یعنی ” وہ غیب کا جاننے والا ہے اپنے غیب کا کسی پر اظہار نہیں کرتا۔ ہاں جس پیغمبر کو وہ پسند فرمائے اس کے آگے پیچھے پہرے مقرر کر دیتا ہے، تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچادئے اور اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر چیز کی گنتی تک اس کے پاس شمار ہو چکی ہے “۔ پس اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے رسولوں کا نگہبان ہے جو انہیں کہا سنا جاتا ہے اس پر خود گواہ ہے خود ہی ان کا حافظ ہے اور ان کا مددگار بھی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ» [5-المائدة:67] ، ” اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تیرے پاس تیرے رب کے طرف سے اترا ہے، پہنچا دے اگر ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہ ہو گا تیرا بچاؤ اللہ کے ذمے ہے “، الخ۔صفحہ نمبر5671
اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ ”یہاں رسالت کے دونوں واسطوں کا ذکر کردیا گیا ہے جس میں ایک ”رسول ملک“ ہے اور دوسر ا ”رسول بشر“ ہے۔ چناچہ فرشتوں میں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو چنا گیا اور انسانوں میں سے حضرت محمد ﷺ کو۔ اور یوں رسول ملک کے ذریعے رسول بشر تک پیغام پہنچایا گیا تاکہ وہ اپنے ابنائے نوع تک اسے پہنچا دیں۔
مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ (They did not recognize Allah in His true esteem - 22:74). It means that these people are so foolish and ungrateful that they did not recognize the power of Allah Ta’ ala and place their helpless idols at the same level with Him.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.