Surah Al-Anbya • Ayah 93
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Mankind is One Ummahإِنَّ هَـذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً(Truly, this, your Ummah is one,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "Your religion is one religion." Al-Hasan Al-Basri said: "In this Ayah, Allah explains to them what they should avoid and what they should do." Then He said:إِنَّ هَـذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً(Truly, this, your Ummah is one religion,) "Meaning, your path is one path. Certainly this is your Shari`ah (Divine Law) which I have clearly explained you." So Allah says:وَأَنَاْ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ(and I am your Lord, therefore worship Me.) This is like the Ayah:يأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ الطَّيِّبَـتِ وَاعْمَلُواْ صَـلِحاً(O (you) Messengers! Eat of the Tayyibat (good things) and do righteous deeds.) Until His saying,وَأَنَاْ رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ(And I am your Lord, so have Taqwa of Me.) 23:51-52 The Messenger of Allah ﷺ said:«نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِد»(We Prophets are brothers from different mothers and our religion is one.) What is meant here is that they all worshipped Allah Alone with no partner or associate, although the Laws of each Messenger may have differed, as Allah says:لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَـجاً(To each among you, We have prescribed a Law and a clear way) 5:48وَتَقَطَّعُواْ أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ(But they have broken up and differed in their religion among themselves.) meaning, the nations were divided over their Messengers; some of them believed in them and some rejected them. Allah says:كُلٌّ إِلَيْنَا رَجِعُونَ((And) they all shall return to Us.) meaning, `on the Day of Resurrection, when We will requite each person according to his deeds. If they are good, then he will be rewarded and if they are evil then he will be punished.' Allah says:فَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّـلِحَـتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ(So whoever does righteous good deeds while he is a believer,) meaning, his heart believes and his deeds are righteous.فَلاَ كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ(his efforts will not be rejected. ) This is like the Ayah:إِنَّا لاَ نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلاً(certainly We shall not make the reward of anyone who does his deeds in the most perfect manner to be lost.) 18:30 which means, his efforts will not be wasted; they will be appreciated and not even a speck of dust's weight of injustice will be done. Allah says:وَإِنَّا لَهُ كَـتِبُونَ(Verily, We record it for him.) means, all his deeds are recorded and nothing of them at all is lost.
تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭فرمان ہے کہ ” تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں “۔ «ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [23-المؤمنون:52-51] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (کی طرح) ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443] جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» [5-المائدة:48] ” ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے “۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» [18-الكهف:30] ” نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں “۔صفحہ نمبر5513
آیت 93 وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ ط ”بقول اقبالؔ : اُڑائے کچھ ورق لالے نے ‘ کچھ نرگس نے ‘ کچھُ گل نے چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری ! یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ فَوَرَبِّکَ لَنَسْءَلَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”یہ اسی طرح کی تنبیہہ ہے جس طرح ہم نے ان تفرقہ بازوں کی طرف بھیجی تھی۔ جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ تو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سب سے پوچھ کر رہیں گے“۔ اس کیفیت کی عملی تصویر آج امت مسلمہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ آج ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر جماعت ‘ گروہ یا مسلک کے پیروکاروں نے قرآن کا کوئی ایک موضوع اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بس اسی کی اہمیت ہے اور وہی کل دین ہے۔ مثلاً ایک گروہ قرآن میں سے ُ چن چن کر صرف ان آیات کو اپنی تحریر و تقریرکا موضوع بناتا ہے جن میں حضور ﷺ کی رفعت شان اور محبت کا تذکرہ ہے۔ گویا انہوں نے قرآن کا صرف وہ حصہ اپنے لیے الاٹ کرا لیا ہے۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ الکہف : 110 اور اس سے ملتے جلتے مضامین کی آیات پر ڈیرہ ڈال کر حضور ﷺ کی بشریت کو نمایاں کرنے اور مشرکانہ اوہام کی نفی کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اگر کوئی گروہ اولیاء اللہ اور صوفیاء سے عقیدت کا دعوے دار ہے تو ان کی ہر گفتگو اور تقریر کا محور اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یونس ہی ہوتا ہے۔ الغرض ہر گروہ کے ہاں کتاب اللہ کی چند آیات پر زور ہے اور باقی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ چناچہ آج کے اس دور میں قرآن کو ایک وحدت کی حیثیت سے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے ‘ جس کے لیے ہر صاحب علم کو استطاعت بھر کوشش کرنی چاہیے۔
CommentarySo far the Surah deals with the stories of the prophets and several basic as well as minor principles relevant to those stories. The basic beliefs such as Oneness of God, prophethood and the day of Resurrection are common to all prophets and are the foundation of their invitation to the people to follow the True Faith.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.