Surah Al-Anbya • Ayah 92
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Mankind is One Ummahإِنَّ هَـذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً(Truly, this, your Ummah is one,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "Your religion is one religion." Al-Hasan Al-Basri said: "In this Ayah, Allah explains to them what they should avoid and what they should do." Then He said:إِنَّ هَـذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً(Truly, this, your Ummah is one religion,) "Meaning, your path is one path. Certainly this is your Shari`ah (Divine Law) which I have clearly explained you." So Allah says:وَأَنَاْ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ(and I am your Lord, therefore worship Me.) This is like the Ayah:يأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ الطَّيِّبَـتِ وَاعْمَلُواْ صَـلِحاً(O (you) Messengers! Eat of the Tayyibat (good things) and do righteous deeds.) Until His saying,وَأَنَاْ رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ(And I am your Lord, so have Taqwa of Me.) 23:51-52 The Messenger of Allah ﷺ said:«نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِد»(We Prophets are brothers from different mothers and our religion is one.) What is meant here is that they all worshipped Allah Alone with no partner or associate, although the Laws of each Messenger may have differed, as Allah says:لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَـجاً(To each among you, We have prescribed a Law and a clear way) 5:48وَتَقَطَّعُواْ أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ(But they have broken up and differed in their religion among themselves.) meaning, the nations were divided over their Messengers; some of them believed in them and some rejected them. Allah says:كُلٌّ إِلَيْنَا رَجِعُونَ((And) they all shall return to Us.) meaning, `on the Day of Resurrection, when We will requite each person according to his deeds. If they are good, then he will be rewarded and if they are evil then he will be punished.' Allah says:فَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّـلِحَـتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ(So whoever does righteous good deeds while he is a believer,) meaning, his heart believes and his deeds are righteous.فَلاَ كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ(his efforts will not be rejected. ) This is like the Ayah:إِنَّا لاَ نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلاً(certainly We shall not make the reward of anyone who does his deeds in the most perfect manner to be lost.) 18:30 which means, his efforts will not be wasted; they will be appreciated and not even a speck of dust's weight of injustice will be done. Allah says:وَإِنَّا لَهُ كَـتِبُونَ(Verily, We record it for him.) means, all his deeds are recorded and nothing of them at all is lost.
تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭فرمان ہے کہ ” تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں “۔ «ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [23-المؤمنون:52-51] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (کی طرح) ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443] جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» [5-المائدة:48] ” ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے “۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» [18-الكهف:30] ” نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں “۔صفحہ نمبر5513
آیت 92 اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃًز ”اُمت ابراہیم ‘ علیہ السلام امت اسماعیل ‘ علیہ السلام امت موسیٰ علیہ السلام ‘ امت عیسیٰ علیہ السلام ٰ ‘ امت محمد ﷺ اور دوسرے تمام انبیاء کی امتیں بنیادی طور پر ایک ہی دین کی پیروکار تھیں اور یوں تمام انبیاء اور ان کے پیروکار گویا ایک ہی امت کے افراد تھے۔ اس مضمون کو سورة البقرۃ ‘ آیت 213 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف یعنی شروع میں تمام انسان ایک ہی امت تھے اور ایک ہی دین کے ماننے والے تھے۔ پھر لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفادات کے مطابق صراط مستقیم میں سے پگڈنڈیاں نکال لیں ‘ مختلف گروہوں نے نئے نئے راستے بنا لیے اور ان غلط راستوں پر وہ اتنی دور چلے گئے کہ اصل دین مسخ ہو کر رہ گیا اور اب ان مختلف گروہوں کے نظریات کی یہ مغائرت اس حد تک بڑھ چکی ہے ع ”کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی !“یعنی آج بہت سے مذاہب کی اصلی شکل کو پہچاننا بھی ممکن نہیں رہا۔ ان کے بگڑے ہوئے عقائد کو دیکھ کریقین نہیں آتا کہ کبھی ان کا تعلق بھی دین حق سے تھا۔ بہر حال حقیقت یہی ہے کہ تمام انبیا ورسل علیہ السلام کا تعلق ایک ہی امت سے تھا۔ وہ سب ایک ہی اللہ کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے ‘ البتہ مختلف انبیاء کی شریعتوں کے تفصیلی احکامات میں باہم فرق پایا جاتا رہا ہے۔ یہ مضمون مزید وضاحت کے تحت سورة الشوریٰ میں آئے گا۔
CommentarySo far the Surah deals with the stories of the prophets and several basic as well as minor principles relevant to those stories. The basic beliefs such as Oneness of God, prophethood and the day of Resurrection are common to all prophets and are the foundation of their invitation to the people to follow the True Faith.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.