The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Isra • Ayah 56

Para 15 Surah 17 : 56
قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

قُلِ
ٱدْعُوا۟
ٱلَّذِينَ
زَعَمْتُم
مِّن
دُونِهِۦ
فَلَا
يَمْلِكُونَ
كَشْفَ
ٱلضُّرِّ
عَنكُمْ
وَلَا
تَحْوِيلًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The gods of the Idolators can neither benefit nor harm; rather they themselves seek to draw close to AllahAllah says:قُلْ(Say) O Muhammad to these idolators who worship things other than Allah,ادْعُواْ الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ(Call upon those - besides Him whom you pretend.) such as idols and rivals of Allah. Even if you turn to them,فَلاَ يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ(They have neither the power to remove the adversity from you) they have no such power at all,وَلاَ تَحْوِيلاً(nor even to shift (it from you to another person.)) to lift the distress from you and give it to someone else. The meaning is that the only one Who is able to do that is Allah Alone, with no partner or associate, Who is the One Who creates and issues commands.قُلِ ادْعُواْ الَّذِينَ زَعَمْتُم(Say: "Call upon those whom you pretend) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "The people of Shirk used to say, `we worship the angels and the Messiah and `Uzayr,' while these (the angels and the Messiah and `Uzayr) themselves call upon Allah."أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ(Those whom they call upon, desire) Al-Bukhari recorded from Sulayman bin Mahran Al-A`mash, from Ibrahim, from Abu Ma`mar, from `Abdullah:أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ(Those whom they call upon, desire a means of access to their Lord,) "Some of the Jinn used to be worshipped, then they became Muslims." According to another report: "Some humans used to worship some of the Jinn, then those Jinn became Muslim, but those humans adhered to their religion (of worshipping the Jinn)."وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَـفُونَ عَذَابَهُ(they hope for His mercy and fear His torment.) Worship cannot be complete or perfect unless it is accompanied by both fear and hope. Fear stops one from doing things that are forbidden, and hope makes one do more good deeds.إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا(Verily, the torment of your Lord is (something) to be afraid of!) meaning, one should beware of it and be afraid lest it happen. We seek refuge with Allah from that.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

وسیلہ یا قرب الہٰی ٭٭اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے کہیئے کہ تم انہیں خوب پکار کر دیکھ لو کہ آیا وہ تمہارے کچھ کام آ سکتے ہیں؟ نہ ان کے بس کی یہ بات ہے کہ مشکل کشائی کریں نہ یہ بات کہ اسے کسی اور پر ٹال دیں، وہ محض بے بس ہیں، قادر اور طاقت والا صرف اللہ واحد ہی ہے۔ مخلوق کا خالق اور سب کا حکمران وہی ہے۔ یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ [صحیح بخاری:4714] ‏ اس لیے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود اللہ کی طرف جھک گئے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جن فرشتوں کی ایک قسم سے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام، مریم علیہا السلام، عزیر علیہ السلام، سورج چاند، فرشتے سب قرب الٰہی کی تلاش میں ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جن جنوں کو یہ پوجتے تھے آیت میں وہی مراد ہیں کیونکہ مسیح علیہ السلام وغیرہ کا زمانہ تو گزر چکا تھا اور فرشتے پہلے ہی سے عابد الٰہی تھے تو مراد یہاں بھی جنات ہیں۔صفحہ نمبر4725وسیلہ کے معنی قربت و نزدیکی کے ہیں جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ سب بزرگ اسی دھن میں ہیں کہ کون اللہ سے زیادہ نزدیکی حاصل کر لے؟ وہ اللہ کی رحمت کے خواہاں اور اس کے عذاب سے ترساں ہیں۔ حقیقت میں بغیر ان دونوں باتوں کے عبادت نا مکمل ہے۔ خوف گناہوں سے روکتا ہے اور امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ درحقیقت اس کے عذاب ڈرنے کے لائق ہیں۔ اللہ ہمیں بچائے۔صفحہ نمبر4726

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ یہاں اس فقرے کے سیاق وسباق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة بنی اسرائیل مکی دور کے آخری برسوں میں نازل ہوئی اور اس کا آغاز بھی بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہوا۔ اس سورة کے نزول سے پہلے نبی آخرالزماں کی بعثت اور قرآن کے بارے میں تمام خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ایک ایک بات اور ایک ایک خبر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ پھر عنقریب حضور خود بھی مدینہ تشریف لانے والے تھے۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ عقائد و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہونا تھا تو انبیاء کرام کے فضائل کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ناگزیر تھا کہ اگر محمد نبی ہیں تو آپ اور موسیٰ میں سے افضل کون ہیں ؟ یا یہ مسئلہ کہ محمد افضل ہیں یا عیسیٰ ؟ چناچہ اس حوالے سے یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات بیان فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں موجود اپنی تمام مخلوق کے احوال و کیفیات سے خوب واقف ہے اور اس نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 253 میں یہی بات یوں بیان فرمائی گئی ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ”یہ رسول ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“۔ ایسا نہ ہو کہ اس بحث میں پڑ کر آپ لوگ اپنے نبی کی فضیلت اس طرح بیان کریں کہ مخالفین کے منفی جذبات کو ہوا ملے اور وہ تعصب سے مغلوب ہو کر آپ کی بات ہی سننے سے انکار کردیں۔یہ بہت نازک مسئلہ ہے اور اس کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ سب سے افضل ہیں مگر موقع و محل دیکھے بغیر اپنے اس عقیدے کا اس طرح سے چرچا کرنا درست نہیں کہ اس سے دوسرے مشتعل ہوں اور ان کے مخالفانہ جذبات و خیالات کو انگیخت ملے۔ اس ضمن میں حضور کی واضح حدیث ہے کہ لَا تُفَضِّلُوْا بَیْنَ اَنْبِیَاء اللّٰہِ ”اللہ کے نبیوں کے مابین درجہ بندی نہ کیا کرو“۔ آپ نے مزید فرمایا : لاَ یَنْبَغِیْْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی ”کسی شخص کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں محمد یونس بن متی ٰسے افضل ہوں“۔ آپ نے یہاں حضرت یونس کا ذکر شاید اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس واحد نبی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ گرفت ہوئی ہے۔ بہر حال آپ نے واضح طور پر اس سے منع فرمایا ہے کہ دوسرے انبیاء پر آپ کی فضیلت کا پرچار کیا جائے۔ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًااسی سیاق وسباق کی مناسبت سے یہاں بنی اسرائیل کے ایک نبی کا تذکرہ فرما دیا اور آپ کی فضیلت بھی بیان فرما دی کہ حضرت داؤد کو ہم نے زبور جیسی جلیل القدر کتاب عطا فرمائی تھی۔ یہاں پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ موقع و محل کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و رسل کے فضائل اور اعلیٰ مراتب کے ذکر سے ان کی عزت افزائی کرتا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

That Zabur (the Psalms) has been mentioned particularly in the last sentence of verse 55: وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورً‌ا ، (And We gave Dawud the Zabur) has been done, perhaps, because Zabur reports that the Holy Prophet ﷺ will be a ruler along with being a messenger and prophet. This is as it appears in the Qur'an: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ‌ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ‌ أَنَّ الْأَرْ‌ضَ يَرِ‌ثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (And We have already written in the Zabur, after the [ previous ] mention, that the land is inherited by My righteous servants - al-Anbiya', 21:105).At this stage, Imam al-Baghawi says in his Tafsir that Zabur is a book of Allah revealed to Sayyidna Dawud (علیہ السلام) . It has one hundred and fifty surahs or chapters and all surahs are restricted to praises of Allah and prayers to Him. The areas of lawful and unlawful, obligations and limits have not been taken up there.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.