Surah Al-Isra • Ayah 55
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِكُمْ(Your Lord knows you best;) O mankind, meaning, He knows best who among you deserves to be guided and who does not deserve to be guided.إِن يَشَأْ يَرْحَمْكُمْ(if He wills, He will have mercy on you,) by helping you to obey Him and turn to Him.أَوْ إِن يَشَأْ يُعَذِّبْكُمْ وَمَآ أَرْسَلْنَـكَ(or if He wills, He will punish you. And We have not sent you) - O Muhammad -عَلَيْهِمْ وَكِيلاً(as a guardian over them.) meaning, `We have sent you as a warner, so whoever obeys you, will enter Paradise and whoever disobeys you, will enter Hell.'وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِمَنْ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ(And your Lord knows best all who are in the heavens and the earth.) meaning, their status or level of obedience or disobedience.The Preference of some Prophets above Othersوَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ(And indeed, We have preferred some of the Prophets above others.) As Allah says:تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُمْ مَّن كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَـتٍ(Those Messengers! We preferred some of them to others; to some of them Allah spoke (directly); others He raised to degrees (of honor.)) 2:253 This does not contradict the report in the Two Sahihs which says that the Messenger of Allah ﷺ said:«لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاء»(Don't give superiority to any Prophet among (Allah's) Prophets.) What is meant in this Hadith is giving a superiority based on whims and fanaticism or sectarian feelings, not on the basis of evidence. If there is solid evidence, we have to follow it. There is no dispute that the Messengers are better than the rest of the Prophets, and that the mighty Messengers of Great Resolve are the best of all. They are the five mentioned in two Ayat of the Qur'an, in Surat Al-Ahzab:وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ(And (remember) when We took from the Prophets their covenant, and from you and from Nuh, Ibrahim, Musa and `Isa son of Maryam.) 33:7 and in Surat Ash-Shura:شَرَعَ لَكُم مِّنَ الِدِينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحاً وَالَّذِى أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُواْ الدِّينَ وَلاَ تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ(He has ordained for you the same religion which He ordained for Nuh, and that which We have revealed to you, and that which We ordained for Ibrahim, Musa and `Isa saying you should establish religion and make no divisions in it.) 42:13 There is no dispute that Muhammad is the best of them, then Ibrahim, then Musa, then `Isa (peace be upon them all), according to the best-known view. We have discussed the evidence for this in detail elsewhere, and Allah is the source of help. Allah's saying,وَءَاتَيْنَا دَاوُودَ زَبُوراً(and to Dawud We gave the Zabur.) is an indication of his virtue and honor. Al-Bukhari recorded from Abu Hurayrah that the Prophet said:«خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقُرْآنُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَوَابِّهِ فَتُسْرَجُ، فَكَانَ يَقْرَؤُهُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغ»(The Qur'an (i.e. revea- led Scripture of Zabur) was made easy for Dawud, so he would call for his mounts to be saddled, and he would finish reciting it (i.e., the Zabur) be- fore the job was done.)
افضل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام ٭٭تمہارا رب تم سے بخوبی واقف ہے وہ ہدایت کے مستحق لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔ وہ جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے، اپنی اطاعت کی توفیق دیتا ہے اور اپنی جانب جھکا لیتا ہے۔ اسی طرح جسے چاہے بداعمالی پر پکڑ لیتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ ہم نے تجھے ان کا ذمہ دار نہیں بنایا تیرا کام ہوشیار کر دینا ہے تیری ماننے والے جنتی ہوں گے اور نہ ماننے والے دوزخی بنیں گے۔ زمین و آسمان کے تمام انسان جنات فرشتوں کا اسے علم ہے، ہر ایک کے مراتب کا اسے علم ہے، «تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّـهُ ۖ» [2-البقرة:253] ” ایک کو ایک پر فضیلت ہے، نبیوں میں بھی درجے ہیں، کوئی کلیم اللہ ہے، کوئی بلند درجہ ہے۔ “ ایک حدیث میں ہے کہ نبیوں میں فضیلتیں قائم نہ کیا کرو۔ [صحیح بخاری:3414] اس سے مطلب صرف تعصب اور نفس پرستی سے اپنے طور پر فضیلت قائم کرنا ہے نہ یہ کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ فضیلت سے بھی انکار۔ جو فضیلت جس نبی کی از روئے دلیل ثابت ہو جائے گی اس کا ماننا واجب ہے۔صفحہ نمبر4722مانی ہوئی بات ہے کہ تمام انبیاء سے رسول افضل ہیں اور رسولوں میں پانچ اولو العزم رسول سب سے افضل ہیں جن کا نام سورۃ الاحزاب کی آیت میں ہے «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ» [33-الأحزاب:7] ” یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام۔ “ سورۃ شوریٰ کی آیت «شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۭ كَبُرَ عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ ۭ اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ» [42-الشورى:13] میں بھی ان پانچوں کے نام موجود ہیں۔ جس طرح یہ سب چیزیں ساری امت مانتی ہے، اسی طرح بغیر اختلاف کے یہ بھی ثابت ہے کہ ان میں بھی سب سے افضل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر ابراہیم علیہ السلام، پھر موسیٰ علیہ السلام جیسا کہ مشہور ہے، ہم نے اس کے دلائل دوسری جگہ تفصیل سے بیان کئے ہیں «واللہ الموفق» ۔ پھر فرماتا ہے ہم نے داؤد پیغمبر علیہ السلام کو زبور دی۔ یہ بھی ان کی فضیلت اور شرف کی دلیل ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام پر قرآن اتنا آسان کر دیا گیا تھا کہ جانور پر زین کسی جائے اتنی سی دیر میں آپ قرآن پڑھ لیا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:3417] صفحہ نمبر4723
وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ یہاں اس فقرے کے سیاق وسباق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة بنی اسرائیل مکی دور کے آخری برسوں میں نازل ہوئی اور اس کا آغاز بھی بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہوا۔ اس سورة کے نزول سے پہلے نبی آخرالزماں کی بعثت اور قرآن کے بارے میں تمام خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ایک ایک بات اور ایک ایک خبر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ پھر عنقریب حضور خود بھی مدینہ تشریف لانے والے تھے۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ عقائد و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہونا تھا تو انبیاء کرام کے فضائل کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ناگزیر تھا کہ اگر محمد نبی ہیں تو آپ اور موسیٰ میں سے افضل کون ہیں ؟ یا یہ مسئلہ کہ محمد افضل ہیں یا عیسیٰ ؟ چناچہ اس حوالے سے یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات بیان فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں موجود اپنی تمام مخلوق کے احوال و کیفیات سے خوب واقف ہے اور اس نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 253 میں یہی بات یوں بیان فرمائی گئی ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ”یہ رسول ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“۔ ایسا نہ ہو کہ اس بحث میں پڑ کر آپ لوگ اپنے نبی کی فضیلت اس طرح بیان کریں کہ مخالفین کے منفی جذبات کو ہوا ملے اور وہ تعصب سے مغلوب ہو کر آپ کی بات ہی سننے سے انکار کردیں۔یہ بہت نازک مسئلہ ہے اور اس کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ سب سے افضل ہیں مگر موقع و محل دیکھے بغیر اپنے اس عقیدے کا اس طرح سے چرچا کرنا درست نہیں کہ اس سے دوسرے مشتعل ہوں اور ان کے مخالفانہ جذبات و خیالات کو انگیخت ملے۔ اس ضمن میں حضور کی واضح حدیث ہے کہ لَا تُفَضِّلُوْا بَیْنَ اَنْبِیَاء اللّٰہِ ”اللہ کے نبیوں کے مابین درجہ بندی نہ کیا کرو“۔ آپ نے مزید فرمایا : لاَ یَنْبَغِیْْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی ”کسی شخص کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں محمد یونس بن متی ٰسے افضل ہوں“۔ آپ نے یہاں حضرت یونس کا ذکر شاید اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس واحد نبی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ گرفت ہوئی ہے۔ بہر حال آپ نے واضح طور پر اس سے منع فرمایا ہے کہ دوسرے انبیاء پر آپ کی فضیلت کا پرچار کیا جائے۔ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًااسی سیاق وسباق کی مناسبت سے یہاں بنی اسرائیل کے ایک نبی کا تذکرہ فرما دیا اور آپ کی فضیلت بھی بیان فرما دی کہ حضرت داؤد کو ہم نے زبور جیسی جلیل القدر کتاب عطا فرمائی تھی۔ یہاں پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ موقع و محل کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و رسل کے فضائل اور اعلیٰ مراتب کے ذکر سے ان کی عزت افزائی کرتا ہے۔
That Zabur (the Psalms) has been mentioned particularly in the last sentence of verse 55: وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ، (And We gave Dawud the Zabur) has been done, perhaps, because Zabur reports that the Holy Prophet ﷺ will be a ruler along with being a messenger and prophet. This is as it appears in the Qur'an: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (And We have already written in the Zabur, after the [ previous ] mention, that the land is inherited by My righteous servants - al-Anbiya', 21:105).At this stage, Imam al-Baghawi says in his Tafsir that Zabur is a book of Allah revealed to Sayyidna Dawud (علیہ السلام) . It has one hundred and fifty surahs or chapters and all surahs are restricted to praises of Allah and prayers to Him. The areas of lawful and unlawful, obligations and limits have not been taken up there.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.