Surah Al-Bayyinah • Ayah 8
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Mentioning the Worse and Best of Creation and Their RecompenseAllah informs of what will happen to the wicked disbelievers among the People of the Scripture and the idolators who oppose the Allah's divinely revealed Books and the Prophets whom He sent. He says that they will be in the fire of Hell on the Day of Judgement and they will abide therein forever. This means that they will remain in it and they will have no way out of it and they will not cease being in it.أَوْلَـئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ(They are the worst of creatures.) meaning, they are the worst creation that Allah has fashioned and created. Then Allah informs about the situation of the righteous people who believed in their hearts and performed righteous deeds with their bodies. He says that they are the best of creation. Abu Hurayrah and a group of the scholars have used this Ayah as a proof that the believers have a status among the creatures that is better than the angels. This is because Allah says,أُوْلَـئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ(They are the best of creatures.) Then Allah says,جَزَآؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ(Their reward with their Lord) meaning, on the Day of Judgement.جَنَّـتُ عَدْنٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَآ أَبَداً(is Eternal Gardens underneath which rivers flow. They will abide therein forever,) meaning, having no end, no break and no conclusion.رِّضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ(Allah will be pleased with them, and they well-pleased with Him.) The condition of Him being pleased with them is more illustri- ous than all of the everlasting delights that they will be given.وَرَضُواْ عَنْهُ(and they well-pleased with Him.) Due to the comprehensive favors He has given them. Then Allah says,ذَلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُ(That is for him who fears his Lord.) meaning, this is the reward that will be attained by those who revere Allah and fear Him as He deserves to be feared. This is the person who worships Allah as if he sees Him, and he knows that even though he does not see Him, indeed Allah sees him. Imam Ahmad recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,«أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّةِ؟»(Shall I not inform you of the best of creation) They said, "Of course, O Messenger of Allah!" He said,«رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، كُلَّمَا كَانَتْ هَيْعَةٌ اسْتَوَى عَلَيْهِ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّة»(A man who takes the reins of his horse in the way of Allah, and whenever there is a fearful cry from the enemy, he climbs upon it. Shall I not inform you of the best of creation) They said, "Of course, O Messenger of Allah ﷺ!" He said,«رَجُلٌ فِي ثُلَّةٍ مِنْ غَنَمِهِ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ الْبَرِيَّةِ؟»(A man who has a flock of sheep and he establishes the prayer and gives the obligatory charity. Shall I not inform you of the worst of creation) They said, "Of course." He said,«الَّذِي يُسْأَلُ بِاللهِ وَلَا يُعْطِي بِه»(The person who is asked by Allah and he does not give by Him.) This is the end of the Tafsir of Surat Lam Yakun (Al-Bayyinah), and all praise and thanks are due to Allah.
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے؟ ٭٭اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے ” وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے، نہ وہاں سے نکلیں گے، نہ رہا ہوں گے، یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں “۔ پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے ” جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں “۔ اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔10781پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ ۔ [مسند احمد:169/2،حسن] سورۃ «لم یکن» کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔10782
آیت 8{ جَزَآؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط } ”ان کا بدلہ ہوگا ان کے رب کے پاس دائمی قیام کے باغات کی صورت میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ ان میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔“ یہاں پر ضمنی طور پر یہ علمی نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ قرآن مجید میں دو مقامات ایسے ہیں جہاں اہل جنت اور اہل جہنم کے فوری تقابل simultaneous contrast میں اہل جنت کے لیے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا } جبکہ اہل جہنم کے لیے صرف { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا } کے الفاظ آئے ہیں۔ ان میں ایک مقام تو یہی ہے۔ یعنی اس سورت کی زیر مطالعہ آیت میں اہل جنت کے لیے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَـآ اَبَدًا } کے الفاظ آئے ہیں ‘ جبکہ اس سے پہلے آیت 6 میں اہل جہنم کا ذکر کرتے ہوئے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا } کے الفاظ تک اکتفاء فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورة التغابن کی آیت 9 اور آیت 10 میں بھی اہل جنت اور اہل جہنم کے تقابل کے حوالے سے یہی فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ ان دونوں مقامات میں مذکورہ فرق کی بنیاد پر امت مسلمہ کی دو بہت بڑی علمی شخصیات نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں تو ابدی ہیں ‘ لیکن جہنم ابدی نہیں ہے اور یہ کہ کبھی ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اہل جہنم میں سے خیر کے حامل آخری عناصر کو نکال کر باقی لوگوں کو مدت مدید تک مبتلائے عذاب رکھنے کے بعد بالآخر اس میں جلا کر معدوم کردیا جائے گا اور اس کے بعد جہنم کو بھی ختم کردیا جائے گا۔ اس موقف کی حامل دو شخصیات میں ایک تو شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رح ہیں جن کا شمار چوٹی کے صوفیاء میں ہوتا ہے اور دوسری شخصیت امام ابن تیمیہ رح کی ہے جو سلفی حضرات کے نزدیک اسلامی دنیا کے سب سے بڑے امام اور عالم ہیں۔ امام ابن تیمیہ رح کا اس نکتے پر محی الدین ابن عربی رح سے متفق ہوجانا یقینا ایک اہم بات اور ”متفق گردید رائے بوعلی بارائے من“ والا معاملہ ہے ‘ کیونکہ مجموعی طور پر وہ محی الدین ابن عربی رح کے خیالات ونظریات سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ جہنم کے ابدی نہ ہونے سے متعلق میں نے یہاں مذکورہ دو شخصیات کی آراء کا ذکر محض ایک علمی نکتے کے طور پر کیا ہے ‘ عام اہل سنت کا عقیدہ بہرحال یہ نہیں ہے۔ اہل سنت علماء کے نزدیک جہنم بھی جنت کی طرح ابدی ہی ہے۔ { رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط } ”اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔“ یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ وہ اللہ سے خوش ہوجائیں گے۔ { ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ۔ } ”یہ صلہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔“ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین ‘ ثم آمین !
Verse [ 8 - the concluding phrase ] ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ (…That is for him who has awe of his Lord.) The word 'fear' or 'awe' here is not used in the sense of an 'agitated, disturbed or perturbed feeling' which we naturally have for an enemy, a beast, a ferocious animal or an obnoxious thing that might harm us. 'Khashyatullah' (Allah's awe) is, on the contrary, a feeling of deep, reverential awe that leads man to Allah's obedience. It is the awe of Allah's Majesty and His Incomparability that makes the perfect slave do every work under every circumstance to attain the Divine pleasure and evade every occasion of His displeasure. This is the axis on which rotates the religious perfection and all bounties of the Hereafter.Al-hamdulillahThe Commentary onSurah Al-BayyinahEnds here
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.