The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Bayyinah • Ayah 6

Para 30 Surah 98 : 6
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ ٱلْبَرِيَّةِ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

إِنَّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوا۟
مِنْ
أَهْلِ
ٱلْكِتَـٰبِ
وَٱلْمُشْرِكِينَ
فِى
نَارِ
جَهَنَّمَ
خَـٰلِدِينَ
فِيهَآ
ۚ
أُو۟لَـٰٓئِكَ
هُمْ
شَرُّ
ٱلْبَرِيَّةِ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Mentioning the Worse and Best of Creation and Their RecompenseAllah informs of what will happen to the wicked disbelievers among the People of the Scripture and the idolators who oppose the Allah's divinely revealed Books and the Prophets whom He sent. He says that they will be in the fire of Hell on the Day of Judgement and they will abide therein forever. This means that they will remain in it and they will have no way out of it and they will not cease being in it.أَوْلَـئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ(They are the worst of creatures.) meaning, they are the worst creation that Allah has fashioned and created. Then Allah informs about the situation of the righteous people who believed in their hearts and performed righteous deeds with their bodies. He says that they are the best of creation. Abu Hurayrah and a group of the scholars have used this Ayah as a proof that the believers have a status among the creatures that is better than the angels. This is because Allah says,أُوْلَـئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ(They are the best of creatures.) Then Allah says,جَزَآؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ(Their reward with their Lord) meaning, on the Day of Judgement.جَنَّـتُ عَدْنٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَآ أَبَداً(is Eternal Gardens underneath which rivers flow. They will abide therein forever,) meaning, having no end, no break and no conclusion.رِّضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ(Allah will be pleased with them, and they well-pleased with Him.) The condition of Him being pleased with them is more illustri- ous than all of the everlasting delights that they will be given.وَرَضُواْ عَنْهُ(and they well-pleased with Him.) Due to the comprehensive favors He has given them. Then Allah says,ذَلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُ(That is for him who fears his Lord.) meaning, this is the reward that will be attained by those who revere Allah and fear Him as He deserves to be feared. This is the person who worships Allah as if he sees Him, and he knows that even though he does not see Him, indeed Allah sees him. Imam Ahmad recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,«أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّةِ؟»(Shall I not inform you of the best of creation) They said, "Of course, O Messenger of Allah!" He said,«رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، كُلَّمَا كَانَتْ هَيْعَةٌ اسْتَوَى عَلَيْهِ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّة»(A man who takes the reins of his horse in the way of Allah, and whenever there is a fearful cry from the enemy, he climbs upon it. Shall I not inform you of the best of creation) They said, "Of course, O Messenger of Allah ﷺ!" He said,«رَجُلٌ فِي ثُلَّةٍ مِنْ غَنَمِهِ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ الْبَرِيَّةِ؟»(A man who has a flock of sheep and he establishes the prayer and gives the obligatory charity. Shall I not inform you of the worst of creation) They said, "Of course." He said,«الَّذِي يُسْأَلُ بِاللهِ وَلَا يُعْطِي بِه»(The person who is asked by Allah and he does not give by Him.) This is the end of the Tafsir of Surat Lam Yakun (Al-Bayyinah), and all praise and thanks are due to Allah.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے؟ ٭٭اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے ” وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے، نہ وہاں سے نکلیں گے، نہ رہا ہوں گے، یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں “۔ پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے ” جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں “۔ اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔10781پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ ۔ [مسند احمد:169/2،حسن] ‏ سورۃ «لم یکن» کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔10782

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 5{ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَلا حُنَفَآئَ } ”اور انہیں حکم نہیں ہوا تھا مگر یہ کہ وہ بندگی کریں اللہ کی ‘ اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ‘ بالکل یکسو ہو کر“ یہ حکم گویا پورے دین کا خلاصہ ہے جو اس سے پہلے سورة الزمر آیات 2 ‘ 3 ‘ 11 اور 14 میں بہت تاکید اور شدومد کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی پوری اطاعت کے ساتھ کریں۔ یہ نہیں کہ نماز بھی پڑھے جا رہے ہیں اور حرام خوریوں سے بھی باز نہیں آتے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی اطاعت بھی جاری ہے۔ ایسی آیات دراصل ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ جزوی بندگی اور ساجھے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کو ہرگز قابل قبول نہیں۔ اور یہ کہ اگر ہم اس جرم کا ارتکاب کریں گے تو ہم بھی اسی وعید کے مستحق ہوں گے جو اس حوالے سے بنی اسرائیل کو سنائی گئی تھی۔ ملاحظہ ہوں اس وعید کے یہ الفاظ : { اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَـکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّـفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِط } البقرۃ : 85 ”تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے ذلت و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں ‘ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف“۔ بلکہ اس حوالے سے اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اس آیت میں دنیا کے جس عذاب کا ذکر ہے { خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج } وہ اس وقت بحیثیت امت ہم پر مسلط ہو بھی چکا ہے۔ مقامِ عبرت ہے ! آج مسلمانوں کی آبادی دو ارب سے بھی زیادہ ہے ‘ دنیا کے بہترین خطے اور بہترین وسائل ان کے قبضے میں ہیں ‘ مگر اس کے باوجود عزت نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں۔ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے مسلمان حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ ”کس نمی پرسد کہ بھیا کیستی ؟“ یعنی عالمی معاملات میں کوئی ان کی رائے لینا بھی گوارا نہیں کرتا۔ بلکہ مسلمان ملکوں کی اپنی پالیسیوں کا اختیار بھی ان کے پاس نہیں۔ ان کے سالانہ بجٹ بھی کہیں اور سے بن کر آتے ہیں۔ بہرحال اس آیت کے حکم کا مدعا یہی ہے کہ جسے اللہ کا ”بندہ“ بننا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اس کے قانون کے تابع کر کے اس کے حضور پیش ہو۔ ”قیصر کا حصہ قیصر کو دو اور خدا کا حصہ خدا کو دو“ والا قانون اللہ تعالیٰ کو قابل قبول نہیں۔ چناچہ ایمان کے دعوے داروں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے پوری یکسوئی کے ساتھ اس کی عبادت کریں۔ { وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ۔ } ”اور یہ کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ‘ اور یہی ہے سیدھا اور سچا دین۔“ گویا ان الفاظ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ”بندگی“ اور شے ہے ‘ جبکہ نماز اور زکوٰۃ اس کے علاوہ ہے۔ اس نکتے کو یوں سمجھیں کہ بندگی تو پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں دے دینے کا نام ہے۔ بقول شیخ سعدیؔ :زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی !جبکہ نماز ‘ زکوٰۃ عبادات وغیرہ اس بندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لوازمات ہیں ‘ تاکہ ان کے ذریعے سے بندہ اپنے رب کو مسلسل یاد کرتا رہے اور اس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ہردم ‘ ہر گھڑی تازہ رہے۔ حفیظ جالندھری کے اس خوبصورت شعر میں یہی فلسفہ بیان ہوا ہے : سرکشی نے کردیے دھندلے نقوش بندگی آئو سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں !گویا ہمارے ”نقوشِ بندگی“ نفس پرستی کی کثافتوں اور کدورتوں کے گرد و غبار سے اکثر دھندلا جاتے ہیں۔ چناچہ انہیں تازہ رکھنے کے لیے نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور دیگر مراسم عبودیت کے ذریعے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور مسلسل حاضری دینے کی ضرورت رہتی ہے۔ جیسے ایک بندئہ مسلمان اپنی نماز پنجگانہ کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا یہ عہد تازہ کرتا ہے : { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ 4 } کہ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے۔ تصور کیجیے اگر ایک بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ عہد پورے ارادے اور شعور کے ساتھ روزانہ بار بار دہرائے گا تو اس سے اس کے تعلق مع اللہ کے چمن میں تروتازگی کی کیسی کیسی بہاروں کا سماں بندھا رہے گا۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Verse [ 8] ` رَّ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَ‌بَّهُ (Allah is pleased with them, and they are pleased with Him; that is for him who fears his Lord.) This verse points to the highest stage of spiritual development of the inmates of Paradise, that is, the Divine pleasure with no danger of Divine displeasure. This is the greatest reward with which the people of faith will be blessed. The God-fearing people are well-pleased with Him because of the comprehensive favours He has given them. Sayyidna Abu Said Khudri ؓ narrates that the Messenger of Allah ﷺ said:"Undoubtedly, Allah shall address the inmates of Paradise: یَا اَھلَ الجَنَّۃِ '0 Inmates of Paradise!'"They will reply: لَبَّیکَ رَبَّنَا وَ سَعدَیکَ و الخَیرُ کُلُّہ، فِی یَدَیکَ Our Lord, we are present and ready to carry out Your orders. All good is in Your control.'Allah shall ask them: ھَل رَضِیتُم Are you happy?'They will submit: 'How can we not be happy when You have given us what You have not bestowed on any of Your creation? ' Allah will tell them: 'Shall I not grant you something superior to all of this?'They will exclaim: 'What can be superior to this?'Allah will reply: 'I shall grant you My pleasure, and I will never be angry with you in the future'. [ Transmitted by al-Bukhari vide Mazhari ].It should be noted here that there are two types of rida' [ pleasure ]: one in general sense; and second in specific or higher sense. In the general sense, rida' bil-qadr (i.e. to be pleased with every decree of Allah) is part of the obligations of a servant of Allah. A consummated slave is only ever satisfied and content with Allah Himself, and thus sincerely accepts the Divine decree. However, here the word is used in the higher sense, that is, Allah bestows upon a slave all his specific wishes and ambitions without leaving out any of them as in [ 93:5] وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَ‌بُّكَ فَتَرْ‌ضَىٰ (And of course, your Lord will give you so much that you will be pleased.) Here also the word rida' means the fulfillment of every wish of the Holy Prophet ﷺ . When this verse was revealed, the Messenger of Allah ﷺ expressed his wish and ambition that he would not be pleased until every single believer is taken out of Hell. [ Mazhari ]

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.