The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Bayyinah • Ayah 1

Para 30 Surah 98 : 1
لَمْ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

لَمْ
يَكُنِ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوا۟
مِنْ
أَهْلِ
ٱلْكِتَـٰبِ
وَٱلْمُشْرِكِينَ
مُنفَكِّينَ
حَتَّىٰ
تَأْتِيَهُمُ
ٱلْبَيِّنَةُ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Which was revealed in MadinaThe Messenger of Allah recited this Surah to UbayyImam Ahmad recorded from Anas bin Malik that the Messenger of Allah said to Ubayy bin Ka`b,«إِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ»لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ(Verily, Allah has commanded me to recite to you (Those who disbelieve from among the People of the Scripture.)) Ubayy said, "He (Allah) mentioned me by name to you" The Prophet replied,«نَعَم»(Yes.) So he (Ubayy) cried. Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i all recorded this Hadith from Shu`bah.بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.Mentioning the Situation of the Disbelievers among the People of the Scripture and the IdolatorsAs for the People of the Scripture, they are the Jews and the Christians, and the idolators are the worshippers of idols and fire among the Arabs and the non-Arabs. Mujahid said, they are not goingمُنفَكِّينَ(to leave) "Meaning, they will not be finished until the truth becomes clear to them." Qatadah also said the same thing.حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ(until there came to them the Bayyinah.) meaning, this Qur'an. This is why Allah says,لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (Those who disbelieve from among the People of the Scripture and idolators, were not going to leave until there came to them the Bayyinah.) Then He explains what the Bayyinah is by His saying,رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفاً مُّطَهَّرَةً (A Messenger from Allah, reciting purified pages.) meaning, Muhammad and the Magnificent Qur'an he recites, which is written down among the most high gathering in purified pages. This is similar to Allah's statement,فَى صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ - مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ - بِأَيْدِى سَفَرَةٍ - كِرَامٍ بَرَرَةٍ (In Records held in honor. Exalted, purified, in the hands of scribes (angels). Honorable and obedient.) (80:13-16) Then Allah says,فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (Wherein are upright Books.) Ibn Jarir said, "Meaning in the purified pages are Books from Allah that are upright, just and straight. They have no mistakes in them because they are from Allah, the Mighty and Majestic."The Differing only occurred after the Knowledge cameAllah says,وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ إِلاَّ مِن بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ (And the People of the Scripture differed not until after there came to them the Bayyinah.) This is similar to Allah's statement,وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ وَأُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (And be not as those who divided and differed among themselves after the Bayyinat came to them. It is they for whom there is an awful torment.) (3:105) This refers to the people of those divinely revealed Scriptures that were sent down to the nations that were before us. After Allah established the proofs and evidences against them, they divided and differed concerning that which Allah had intended in their Scriptures, and they had many differences. This is like what has been reported in a Hadith that has many routes of transmission,«إِنَّ الْيَهُودَ اخْتَلَفُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَإِنَّ النَّصَارَى اخْتَلَفُوا عَلى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَة»(Verily, the Jews differed until they became seventy-one sects. And verily, the Christians differed until they became seventy-two sects. And this Ummah will divide into seventy-three sects, and all of them will be in the Fire except one.) They said, "Who are they, O Messenger of Allah" He replied,«مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي»((Those who are upon) what I and my Companions are upon.)The Command of Allah was merely that They make their Religion solely for HimAllah says,وَمَآ أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ(And they were commanded not, but that they should worship Allah, making religion purely for Him alone,) This is similar to Allah's statement,وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ (And We did not send any Messenger before you but We revealed to him: La ilaha illa Ana.) (21:25) Thus, Allah says,حُنَفَآءَ(Hunafa') meaning, avoiding Shirk and being truly devout to Tawhid. This is like Allah's statement,وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ(And Verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and avoid the Taghut (false deities).") (16:36) A discussion of the word Hanif has already been mentioned previously and in Surat Al-An`am, so there is no need to repeat it here.وَيُقِيمُواْ الصَّلَوةَ(and perform Salah) And this is the best of the physical forms of worship.وَيُؤْتُواْ الزَّكَوةَ(and give Zakah,) This is doing good to the poor and the needy.وَذَلِكَ دِينُ القَيِّمَةِ(and that is the right religion.) meaning, the upright and just religion, or the nation that is straight and balanced.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

تفسیر سورۃ البینۃ:جب یہ سورت اتری تو جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ کا آپ کو حکم ہوا ہے کہ یہ سورت ابی کو سناؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! کیا وہاں میرا ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [مسند احمد:489/3،صحيح لغيره‏ ] مسند ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا؟ [صحيح بخاري:3809] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ جس وقت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے جب یہ واقعہ بیان کیا اس وقت سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو تم اے ابومنذر بہت ہی خوش ہوئے ہو گے، کہا: ہاں خوش کیوں نہ ہوتا اللہ خود فرماتا ہے «قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ» [10-يونس:58‏] یعنی ” کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ لوگ خوش ہوا کریں، یہ ان کے جمع کیے ہوئے سے بہت ہی بہتر ہے۔“ [مسند احمد:123/5،صحيح‏ ] اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھی اس میں یہ آیت بھی تھی «وَلَوْ أَنَّ اِبْن آدَم سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَال فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا وَلَوْ سَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأ جَوْف اِبْن آدَم إِلَّا التُّرَاب وَيَتُوب اللَّه عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَات الدِّين عِنْد اللَّه الْحَنِيفِيَّة غَيْر الْمُشْرِكَة وَلَا الْيَهُودِيَّة وَلَا النَّصْرَانِيَّة وَمَنْ يَفْعَل خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ» یعنی اگر انسان مجھ سے ایک جنگل بھر کر سونا مانگے اور میں اسے دے دوں تو پھر دوسرا مانگے گا اور دوسرے کو بھی دے دوں تو یقیناً تیسرے کی طلب کرے گا انسان کے پیٹ کو سوا مٹی کے کوئی چیز نہیں بھر سکتی، جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اللہ کے نزدیک دیندار وہ ہے جو یک طرفہ ہو کر صرف اس کی عبادت کرے نہ وہ مشرک ہو، نہ یہودی ہو، نہ نصرانی ہو جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے اللہ کے ہاں اس کی ناقدری نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد:132/5:قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے طبرانی میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ! میں اللہ پر ایمان لایا، آپ کے ہاتھ پر اسلام لایا، آپ ہی سے علم دین حاصل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا اس پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! کیا میرا وہاں ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے نام اور نسب کے ساتھ «لْمَلَإِ الْأَعْلَى»، میں تیرا ذکر ہوا۔‏“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا پھر پڑھئے۔ [طبراني اوسط:447،ضعيف‏] یہ روایت اس طریقہ سے غریب ہے اور ثابت وہ ہے جو پہلے بیان ہوا۔ یہ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورت کو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھنا یہ ان کی ثابت قدمی اور ان کے ایمان کی زیادتی کے لیے تھا۔ مسند احمد، نسائی، ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بگڑ بیٹھے تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح اس سورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نہیں پڑھا تھا تو غصے میں آ کر انہیں لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قرآن سنا اس نے اپنے طریقے سے اس نے اپنے طور پر پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں نے درست پڑھا“، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں تو اس قدر شک و شبہ میں پڑ گیا کہ جاہلیت کے زمانہ کا شک سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا اور اس قدر مجھ پر خوف طاری ہوا کہ گویا میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن! جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا: اللہ کا حکم ہے کہ قرآن ایک ہی قرأت پر اپنی امت کو پڑھاؤ، میں نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر اور بخشش و مغفرت چاہتا ہوں، پھر مجھے دو طرح کے قرأتوں کی اجازت ہوئی لیکن میں پھر بھی زیادہ طلب کرتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں کی اجازت ملی۔ [صحيح مسلم:280‏] یہ حدیث بہت سی سندوں اور مختلف الفاظ سے تفسیر کے شروع میں پوری طرح بیان ہو چکی ہے , اب جبکہ یہ مبارک سورت نازل ہوئی اور اس میں آیت «رَسُول مِنْ اللَّه يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَة ٭ فِيهَا كُتُبٌ قِيمَةٌ» بھی نازل ہوئی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ بطور پہنچا دینے کے اور ثابت قدمی عطا فرمانے کے اور آگاہ کرنے کے پڑھ کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کو سنا دیں کسی کو یہ خیال نہ رہے کہ بطور سیکھنے کے اور یاد رہنے کے آپ نے یہ سورۃ ان کے پاس تلاوت کی تھی۔ «والله اعلم» پس جس طرح آپ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے اس دن کے شک و شبہ کے دفع کرنے کے لیے جو انہیں مختلف قرأت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جائز رکھنے پر پیدا ہوا تھا ان کے سامنے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ٹھیک اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے بھی حدیبیہ والے سال صلح کے معاملہ پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بہت سے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ شریف جائیں گے اور طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہ تو ضرور کہا تھا لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اسی سال یہ ہو گا یقیناً وہ وقت آ رہا ہے کہ تو وہاں پہنچے گا اور طواف کرے گا“، اب حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے سورۃ فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور یہ سورت پڑھ کر سنائی جس میں یہ آیت بھی ہے «لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِد الْحَرَام إِنْ شَاءَ اللَّه آمَنِينَ» یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا یقینا تمہارا داخلہ مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ ہو گا، جیسے کہ پہلے اس کا بیان بھی گزر چکا ہے۔ [صحيح بخاري:2731‏ ] حافظ ابونعیم اپنی کتاب اسماء صحابہ میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب سورۃ لم یکن کی قرأت سنتا ہے تو فرماتا ہے میرے بندے خوش ہو جا مجھے اپنی عزت کی قسم میں تجھے جنت میں ایسا ٹھکانا دوں گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ [ابونعيم في معرفة الصحابة:350/1،ضعيف جدا] ‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ میں تجھے دنیا اور آخرت کے احوال میں سے کسی حال میں نہ بھولوں گا۔ [اسد الغابة لابن الأثير:325/5،ضعيف جدا‏] سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» [80-عبس:13-16] ‏ الخ یعنی ” وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں “۔ پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ” ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں “۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔10775پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» [98-البينة:4] ‏ یعنی ” اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے “۔ جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:105] ‏ یعنی ” تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے “۔ جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ ۔ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» [98-البينة:5] ‏ الخ یعنی ” انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں “۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو “، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] ‏ الخ یعنی ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو “۔ «حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ” نمازوں کو قائم کریں “، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» “ اور زکوٰۃ دیتے رہیں “ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» “ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے “۔ بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔10776

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 1{ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ } ”نہیں تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے الگ ہونے والے یا باز آنے والے جب تک کہ ان کے پاس البیّنہنہ آجاتی۔“ ظاہر ہے وہ لوگ سیدھے راستے سے بھٹک کر گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ اب جب تک ان کے سامنے کوئی بین واضح دلیل نہ آجاتی جس سے انہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ گمراہ ہیں یا انہیں بہت واضح انداز میں بتا نہ دیا جاتا کہ وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ راہ ہدایت نہیں ‘ اس وقت تک انہیں رشد و ہدایت کی راہ پر چلنے والوں سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کا مفہوم یوں بھی ہوسکتا ہے کہ جب تک ان لوگوں کے پاس البینہ نہ آجاتی وہ اپنے کفر سے باز آنے والے نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔ مُنْفَکِّیْنَ : اِنْفِکاک فَکَّسے باب اِنْفعال سے ہے ‘ جس کا مفہوم ہے کسی چیز کا کسی چیز سے الگ ہوجانا ‘ جدا ہوجانا۔ وہ البیِّنہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت اگلی آیات میں کی جا رہی ہے :

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Situation of the People of the Book and of the Pagan Arabs before the advent of the Final Messenger of Allah ﷺVerse [ 1] draws attention to the situation of the world before the advent of the Messenger of Allah ﷺ : The entire world was sunk deeply in the darkness of ignorance, superstition, corruption, disbelief and paganism. When the whole world was so benighted, the infinite grace, mercy and wisdom of the Lord of the worlds bubbled up to dispel the darkness, to cure the obnoxious diseases and to dissipate the universally prevailing calamities. The moral and spiritual maladies were acute, excruciating, serious and severe. As a result, there was a need for an effective, expert and a competent healer who would be able to cure them. Such a healer was raised in the person of the Final Messenger of Allah ﷺ ، who is described as al-Bayyinah 'The Clear Proof. The healer came with a Book. Now follows some of the important characteristics of the Holy Qur'an.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.