Surah Ash-Sharh • Ayah 6
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed in Makkahبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.The Meaning of opening the BreastAllah says,أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ(Have We not opened your breast for you) meaning, `have We not opened your chest for you.' This means, `We illuminated it, and We made it spacious, vast and wide.' This is as Allah says,فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلَـمِ(And whomsoever Allah wills to guide, He opens his breast to Islam.) (6:125) And just as Allah expanded his chest, He also made His Law vast, wide, accommodating and easy, containing no difficulty, hardship or burden.A Discussion of Allah's Favor upon His Messenger Concerning Allah's statement,وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ(And removed from you your burden.) This meansلِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ(That Allah may forgive you your sins of the past and the future.) (48:2)الَّذِى أَنقَضَ ظَهْرَكَ(Which weighed down your back) Al-Inqad means the sound. And more than one of the Salaf has said concerning Allah's saying,الَّذِى أَنقَضَ ظَهْرَكَ(Which weighed down your back) meaning, `its burden weighed heavy upon you.'The Meaning of raising the Fame of the Prophet (Peace be upon him)وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ(And have We not raised high your fame?) Mujahid said, "I (Allah) am not remembered except that you are remembered with Me: I bear witness that there is no God worthy of worship except Allah, and that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah."Qatadah said , "Allah raised his fame in this life and in the Hereafter. There is no one who gives a sermon, declares the Testimony of Faith (Shahadah), or prays a prayer (Salah) except that he proclaims it: I bear witness that there is no God worthy of worship except Allah, and that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah.Ease after Difficultyإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرً۬ا • فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا(Verily along with every hardship is relief. Veriliy along with every hardship is relief)Allah informs that with difficulty there is ease, and then He reaffirms this information (by repeating it)The Command to remember Allah during Spare Timeفَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ • وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب( So when you have finished, devote yourself to Allah's worship. And to your Lord turn intentions and hopes. )Meaning, 'when you have completed your worldly affairs and its tasks, and you have broken away from its routine, then get up to perform the worship, and stand for it with zeal, complete devotion and purify your intention and desire for your lord.' Similar to this is the Prophet's statement in a hadith that is agreed-upon to be authentic,لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ, وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِThere is no prayer when the food is served, nor when the two foul things (excrement and urine) are pressing a person.The Prophet (صلى الله عليه و سلم) also said,إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَحَضَرَ الْعَشَاءُ فَبْدَأُوا بِااْلْعَشَاءِWhen the prayer has started and the dinner has been served, then begin with dinner.Mujahid said concerning this Ayah, "When you are free from the worldly affairs, and you have stood to pray, then stand up for your Lord."
بابیعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف] 10703پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف] 10704ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے] 10705ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔ «اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد» یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔10706صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔“ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔ مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533] مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا» یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔10707ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ «إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔ کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔ اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔10708اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560] اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463] مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔“ سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10709
آیت 6{ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ } ”یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔“ یہ سورت دراصل مشکلات القرآن میں سے ہے۔ آیت 2 میں جس بوجھ کا ذکر ہوا ہے اس کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی مشقتوں اور لوگوں کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں کی طرف اشارہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رائے صرف جزوی طور پر درست ہے اس لیے کہ یہ سورت بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ اس زمانے میں حضور ﷺ کی مشکلات کا ابھی آغاز ہو رہا تھا اور بعد کے زمانے میں آپ ﷺ کو نسبتاً بہت زیادہ مشکل مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔ مثلاً شعب ابی طالب میں تین سال کی قید کا واقعہ اس سورت کے نزول کے بعد پیش آیا اور اس کے بعد ہی آپ ﷺ کو یوم طائف اور یوم احد جیسے گھمبیر حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ دعوت و تبلیغ اور آپ ﷺ کے فریضہ رسالت سے متعلقہ مشکلات بھی اس سورت کے نزول کے بعد کم ہونے کے بجائے مزید بڑھیں ‘ بلکہ بڑھتی ہی چلی گئیں۔ اس لیے یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہاں جس بوجھ کے اتار دینے کا ذکر ہوا ہے وہ اصل میں کوئی اور بوجھ تھا۔ اس بوجھ کی کیفیت کے بارے میں جاننے کے لیے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو اپنے قرب خاص کی نعمت سے نوازتا ہے۔ چناچہ قرب خاص کی لذت سے آشنا ہوجانے کے بعد انبیاء و رسل - کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت اسی کیفیت میں گزاریں۔ لیکن وہاں سے حکم ملتا ہے کہ جائو خلق خدا تک میرا پیغام پہنچائو اور انہیں ہدایت کا راستہ دکھائو ! مثلاً اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کو ہِ طور پر اپنے قرب خاص سے نوازا اور آپ علیہ السلام سے کلام فرمایا تو اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خواہش تو یہی ہوگی کہ وہ سدا اسی کیفیت میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مکالمے اور مخاطبے کی لذت سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔ لیکن اس کے فوراً بعد آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا : { اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی۔ } طٰہٰ ”اب جائو فرعون کی طرف ‘ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے !“ ظاہر ہے فریضہ رسالت کی ادائیگی کوئی آسان کام تو نہیں۔ اس بارے میں اصل حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پیغمبروں کی دعوت کے جواب میں لوگوں کی طرف سے بےاعتنائی برتی جاتی تھی اور طنز و تمسخر کے تیر برسائے جاتے تھے ‘ حتیٰ کہ جسمانی اذیت پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا تھا۔ الغرض اس راستے میں تو ہر قدم پر مخالفت اور ہر موڑ پر تکالیف و مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چناچہ ایسی صورت حال میں پیغمبروں کو دوہری مشکل کا سامنا رہا ہے یعنی ایک طرف قرب و حضوری کی خصوصی کیفیت سے باہر آنے کا ملال اور دوسری طرف لوگوں کے رویے کے باعث دل پر تکدر کا بوجھ۔ کہاں وہ قرب ِخاص کا کیف و سرور اور کہاں یہ مشقت بھری مصروفیات۔ روح اور طبیعت کا میلان تو ظاہر ہے اسی طرف ہوگا کہ وہی خلوت ہو ‘ وہی حضوری ہو اور وہی کیف و سرور ہو۔ غالبؔ نے اپنی زبان اور اپنے انداز میں محبوب کی قربت کے حوالے سے انسان کی اس کیفیت اور خواہش کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت ‘ کہ رات دن بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے ! اس صورت حال یا کیفیت کو علامہ اقبال کے بیان کردہ اس واقعہ کے حوالہ سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال اپنے خطبات چوتھے لیکچر میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالقدوس گنگوہی - دنیا ومافیہا سے بیخبر مراقبے کی کیفیت میں بیٹھے تھے۔ اسی اثنا میں انہیں اقامت کی آواز سنائی دی۔ آپ رح فوراً نماز کے لیے کھڑے تو ہوگئے مگر جھنجھلا کر کہا : ”حضوری سے نکال کر دربانی میں کھڑا کردیا !“ اب ظاہر ہے حضوری کی کیفیت میں تو اور ہی لذت تھی جبکہ نماز میں جماعت کا نظم ملحوظ رکھنے کی پابندی ہے اور ہر صورت میں امام کی اقتداضروری ہے۔ فرض کریں مقتدی کو تلاوت سننے میں لذت محسوس ہو رہی ہے اور وہ مزید سننا چاہتا ہے لیکن یہاں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے جب امام قراءت ختم کر کے رکوع میں جائے گا تو اسے اس کی اقتدا کرنا ہوگی۔ اگر وہ دیر تک سجدہ میں ہی پڑے رہنا چاہتا ہے تو بھی اسے اپنا سجدہ مختصر کر کے امام کی اقتدا میں سر اٹھانا ہوگا۔ اس تمہیدی وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب آپ حضور ﷺ کی اس کیفیت کا تصور کیجیے جب حضور ﷺ رات کی تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے۔ اس وقت آپ ﷺ کی روح کیسی کیسی قربتوں اور رفعتوں سے آشنا ہوتی ہوگی اور آپ ﷺ کے قلب مبارک پر کیسے کیسے انوار و تجلیات کی بارش ہوتی ہوگی۔ پھر صبح کو جب آپ ﷺ اہل مکہ کے درمیان جا کر ان سے شاعر ‘ مجنون ‘ کذاب نعوذ باللہ جیسے القابات سنتے ہوں گے اور ان کے تمسخر بھرے جملوں کا سامنا کرتے ہوں گے تو آپ ﷺ اپنی طبیعت میں کیسا تکدر اور کیسی کو فت محسوس کرتے ہوں گے۔ چناچہ حضور ﷺ کے لیے اصل معاملہ یہ تھا کہ ”عروج“ قربِ خاص کی لذت کے بعد ”نزول“ کا مرحلہ آپ ﷺ پر بہت شاق گزرتا تھا۔ اور یہی وہ ”بوجھ“ تھا جو آپ ﷺ کی کمر کو دہرا کیے دے رہا تھا۔ البتہ رفتہ رفتہ آپ ﷺ کا مزاج جب اس معمول کا خوگر ہوگیا تو اس بوجھ کے احساس میں کمی واقع ہوتی گئی۔ پھر جب روز بروز اہل ایمان کی تعداد بڑھنا شروع ہوئی تو دعوت و تحریک کی مصروفیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے تسکین کا سامان پیدا فرما دیا۔ بہرحال یہاں پر یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ فریضہ رسالت کی انجام دہی کے لیے عروج اور نزول ان کیفیات کے لیے صوفیاء کے ہاں ”سیر الی اللہ“ اور ”سیر عن اللہ“ کی اصطلاحات بھی معروف ہیں کی دونوں کیفیات کا بیک وقت باہم متوازی چلنا ضروری ہے۔ اس نکتہ لطیف کو مولانا روم نے بارش کی مثال سے بہت موثر انداز میں سمجھایا ہے۔ مولانا کی بیان کردہ اس حکایت کا خلاصہ یہ ہے کہ سمندر سے بخارات کی شکل میں بالکل صاف اور پاکیزہ پانی فضا میں پہنچتا ہے۔ بارش برستی ہے تو یہ صاف پانی فضا کی کدورتوں کو بھی صاف کرتا ہے ‘ زمین کی گندگیوں کو بھی اپنے ساتھ بہا کر سمندر میں ڈال دیتا ہے اور اس کے بعد سمندر سے پھر بخارات بن کر صاف اور پاکیزہ حالت میں بارش کے لیے فضا میں پہنچ جاتا ہے۔ اس مثال کو حضور ﷺ کی ذات پر منطبق کرتے ہوئے یوں سمجھیں کہ حضور ﷺ کو ”سیر الی اللہ“ قیام اللیل اور خلوت کی مناجات وغیرہ کے ذریعے روحانی ترفع حاصل ہوتا۔ پھر جب آپ ﷺ ”سیر عن اللہ“ کی صورت میں معاشرے کی طرف رجوع فرماتے تو آپ ﷺ کی رحمت اور روحانیت لوگوں پر بارش کی طرح برستی اور راستے میں آنے والی تمام ظاہری و باطنی آلائشوں اور کدورتوں کو دھو ڈالتی۔ اسی دوران لوگوں کی مخالفت اور گھٹیا حرکات کے باعث آپ ﷺ کی ”روحانیت“ میں کچھ تکدر بھی پیدا ہوتا ‘ جسے ”سیر الی اللہ“ کے اگلے مرحلے میں صاف کردیا جاتا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا۔ یہاں ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ نتائج کے اعتبار سے تو دعوت و تبلیغ کی مصروفیات بھی ”سیر الی اللہ“ ہی کے زمرے میں آتی ہیں لیکن عملی طور پر اس کی کیفیت بظاہر ”سیر عن اللہ“ جیسی ہے۔ جیسے نماز کی حالت میں انسان کا رخ اللہ کی طرف ہوتا ہے لیکن ایک داعی جب نماز سے فارغ ہو کر تبلیغ کے لیے نکلتا ہے تو بظاہر اس کی پشت اللہ کی طرف ہوتی ہے اور رُخ لوگوں کی طرف ہوتا ہے۔
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (So undoubtedly, along with hardship there is ease. Undoubtedly, along with hardship there is ease....94:6). Grammatically, if the Arabic definite article al- is prefixed to an Arabic noun and is repeated with the same definite article al-, they refer to the same antecedent. However, if the same noun is repeated without the definite article, they refer to different antecedents. The word al-'usr '[ the ] hardship' in verse [ 6] is the repetition of al-'usr '[ the ] hardship' occurring in verse [ 5]. It does not refer to a new hardship. In contrast to this, the word yusr 'ease' in both verses occur without the definite article. This indicates that the second yusr 'ease' in verse [ 6] is a different antecedent to the yusr 'ease' occurring in verse [ 5]. Thus it may be concluded that there is only one ` usr 'hardship' and two yusr 'twofold ease'. 'Twofold ease' does not mean twice as much. In fact, it means 'manifold ease'. The verse signifies that only one kind of hardship will face him, but in the wake of it many kinds of ease are assured.Sayyidna Hasan Al-Basri (رح) reports that once the Holy Prophet ﷺ emerged from his home in a very happy mood and, giving cheerful news to his Companions on the basis of the current verse, said: "One hardship cannot overcome twofold ease". Thus history and biographical books written by Muslims and non-Muslims - all bear ample testimony to fact that the most difficult task, even the seemingly impossible task, became easy for him. The above narration further indicates that the Arabic definite article al- signifies that it is an article used to indicate previous knowledge [ that is, al- lil ` ahd ] and refers to the hardship of the Holy Prophet ﷺ and his Companions. Allah kept to His promise to them in such a way that the world saw it visibly how in the wake of every hardship the Holy Prophet and his Companions experienced the manifold ease that made their task easy. If a person does not achieve 'ease' after 'hardship', it does not contradict this verse. In fact, even now Allah's universal principle applies. One needs to exercise fortitude against hardship, rely on Allah with purity of heart, devote oneself totally to Him, hold onto high hopes for His grace, and one should not despair of His mercy if there is delay in success - He certainly will grant relief after every instance of hardship. [ Fawa'id-e-` Usmaniah ]. Hadith narratives support this.
In the tenth year of Prophethood, two of the Prophet's (ﷺ) greatest supporters died within weeks of each other: his beloved wife Khadijah (RA) and his protective uncle Abu Talib. This year is called 'Am al-Huzn (Year of Sorrow). The Prophet lost both his domestic refuge and his tribal protection.
After the Year of Sorrow, the Prophet traveled to Ta'if (about 100 km southeast of Makkah) to seek support from the Thaqif tribe. They rejected him contemptuously and set street children and slaves upon him, pelting him with stones until his feet bled. He took refuge in a garden, where the owner's Christian slave Addas recognized him as a prophet. Allah offered to destroy Ta'if with mountains, but the Prophet declined, praying instead for their descendants to accept Islam.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.