The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Ash-Sharh • Ayah 2

Para 30 Surah 94 : 2
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَوَضَعْنَا
عَنكَ
وِزْرَكَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Which was revealed in Makkahبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.The Meaning of opening the BreastAllah says,أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ(Have We not opened your breast for you) meaning, `have We not opened your chest for you.' This means, `We illuminated it, and We made it spacious, vast and wide.' This is as Allah says,فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلَـمِ(And whomsoever Allah wills to guide, He opens his breast to Islam.) (6:125) And just as Allah expanded his chest, He also made His Law vast, wide, accommodating and easy, containing no difficulty, hardship or burden.A Discussion of Allah's Favor upon His Messenger Concerning Allah's statement,وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ(And removed from you your burden.) This meansلِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ(That Allah may forgive you your sins of the past and the future.) (48:2)الَّذِى أَنقَضَ ظَهْرَكَ(Which weighed down your back) Al-Inqad means the sound. And more than one of the Salaf has said concerning Allah's saying,الَّذِى أَنقَضَ ظَهْرَكَ(Which weighed down your back) meaning, `its burden weighed heavy upon you.'The Meaning of raising the Fame of the Prophet (Peace be upon him)وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ(And have We not raised high your fame?) Mujahid said, "I (Allah) am not remembered except that you are remembered with Me: I bear witness that there is no God worthy of worship except Allah, and that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah."Qatadah said , "Allah raised his fame in this life and in the Hereafter. There is no one who gives a sermon, declares the Testimony of Faith (Shahadah), or prays a prayer (Salah) except that he proclaims it: I bear witness that there is no God worthy of worship except Allah, and that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah.Ease after Difficultyإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرً۬ا • فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا(Verily along with every hardship is relief. Veriliy along with every hardship is relief)Allah informs that with difficulty there is ease, and then He reaffirms this information (by repeating it)The Command to remember Allah during Spare Timeفَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ • وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب( So when you have finished, devote yourself to Allah's worship. And to your Lord turn intentions and hopes. )Meaning, 'when you have completed your worldly affairs and its tasks, and you have broken away from its routine, then get up to perform the worship, and stand for it with zeal, complete devotion and purify your intention and desire for your lord.' Similar to this is the Prophet's statement in a hadith that is agreed-upon to be authentic,لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ, وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِThere is no prayer when the food is served, nor when the two foul things (excrement and urine) are pressing a person.The Prophet (صلى الله عليه و سلم) also said,إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَحَضَرَ الْعَشَاءُ فَبْدَأُوا بِااْلْعَشَاءِWhen the prayer has started and the dinner has been served, then begin with dinner.Mujahid said concerning this Ayah, "When you are free from the worldly affairs, and you have stood to pray, then stand up for your Lord."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

بابیعنی ” ہم نے تیرے سینے کو منور کر دیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کر دیا “۔ اور جگہ ہے «فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» [6-الأنعام:125] ‏ الخ، یعنی ” جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کشادہ کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی کشادگی والی، نرمی اور آسانی والی بنا دی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے، نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف اور سختی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گزر چکا، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ [سنن ترمذي:3346،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہو سکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ کو راز اللہ کا گنجینہ بنا دینا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑی دلیری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں پوچھ لیا کرتے تھے جسے دوسرے نہ پوچھ سکتے تھے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! امر نبوت میں سب سے پہلے آپ نے کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے ”ابوہریرہ میں دس سال کچھ ماہ کا تھا جنگل میں کھڑا تھا کہ میں نے اوپر آسمان کی طرف سے کچھ آواز سنی کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کیا یہ وہی ہیں؟ اب دو شخص میرے سامنے آئے جن کے منہ ایسے منور تھے کہ میں نے ایسے کبھی نہیں دیکھے اور ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ میرے دماغ نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ میں نے کبھی کسی پر ایسے کپڑے نہیں دیکھے اور آ کر انہوں نے میرے دونوں بازو تھام لیے لیکن مجھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میرے بازو تھامے ہوئے ہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ انہیں لٹا دو چنانچہ اس نے لٹا دیا لیکن اس میں بھی نہ مجھے تکلیف ہوئی، نہ برا محسوس ہوا۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ان کا سینہ شق کرو چنانچہ میرا سینہ چیر دیا لیکن نہ تو مجھے اس میں کچھ دکھ ہوا اور نہ میں نے خود دیکھا پھر کہا اس میں سے غل و غش، حسد و بغض سب نکال دو، چنانچہ اس نے ایک خون بستہ جیسی کوئی چیز نکالی اور اسے پھینک دیا پھر اس نے کہا اس میں رافت و رحمت رحم و کرم بھر دو پھر ایک چاندی جیسی چیز جتنی نکالی تھی اتنی ڈال دی پھر میرے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر کہا جائیے اور سلامتی سے زندگی گزارئیے اب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ ہر چھوٹے پر میرے دل میں شفقت ہے اور ہر بڑے پر رحمت ہے“ ۔ [مسند احمد:139/5:ضعیف] ‏10703پھر فرمان ہے کہ ” ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا “۔ یہ اسی معنی میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے۔ جس بوجھ نے تیری کمر سے آواز نکلوا دی تھی یعنی جس نے تیری کمر کو بوجھل کر دیا تھا۔ ہم نے تیرا ذکر بلند کیا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”جہاں میرا ذکر کیا جائے گا وہاں تیرا ذکر کیا جائے گا جیسے «أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه» ۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کر دیا کوئی خطیب، کوئی واعظ، کوئی کلمہ گو، کوئی نمازی ایسا نہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا کلمہ نہ پڑھتا ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ میں آپ کا ذکر کس طرح بلند کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کو پورا علم ہے“ فرمایا: جب میں ذکر کیا جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37533:ضعیف] ‏10704ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا لیکن نہ کرتا تو اچھا ہوتا میں نے کہا، اللہ مجھ سے پہلے نبیوں میں سے کسی کے لیے تو نے ہوا کو تابعدار کر دیا تھا کسی کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کر دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: کیا تجھے میں نے یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: راہ گم کردہ پا کر میں نے تجھے ہدایت نہیں کی؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا فقیر پا کر غنی نہیں بنا دیا؟، میں نے کہا ”بیشک“، فرمایا: کیا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر بلند نہیں کیا؟ میں نے کہا ”بیشک“ کیا ہے۔‏“ [حسن:شیخ عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے] ‏10705ابونعیم دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فارغ ہوا اس چیز سے جس کا حکم مجھے میرے رب عزوجل نے کیا تھا آسمان اور زمین کے کام سے تو میں نے کہا ”اللہ مجھ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام ہوئے اب سب کی تو نے تکریم کی، ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلیم بنایا، داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، سلیمان علیہ السلام کے لیے ہواؤں اور شیاطین کو بھی تابعدار بنایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر مردے زندہ کرائے، پس میرے لیے کیا کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” کیا میں نے تجھے ان سب سے افضل چیز نہیں دی کہ میرے ذکر کے ساتھ ہی تیرا ذکر بھی کیا جاتا ہے اور میں نے تیری امت کے سینوں کو ایسا کر دیا کہ وہ قرآن کو قرأت سے پڑھتے ہیں۔ یہ میں نے کسی اگلی امت کو نہیں دیا اور میں نے تجھے اپنے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ دیا جو «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ہے “۔ [اسنادہ ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد اذان ہے“ یعنی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، جس طرح حسان رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے۔ «اأَغَرّ عَلَيْهِ لِلنُّبُوَّةِ خَاتَم» ‏ «مِنْ اللَّه مِنْ نُور يَلُوح وَيَشْهَد» «وَضَمَّ الْإِلَه اِسْم النَّبِيّ إِلَى اِسْمه» ‏ «إِذَا قَالَ فِي الْخَمْس الْمُؤَذِّن أَشْهَد» «وَشَقَّ لَهُ مِنْ اِسْمه لِيُجِلَّهُ» ‏ «فَذُو الْعَرْش مَحْمُود وَهَذَا مُحَمَّد» یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر نبوت کو اپنے پاس کا ایک نور بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثبت فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہ ہے اپنے نام کے ساتھ اپنے نبی کا نام ملا لیا جبکہ پانچویں وقت «اشھد» کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے اظہار کے لیے اپنے نام میں سے آپ کا نام نکالا دیکھو وہ عرش والا محمود ہے اور آپ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ اگلوں پچھلوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا اور تمام انبیاء علیہم السلام سے روز میثاق میں عہد لیا گیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم کریں پھر آپ کی امت میں آپ کے ذکر کو مشہور کیا کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے۔10706صرصری رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ ”فرضوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور میٹھے نام سے جو پسندیدہ اور اچھے منہ سے ادا ہو۔‏“ اور فرماتے ہیں کہ ”تم نہیں دیکھتے کہ ہماری اذان اور ہمارا فرض صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر باربار اس میں نہ آئے۔‏“ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ تکرار اور تاکید کے ساتھ دو دو دفعہ فرماتا ہے کہ ” سختی کے ساتھ آسانی، دشواری کے ساتھ سہولت ہے “۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے سامنے ایک پتھر تھا پس لوگوں نے کہا اور سختی آئے اور اس پتھر پر گھس جائے تو آسانی ہی آئے گی اور اسی میں جائے گی، اور اسے نکال لائے گی اس پر یہ آیت اتری۔ مسند بزار میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر دشواری اس پتھر میں داخل ہو جائے تو آسانی آ کر اسے نکالے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند بزار:2288:ضعیف] ‏ یہ حدیث صرف عائز بن شریح انس سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ ان کی حدیث میں ضعف ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوف مروی ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی، حسن رحمہ اللہ سے ابن جریر میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن شادان اور فرحاں آئے اور ہنستے ہوئے فرمانے لگے ”ہرگز ایک دشواری پر دو نرمیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔‏“ پھر اس آیت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی، یہ حدیث مرسل ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سنائی کہ دو آسانیوں پر ایک سختی غالب نہیں آ سکتی ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:37533] ‏ مطلب یہ ہے کہ «عُسْرِہ» کے لفظ کو تو دونوں جگہ معرفہ لائے ہیں تو وہ مفرد ہوا اور «يُسْرً» کے لفظ کو نکرہ لائے ہیں تو وہ متعدد ہو گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ «نَزَّلَ الْمَعُونَةَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَى قَدْرِ الْمَؤُونَةِ، وَنَزَّلَ الصَّبْرَ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ» «الْمَعُونَةَ» یعنی امداد الٰہی بقدر «الْمَؤُونَةِ» یعنی تکلیف کے آسمان سے نازل ہوتی ہے یعنی صبر مصیبت کی مقدار پر نازل ہوتا ہے۔ [مسند بزار::1506:صحیح] ‏ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «صَبْرًا جَمِيلًا مَا أَقْرَبَ الْفَرَجَا» «مَنْ رَاقَبَ اللَّهَ فِي الْأُمُورِ نَجَا» *** «مَنْ صَدَقَ اللَّهَ لَمْ يَنَلْهُ أَذًى» *** «وَمَنْ رَجَاهُ يَكُونُ حَيْثُ رَجَا» یعنی اچھا صبر آسانیوں سے کیا ہی قریب ہے؟ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ لحاظ رکھنے والا، نجات یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے والے کو کوئی ایذاء نہیں پہنچتی اس سے بھلائی کی امید رکھنے والا اسے اپنی امید کے ساتھ ہی پاتا ہے۔10707ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ کے اشعار ہیں کہ «إِذَا اشْتَمَلَتْ عَلَى الْيَأْسِ الْقُلُوبُ» *** «وَضَاقَ لِمَا بِهِ الصَّدْرُ الرَّحِيبُ» *** «وَأَوْطَأَتِ الْمَكَارِهُ وَاطْمَأَنَّتْ» ‏ *** «وَأَرْسَتْ فِي أَمَاكِنِهَا الْخُطُوبُ» *** «وَلَمْ تَرَ لِانْكِشَافِ الضُّرِّ وَجْهًا» *** «وَلَا أَغْنَى بِحِيلَتِهِ الْأَرِيبُ» *** «أَتَاكَ عَلَى قُنُوطٍ مِنْكَ غَوْثٌ» *** «يَمُنُّ بِهِ اللَّطِيفُ الْمُسْتَجِيبُ» *** «وَكُلُّ الْحَادِثَاتِ إِذَا تَنَاهَتْ» «فَمَوْصُولٌ بِهَا الْفَرَجُ الْقَرِيبُ» جب مایوسی دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور سینہ باوجود کشادگی کے تنگ ہو جاتا ہے تکلیفیں گھیر لیتی ہیں اور مصیبتیں ڈیرہ جما لیتی ہیں کوئی چارہ سجھائی نہیں دیتا اور کوئی تدبیر نجات کارگر نہیں ہوتی اس وقت اچانک اللہ کی مدد آ پہنچتی ہے۔ اور وہ دعاؤں کا سننے والا باریک بین اللہ اس سختی کو آسانی سے اور اس تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ تنگیاں جب کہ بھرپور آ پڑی ہیں پروردگار وسعتیں نازل فرما کر نقصان کو فائدے سے بدل دیتا ہے۔ کسی اور شاعر نے کہا ہے: «وَلَرُبَّ نَازِلَةٍ يَضِيقُ بِهَا الْفَتَى» ‏ *** «ذَرْعًا وَعِنْدَ اللَّهِ مِنْهَا الْمَخْرَجُ» *** «كَمُلَتْ فَلَمَّا اسْتَحْكَمَتْ حَلْقَاتُهَا» *** «فُرِجَتْ وَكَانَ يَظُنُّهَا لَا تُفْرَجُ» یعنی بہت سی ایسی مصیبتیں انسان پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے حالانکہ اللہ کے پاس ان سے چھٹکارا بھی ہے جب یہ مصیبتیں کامل ہو جاتی ہیں اور اس زنجیر کے حلقے، مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان گمان کرنے لگتا ہے کہ بھلا یہ کیا ہٹیں گی کہ اچانک اس رحیم و کریم اللہ کی شفقت بھری نظریں پڑتی ہیں اور اس مصیبت کو اس طرح ودر کرتا ہے کہ گویا آئی ہی نہ تھی۔ اس کے بعد ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب تو دنیوی کاموں سے اور یہاں کے اشغال سے فرصت پائے تو ہماری عبادتوں میں لگ جا اور فارغ البال ہو کر دلی توجہ کے ساتھ ہمارے سامنے عاجزی میں لگ جا، اپنی نیت خالص کر لے اپنی پوری رغبت کے ساتھ ہماری جناب کی طرف متوجہ ہو جا “۔10708اسی معنی کی وہ حدیث ہے جس کی صحت پر اتفاق ہے جس میں ہے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے وقت نماز نہیں اور اس حالت میں بھی کہ انسان کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو ۔ [صحیح مسلم:560] ‏ اور حدیث میں ہے کہ جب نماز کھڑی کی جائے اور شام کا کھانا سامنے موجود ہو تو پہلے کھانے سے فراغت حاصل کر لو ۔ [صحیح بخاری:5463] ‏ مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب امر دنیا سے فارغ ہو کر نماز کے لیے کھڑے ہو تو محنت کے ساتھ عبادت کرو اور مشغولیت کے ساتھ رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فرض نماز سے فارغ ہو تو تہجد کی نماز میں کھڑا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوئے اپنے رب کی طرف توجہ کر۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یعنی دعا کر“، زید بن اسلم رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جہاد سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگ جا۔‏“ ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اپنی نیت اور اپنی رغبت اللہ ہی کی طرف رکھ۔‏“ سورۃ الم نشرح کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10709

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَ‌كَ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَ‌كَ (And We removed from you your burden that had [ almost ] broken your back...94:2-3). The word wizr literally denotes 'burden' and the phrase naqd-uz-zahr means 'to break one's back as for instance when a heavy load is put on one's back, it bends'. This verse signifies that Allah had relieved him of his burden that was breaking his back. What was that burden or heavy load? One answer to this question is that now and then the Holy Prophet ﷺ did certain permissible deeds, thinking that they were of benefit and in the interest [ of spiritual development ]. Later on he discovered that they were not in keeping with wisdom, or they were undesirable. The Holy Prophet was conscious of his high status and close proximity to Allah. He regarded even such things as serious infractions. This was naturally a very heavy load that made him grieved. But Allah relieved him of his burden in that a blanket pardon was granted to him and it was declared that he would not be held accountable for such things.Some commentators say that wizr (burden) refers to the effect of revelation. It weighed heavily on him in the initial stages of the Prophethood. He was saddled with a nerve-racking and back-breaking task of raising [ a morally degenerated people ], through propagation of Tauhid and elimination of kufr and shirk, [ from the depths of moral turpitude to the peaks of spiritual excellence, and then through them to cleanse and purify the whole of mankind of the dross of iniquity, ignorance and superstition ]. The task enjoined:فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْ‌تَ'So, stand firm - as you have been commanded [ 11:112] 'The Holy Prophet ﷺ used to feel the heavy weight of this task and responsibility. Some narration report that a few strands of his beard had turned grey as a result of this command. The Holy Prophet ﷺ is reported to have said that the following verse has made me old:فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْ‌تَ'So, stand firm - as you have been commanded [ 11:112] 'Verses [ 2-3] give the cheerful news that Allah will remove from him the load which was weighing down his back. The following verses show how the back-breaking load will be removed, and every difficulty will be followed by ease and relief. By means of expansion of bosom, Allah gave the Holy Prophet so much of courage that no instance of hardship seemed hardship, and no burden of any magnitude seemed a burden. And Allah knows best!

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.