The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Anfal • Ayah 62

Para 10 Surah 8 : 62
وَإِن يُرِيدُوٓا۟ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِۦ وَبِٱلْمُؤْمِنِينَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَإِن
يُرِيدُوٓا۟
أَن
يَخْدَعُوكَ
فَإِنَّ
حَسْبَكَ
ٱللَّهُ
ۚ
هُوَ
ٱلَّذِىٓ
أَيَّدَكَ
بِنَصْرِهِۦ
وَبِٱلْمُؤْمِنِينَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Command to Facilitate Peace when the Enemy seeks a Peaceful ResolutionAllah says, if you fear betrayal from a clan of people, then sever the peace treaty with them, so that you both are on equal terms. If they continue being hostile and opposing you, then fight them,وَإِن جَنَحُواْ(But if they incline), and seek,لِلسَّلْمِ(to peace), if they resort to reconciliation, and seek a treaty of non-hostility,فَاجْنَحْ لَهَا(you also incline to it), and accept offers of peace from them. This is why when the pagans inclined to peace in the year of Hudaybiyah and sought cessation of hostilities for nine years, between them and the Messenger of Allah he accepted this from them, as well as, accepting other terms of peace they brought forth. `Abdullah bin Al-Imam Ahmad recorded that `Ali bin Abi Talib said that the Messenger of Allah said,«إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي اخْتِلَافٌ أَوْ أَمْرٌ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَكُونَ السِّلْمَ فَافْعَل»(There will be disputes after me, so if you have a way to end them in peace, then do so.)Allah said next,وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ(and trust in Allah. ) Allah says, conduct a peace treaty with those who incline to peace, and trust in Allah. Verily, Allah will suffice for you and aid you even if they resort to peace as a trick, so that they gather and reorganize their forces,فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ(then verily, Allah is All-Sufficient for you).Reminding the Believers of Allah's Favor of uniting ThemAllah mentioned His favor on the Prophet , in that He aided him with believers, the Muhajirin and the Ansar,هُوَ الَّذِى أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَوَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ(He it is Who has supported you with His help and with the believers. And He has united their hearts.)The Ayah says, `it is Allah who gathered the believers' hearts, believing, obeying, aiding and supporting you -- O Muhammad,'لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى الاٌّرْضِ جَمِيعاً مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ(If you had spent all that is in the earth, you could not have united their hearts.) because of the enmity and hatred that existed between them. Before Islam, there were many wars between the Ansar tribes of Aws and Khazraj, and there were many causes to stir unrest between them. However, Allah ended all that evil with the light of faith,وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُم أَعْدَآءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُمْ مِّنْهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ ءَايَـتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ(And remember Allah's favor on you, for you were enemies one to another, but He united your hearts, so that, by His grace, you became brethren, and you were on the brink of a pit of Fire, and He saved you from it. Thus Allah makes His Ayat clear to you, that you may be guided.) 3:103In the Two Sahihs, it is recorded that when the Messenger of Allah ﷺ gave a speech to the Ansar about the division of war booty collected in the battle of Hunayn, he said to them,«يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي»(O Ansar! Did I not find you misguided and Allah guided you by me, poor and Allah enriched you by me, and divided and Allah united you by me) Every question the Prophet asked them, they said, "Truly, the favor is from Allah and His Messenger." Allah said,وَلَـكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ(But Allah has united them. Certainly He is All-Mighty, All-Wise.)He is the Most Formidable, and the hopes of those who have trust in Him, never end unanswered; Allah is All-Wise in all of His decisions and actions.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

جس قوم سے بدعہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو ٭٭فرمان ہے کہ ” جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو، لڑائی کی اطلاع کر دو۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کر دو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہو جائیں تو تم پھر صلح و صفائی کر لو۔ “ اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کر لی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اختلاف ہو گا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کر لینا۔ [مسند احمد:90/1:ضعیف] ‏ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ محل نظر میں ہے سارا قصہ بدر کا ہے۔ بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ سورۃ براۃ کی آیت سے «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ» [ 9-التوبہ: 29 ] ‏ سے منسوخ ہے کہ لیکن اس میں بھی نظر ہے کیونکہ اس آیت میں جہاد کا حکم طاقت و استطاعت پر ہے لیکن دشموں کی زیادتی کے وقت ان سے صلح کر لینا بلا شک و شبہ جائز ہے جیسے کہ اس آیت میں ہے اور جیسے کہ حدیبیہ کی صلح اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کی۔ پس اس کے بارے میں کوئی نص اس کے خلاف یا خصوصیت یا منسوخیت کی نہیں آئی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے ” اللہ پر بھروسہ رکھ وہی تجھے کافی ہے وہی تیرا مددگار ہے۔ اگر یہ دھوکہ بازی کر کے کوئی فریب دینا چاہتے ہیں اور اس درمیان میں اپنی شان و شوکت اور آلات جنگ بڑھانا چاہتے ہیں تو تو بے فکر رہ اللہ تیرا طرف دار ہے اور تجھے کافی ہے اس کے مقابلے کا کوئی نہیں۔ “ پھر اپنی ایک اعلیٰ نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ ” مہاجرین و انصار سے صرف اپنے فضل سے تیری تائید کی۔“صفحہ نمبر3352” انہیں تجھ پر ایمان لانے تیری اطاعت کرنے کی توفیق دی۔ تیری مدد اور تیری نصرت پر انہیں آمادہ کیا۔ اگرچہ آپ روئے زمین کے تمام خزانے خرچ کر ڈالتے لیکن ان میں وہ الفت وہ محبت پیدا نہ کر سکتے جو اللہ نے خود کر دی۔ ان کی صدیوں پرانی عداوتیں دور کر دیں اور اوس و خزرج انصار کے دونوں قبیلوں میں جاہلیت میں آپس میں خوب تلوار چلا کرتی تھی۔ نور ایمان نے اس عداوت کو محبت سے بدل دیا۔“ جیسے قرآن کا بیان ہے کہ «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ» [ 3-آل عمران: 103 ] ‏ ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم آپس میں اپنے دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل ملادئیے اور اپنے فضل سے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا تم جہنم کے کنارے تک پہنچ گئے تھے لیکن اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت کے لیے اسی طرح اپنی باتیں بیان فرماتا ہے۔“ بخاری و مسلم میں ہے کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اے انصاریو کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں پاکر اللہ کی عنایت سے تمہیں راہ راست نہیں دکھائی؟ کیا تم فقیر نہ تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے امیر کر دیا جدا جدا تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہارے دل ملا دیئے۔ آپ کی ہر بات پر انصار کہتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے بھی زیادہ احسان ہم پر ہے۔ [صحیح بخاری:4330] ‏ الغرض اپنے اس انعام و اکرام کو بیان فرما کر اپنی عزت و حکمت کا اظہار کیا کہ ” وہ بلند جناب ہے اس سے اُمید رکھنے والا نا اُمید نہیں رہتا اس پر توکل کرنے والا سرسبز رہتا ہے اور اپنے کاموں میں اپنے حکموں میں حکیم ہے۔“صفحہ نمبر3353سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے قرابت داری کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے۔ جناب باری سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اگر روئے زمین کے خزانے بھی ختم کر دیتا تو تیرے بس میں نہ تھا کہ ان کے دل ملا دے۔“ شاعر کہتا ہے «‏إِذَا مَتَّ ذُو الْقُرْبَى إِلَيْكَ بِرَحِمِهِ فَغَشَّكَ وَاسْتَغْنَى فَلَيْسَ بِذِي رَحِمِ وَلَكِنَّ ذَا الْقُرْبَى الَّذِي إِنْ دَعَوْتَهُ» تجھ سے دھوکا کرنے والا تجھ سے بےپرواہی برتنے والا تیرا رشتے دار نہیں بلکہ تیرا حقیقی رشتے دار وہ ہے جو تیری آواز پر لبیک کہے اور تیرے دشمنوں کی سرکوبی میں تیرا ساتھ دے۔ اور شاعر کہتا ہے «وَلَقَدْ صَحِبْتُ النَّاسَ ثُمَّ سَبَرْتُهُمْ وَبَلَوْتُ مَا وَصَلُوا مِنَ الأَسْبَابِ فَإِذَا الْقَرَابَةُ لا تُقَرِّبُ قَاطِعًا وَإِذَا الْمَوَدَّةُ أَقْرَبُ الأَنْسَابِ» میں نے تو خوب مل جل کر آزما کر دیکھ لیا کہ قرابت داری سے بھی بڑھ کر دلوں کا میل جول ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں میں نہ جان سکا کہ یہ سب قول سیدنا ابن عباسرضی اللہ عنہ کا ہے یا ان سے نیچے کے راویوں میں سے کسی کا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی یہ محبت راہ حق میں تھی توحید و سنت کی بنا پر تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں احسان کی بھی ناشکری کر دی جاتی ہے لیکن جب اللہ کی جانب سے دل ملا دیئے جاتے ہیں انہیں کوئی جدا نہیں کر سکتا ہے پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت فرمائی۔ عبدہ بن ابی لبابہ فرماتے ہیں میری مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ کر کے فرمایا کہ ”جب دو شخص اللہ کی راہ میں محبت رکھنے والے آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے خندہ پیشانی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے۔“ میں نے کہا یہ کام تو بہت آسان ہے فرمایا ”یہ نہ کہو یہی الفت وہ ہے جس کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر روئے زمین کے خزانے خرچ کر دے تو بھی یہ تیرے بس کی بات نہیں کہ دلوں میں الفت ومحبت پیدا کر دے۔“صفحہ نمبر3354ان کے اس فرمان سے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ مجھ سے بہت زیادہ سمجھ دار ہیں۔ ولید بن ابی مغیث رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے سنا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں میں نے پوچھا صرف مصافحہ سے ہی؟ تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا؟ پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت کی۔ تو ولید رحمہ اللہ نے فرمایا تم مجھ سے بہت بڑے عالم ہو۔ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں سب سے پہلے چیز جو لوگوں میں سے اُٹھ جائے گی و الفت و محبت ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے مل کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے ہوا سے۔ ان کے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں گوہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:6663،] ‏صفحہ نمبر3355

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 62 وَاِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط۔گویا ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضمانت دی جا رہی ہے۔ہُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی مدد اہل ایمان کے ذریعے سے کی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے آپ ﷺ کو ایسے مخلص اور جاں نثار صحابہ عطا کیے کہ جہاں آپ ﷺ کا پسینہ گرا وہاں انہوں نے اپنے خون کی ندیاں بہا دیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس خصوصی امداد کی شان اس وقت خوب نکھر کر سامنے آتی ہے جب ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رض کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کا طرز عمل دیکھتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلو ‘ تو انہوں نے صاف کہہ دیا تھا : فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوْنَ المائدۃ تو جایئے آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا رب دونوں جا کر لڑیں ‘ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیزاری سے یہاں تک کہہ دیا تھا : رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ الاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ اے میرے رب ! میں تو اپنی جان اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا ‘ لہٰذا آپ ہمارے اور اس فاسق قوم کے درمیان علیحدگی کردیں۔ایک طرف یہ طرز عمل ہے جبکہ دوسری طرف نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کا انداز اخلاص اور جذبہ جاں نثاری ہے۔ غزوۂ بدر سے پہلے جب حضور ﷺ نے مقام صفراء پر صحابہ رض سے مشاورت کی اور یہ بڑی کانٹے دار مشاورت تھی تو کچھ لوگ مسلسل زور دے رہے تھے کہ ہمیں قافلے کی طرف چلنا چاہیے اور وہ اپنے اس موقف کے حق میں بڑی زور دار دلیلیں دے رہے تھے ‘ مگر حضور ﷺ ہر بار فرما دیتے کہ کچھ اور لوگ بھی مشورہ دیں ! اس پر مہاجرین میں سے حضرت مقداد رض نے کھڑے ہو کر یہی بات کی تھی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! جدھر آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے اسی طرف چلئے ‘ آپ ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح نہ سمجھئے ‘ جنہوں نے کہہ دیا تھا : فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوْنَ ۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھی ہیں ‘ آپ ﷺ جو حکم دیں ہم حاضر ہیں۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رض نے بھی اظہار خیال فرمایا ‘ لیکن حضور ﷺ انصار کی رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے کہ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انصار نے یہ وعدہ کیا تھا کہ مدینہ پر حملہ ہوا تو ہم آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے ‘ لیکن یہاں معاملہ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا تھا ‘ لہٰذا جنگ کا فیصلہ انصار کی رائے معلوم کیے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ حضرت سعد بن معاذ رض نے آپ ﷺ کی منشا کو بھانپ لیا ‘ لہٰذا وہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ شاید آپ ﷺ کا روئے سخن ہماری انصار کی طرف ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! اس پر انہوں نے کہا : لَقَدْ اٰمَنَّا بِکَ وَصَدَّقْنَاکَ۔۔ ہم آپ ﷺ پر ایمان لا چکے ہیں ‘ ہم آپ ﷺ کی تصدیق کرچکے ہیں ‘ ہم آپ ﷺ کو اللہ کا رسول مان چکے ہیں اور آپ ﷺ سے سمع وطاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں ‘ اب ہمارے پاس آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کے علاوہ کوئی راستہ option نہیں ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ اگر آپ اپنی سواری اس سمندر میں ڈال دیں گے تو ہم بھی آپ کے پیچھے اپنی سواریاں سمندر میں ڈال دیں گے۔ اور خدا کی قسم ‘ اگر آپ ﷺ ہمیں کہیں گے تو ہم برک الغماد یمن کا شہر تک جا پہنچیں گے ‘ چاہے اس میں ہماری اونٹنیاں لاغر ہوجائیں۔ ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپ ﷺ کل ہمیں لے کر دشمن سے جا ٹکرائیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے ‘ مقابلہ میں سچی جاں نثاری دکھائیں گے ‘ اور بعید نہیں کہ اللہ آپ ﷺ کو ہم سے وہ کچھ دکھوا دے جسے دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں۔ پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ﷺ ہمیں لے چلیں ! حضرت سعد رض کی اس تقریر کے بعد حضور ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا اور آپ ﷺ نے بدر کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔ یہ ایک جھلک ہے اس مدد کی جو اللہ کی طرف سے آپ ﷺ کے انتہائی سچے اور مخلص صحابہ رض کی صورت میں حضور ﷺ کے شامل حال تھی۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

After that, in the fourth verse (62), the same subject has been taken up with added clarity where it was said:وَإِن يُرِ‌يدُوا أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّـهُ ۚ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِ‌هِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ ﴿62﴾And if they intend to deceive you, then, Allah is all-sufficient for you. He is the One who supported you with His help and with the believers.It means that should this very probability turn out to be the reality on the ground - that their intention is bad and they stop at nothing short of a deceptive strike against you - even then, you do not have to bother about it because Allah is sufficient as your supporter. This has been true earlier too. Things have worked for the Holy Prophet ﷺ with nothing but the help and support of Allah Ta` ala. He was always there behind him, a fact which is the very basis of his victory and success. Then, it was for everyone to witness that He made a group of Muslims rise around him who became his helping hands in the mission. All these arrangements were the outward causes of the phenomena. The thing to believe is that the real and absolute Master who fused together all causes of victory and success in a visible form shall never leave him alone to be deceived by the enemy even today. It was under this Divine promise when, after the revelation of this verse, it never happened throughout the entire span of his life that any deceit or ambush from his enemies brought any harm to him. Therefore, the scholars of Tafsir have said that this promise for the Holy Prophet ﷺ very much like the promise made in: وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (and Allah shall keep you protected from the people - 5:67) when, after the revelation of this verse, the Holy Prophet ﷺ had asked his noble Companions ؓ who guarded him against any such dangers that they should now feel relieved and forget about their security concerns regarding his person. This tells us that this promise was special to the Holy Prophet ﷺ . (Bayern al-Qur'an) As for others, they should do things in terms of formal arrangements after assessing prevailing conditions.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.