The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Anfal • Ayah 36

Para 9 Surah 8 : 36
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ لِيَصُدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

إِنَّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوا۟
يُنفِقُونَ
أَمْوَٰلَهُمْ
لِيَصُدُّوا۟
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
ۚ
فَسَيُنفِقُونَهَا
ثُمَّ
تَكُونُ
عَلَيْهِمْ
حَسْرَةً
ثُمَّ
يُغْلَبُونَ
ۗ
وَٱلَّذِينَ
كَفَرُوٓا۟
إِلَىٰ
جَهَنَّمَ
يُحْشَرُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Disbelievers spend Their Wealth to hinder Others from Allah's Path, but this will only cause Them GriefMuhammad bin Ishaq narrated that Az-Zuhri, Muhammad bin Yahya bin Hibban, `Asim bin `Umar bin Qatadah, and Al-Husayn bin `Abdur-Rahman bin `Amr bin Sa`id bin Mu`adh said, "The Quraysh suffered defeat at Badr and their forces went back to Makkah, while Abu Sufyan went back with the caravan intact. This is when `Abdullah bin Abi Rabi`ah, `Ikrimah bin Abi Jahl, Safwan bin Umayyah and other men from Quraysh who lost their fathers, sons or brothers in Badr, went to Abu Sufyan bin Harb. They said to him, and to those among the Quraysh who had wealth in that caravan, `O people of Quraysh! Muhammad has grieved you and killed the chiefs among you. Therefore, help us with this wealth so that we can fight him, it may be that we will avenge our losses.' They agreed." Muhammad bin Ishaq said, "This Ayah was revealed about them, according to Ibn `Abbas,إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَلَهُمْ(Verily, those who disbelieve spend their wealth...) until,هُمُ الْخَـسِرُونَ(they who are the losers. )" Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Al-Hakam bin `Uyaynah, Qatadah, As-Suddi and Ibn Abza said that this Ayah was revealed about Abu Sufyan and his spending money in Uhud to fight the Messenger of Allah ﷺ. Ad-Dahhak said that this Ayah was revealed about the idolators of Badr. In any case, the Ayah is general, even though there was a specific incident that accompanied its revelation. Allah states here that the disbelievers spend their wealth to hinder from the path of truth. However, by doing that, their money will be spent and then will become a source of grief and anguish for them, availing them nothing in the least. They seek to extinguish the Light of Allah and make their word higher than the word of truth. However, Allah will complete His Light, even though the disbelievers hate it. He will give aid to His religion, make His Word dominant, and His religion will prevail above all religions. This is the disgrace that the disbelievers will taste in this life; and in the Hereafter, they will taste the torment of the Fire. Whoever among them lives long, will witness with his eyes and hear with his ears what causes grief to him. Those among them who are killed or die will be returned to eternal disgrace and the everlasting punishment. This is why Allah said,فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ(And so will they continue to spend it; but in the end it will become an anguish for them. Then they will be overcome. And those who disbelieve will be gathered unto Hell. )Allah said,لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ(In order that Allah may distinguish the wicked from the good.), meaning recognize the difference between the people of happiness and the people of misery, according to Ibn `Abbas, as `Ali bin Abi Talhah reported from him. Allah distinguishes between those believers who obey Him and fight His disbelieving enemies and those who disobey Him. Allah said in another Ayah,مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good. Nor will Allah disclose to you the secrets of the Ghayb (Unseen).) 3:179, and,أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ(Do you think that you will enter Paradise before Allah (tests) those of you who fought (in His cause) and (also) tests those who are the patient)3:142.Therefore, the Ayah (8:37) means, `We tried you with combatant disbelievers whom We made able to spend money in fighting you,'لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ(in order that Allah may distinguish the wicked from the good, and put the wicked one over another, heap them together) put in a pile on top of each other,فَيَجْعَلَهُ فِى جَهَنَّمَ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَـسِرُونَ(and cast them into Hell. Those! It is they who are the losers.) 8:37, in this life and the Hereafter.قُل لِلَّذِينَ كَفَرُواْ إِن يَنتَهُواْ يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُواْ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الاٌّوَّلِينِ

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

شکست خوردہ کفار کی سازشیں ٭٭قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو ابوسفیان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چنانچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ۔ اسی پر یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» الخ اتری کہ ” بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعث حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا۔ “ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لیے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ اس خواہش کا انجام نا مرادی ہی ہے۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے۔ اس کا کلمہ بلند ہو گا، اس کا بول بالا ہو گا، اس کا دین غالب ہو گا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔صفحہ نمبر3292قولہ تعالیٰ: «لِيَمِيزَ اللَّـهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہلِ سعادت کا امتیاز اہلِ شقاوت سے ہے کہ مومن کافر سے ممتاز ہوجائے گا اور یہ بھی محتمل ہے کہ امتیاز سے مراد آخرت کا امتیاز ہو۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہو گی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہو گی۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہو گی اور دنیا میں بھی۔ فرمان ہے «ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ» [ 10-یونس: 28 ] ‏، ” قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو۔ “ اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [ 30-الروم: 14 ] ‏ ” قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہو جائیں گے“ اور آیت میں ہے «يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ» [ الروم: 43 ] ‏ ” اس دن یہ منتشر ہو جائیں گے “ اور آیت میں ہے «‏وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» [ 36-یس: 59 ] ‏ ” اے گنہگار و تم آج نیک کاروں سے الگ ہو جاؤ۔ “ اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ «لِيَمِيزَ» کا لام تو دلیل ہو سکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہو جائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے؟ چنانچہ فرمان ہے «وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» [ 3-آل عمران: 166، 167 ] ‏، یعنی ” دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہو جائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔ “ اور آیت میں ہے «‏مَّا كَانَ اللَّـهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ» [ 3-آل عمران: 179 ] ‏، یعنی ” اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے۔“صفحہ نمبر3293یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے۔ فرمان ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» [ 3-آل عمران: 142 ] ‏، ” کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا۔ “ سورۃ برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لیے مبتلا کیا ہے اور اس لیے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہو جائے۔ «فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ” خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں۔“صفحہ نمبر3294

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 36 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔قریش کی طرف سے لشکر کی تیاری ‘ سازو سامان کی فراہمی ‘ اسلحہ کی خریداری ‘ اونٹوں ‘ گھوڑوں اور راشن وغیرہ کا بندوبست بھی اس قسم کے انفاق فی سبیل الشیطان اور فی سبیل الشرک کی مثال ہے۔ وہ لوگ گویا شیطان کے راستے کے مجاہدین تھے اور اللہ کی مخلوق کو اس کے راستے سے روکنا ان کا مشن تھا۔ فَسَیُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ط۔ یہ خرچ کرنا ان کے لیے موجب حسرت ہوگا اور یہ پچھتاوا ان کی جانوں کا روگ بن جائے گا کہ اپنا مال بھی کھپا دیا ‘ جانیں بھی ضائع کردیں ‘ لیکن اس پوری کوشش کے باوجود محمد ﷺ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے۔ ان کی یہ حسرتیں اس وقت اور بھی بڑھ جائیں گی جب وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔ بنی اسرائیل کی تفسیر عملی طور پر ان کے سامنے آجائے گی اور وہ مغلوب ہو کر اہل حق کے سامنے ان کے رحم و کرم کی بھیک مانگ رہے ہوں گے۔وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ یعنی ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا ‘ اور جو کفر پر اڑے رہیں گے اور کفر پر ہی ان کی موت آئے گی تو ایسے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

At the end of the verse (36), given there is the evil end of these people in terms of the Hereafter: وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُ‌ونَ (And those who disbelieve shall be gathered into Jahannam).In the verse under study, the mention of an evil end of spending wealth to stop people from following the true faith also includes the disbelievers of today who spend enormous wealth in the name of hospitals, educational institutions and charities only to stop people from following Islam and to attract them to their call for the false. Similarly, also included here are all those who have gone astray, those who spend their wealth to invite people to listen to doubts and superstitions they have generated into the established collective beliefs of Is-lam. But, Allah Ta` a1a has His ways of keeping the faith revealed by Him protected. There are many occasions when it is openly noticed that such people fail to achieve their objective despite having spent huge amount of money and materials.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.