Surah Al-Anfal • Ayah 27
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Reason behind revealing This Ayah, and the prohibition of BetrayalThe Two Sahihs mention the story of Hatib bin Abi Balta`ah. In the year of the victory of Makkah he wrote to the Quraysh alerting them that the Messenger of Allah ﷺ intended to march towards them. Allah informed His Messenger of this, and he sent a Companion to retrieve the letter that Hatib sent, and then he summoned him. He admitted to what he did. `Umar bin Al-Khattab stood up and said, "O Allah's Messenger! Should I cut off his head, for he has betrayed Allah, His Messenger and the believers" The Prophet said,«دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُم»(Leave him! He participated in Badr. How do you know that Allah has not looked at those who participated in Badr and said, Do whatever you want, for I have forgiven you.)However, it appears that this Ayah is more general, even if it was revealed about a specific incident. Such rulings are dealt with by their indications, not the specific reasons behind revealing them, according to the majority of scholars.Betrayal includes both minor and major sins, as well those that affect others. `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas commented on the Ayah,وَتَخُونُواْ أَمَـنَـتِكُمْ(nor betray your Amanat) "The Amanah refers to the actions that Allah has entrusted the servants with, such as and including what He ordained. Therefore, Allah says here,لاَ تَخُونُواْ(nor betray...), `do not abandon the obligations."' `Abdur-Rahman bin Zayd commented, "Allah forbade you from betraying Him and His Messenger, as hypocrites do."Allah said,وَاعْلَمُواْ أَنَّمَآ أَمْوَلُكُمْ وَأَوْلَـدُكُمْ فِتْنَةٌ(And know that your possessions and your children are but a trial.) from Him to you. He grants these to you so that He knows which of you will be grateful and obedient to Him, or become busy with and dedicated to them instead of Him. Allah said in another Ayah,إِنَّمَآ أَمْوَلُكُمْ وَأَوْلَـدُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ(Your wealth and your children are only a trial, whereas Allah! With Him is a great reward.) 64:15,وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً(And We shall make a trial of you with evil and with good.) 21:35,يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تُلْهِكُمْ أَمْوَلُكُمْ وَلاَ أَوْلَـدُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَـسِرُونَ(O you who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosoever does that, then they are the losers.)63:9, and,يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِنَّ مِنْ أَزْوَجِكُمْ وَأَوْلـدِكُمْ عَدُوّاً لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ(O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you (who may stop you from the obedience of Allah); therefore beware of them!) 64:14 Allah said next,وَأَنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ(And that surely with Allah is a mighty reward.) Therefore, Allah's reward, favor and Paradise are better for you than wealth and children. Certainly, among the wealth and children there might be enemies for you and much of them avail nothing. With Allah alone is the decision and sovereignty in this life and the Hereafter, and He gives tremendous rewards on the Day of Resurrection. In the Sahih, there is a Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,«ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ، وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا للهِ، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللهُ مِنْه»(There are three qualities for which whomever has them, he will have tasted the sweetness of faith. (They are:) whoever Allah and His Messenger are dearer to him than anyone else, whoever loves a person for Allah's sake alone, and whoever prefers to be thrown in fire rather than revert to disbelief, after Allah has saved him from it.)Therefore, loving the Messenger of Allah ﷺ comes before loving children, wealth and oneself. In the Sahih, it is confirmed that he said,«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِين»(By He in Whose Hand is my soul! None of you will have faith unless I become dearer to him than himself, his family, his wealth and all people.)
اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو ٭٭کہتے ہیں کہ یہ آیت ابولبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کر دیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتا دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔ اب ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آ گئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گر پڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کر لی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کر لے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15937:مرسل] مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ امیر کو فتنہ و فساد کرکے قتل کردینا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15939:ضعیف] صفحہ نمبر3270حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوسفیان مکے سے چلا جبر ئیل علیہ السلام نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ ابوسفیان فلاں جگہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا اور فرما دیا کہ اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا ،لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔ پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔ بخاری و مسلم میں حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے اپنے قصور کا اقرار کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے خیانت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ [صحیح بخاری:3007] میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔صفحہ نمبر3271عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا، ایک صورت اس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں “۔ یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ «إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» [ 64-التغابن: 15 ] یعنی ” تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے “، مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں اور آیت میں ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ» [ 64-التغابن: 14 ] ” تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بینفع ہوتے ہیں۔“صفحہ نمبر3272اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف و مالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ ” اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہو جانا تمام چیزوں کا فوت ہو جانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ “ صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی [1] جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، [2] جو محض اللہ کے لیے دوستی رکھتا ہو اور [3] جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنامعلوم ہوتا ہو۔ بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔صفحہ نمبر3273
آیت 27 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ اللہ کی امانت میں خیانت یقیناً بہت بڑی خیانت ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی سب سے بڑی امانت اس کی وہ روح ہے جو اس نے ہمارے جسموں میں پھونک رکھی ہے۔ اسی کے بارے میں سورة الاحزاب میں فرمایا گیا : اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلً۔ ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور وہ اس سے ڈر گئے ‘ مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ‘ یقیناً وہ ظالم اور جاہل تھا۔ پھر اس کے بعد دین ‘ قرآن اور شریعت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بڑی بڑی امانتیں ہیں جو ہمیں سو نپی گئی ہیں۔ چناچہ ایمان کا دم بھرنا ‘ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا دعویٰ کرنا ‘ لیکن پھر اللہ کے دین کو مغلوب دیکھ کر بھی اپنے کاروبار ‘ اپنی جائیداد ‘ اپنی ملازمت اور اپنے کیرئیر کی فکر میں لگے رہنا ‘ اللہ اور رسول ﷺ کے ساتھ اس سے بڑی بےوفائی ‘ غداری اور خیانت اور کیا ہوگی !
In the third verse (27), Muslims have been instructed not to commit any breach of trust خِیَانہ (khiyanah) in the dual rights due against them, that is, in the rights of Allah (Huququllah) or in the mutual rights of the servants of Allah as enjoined on each other (Huququl-` Ibad) - either by failing to fulfill them totally, or by fulfilling them in a defective manner leaving one or the other shortcoming behind. Then, by saying: وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (while you know) at the end of the verse, it was stressed that they already knew that breach of trust was an evil conduct lined with many a curse, therefore, going ahead to do something like that was not what an intelligent person would choose to do - and, since the cause of negligence or shortcoming in fulfilling the rights of the servants of Allah is usually one's attachment to property and children, a warning was given in verse 28 by saying:
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.