The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Anfal • Ayah 15

Para 9 Surah 8 : 15
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلْأَدْبَارَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

يَـٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓا۟
إِذَا
لَقِيتُمُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوا۟
زَحْفًا
فَلَا
تُوَلُّوهُمُ
ٱلْأَدْبَارَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Fleeing from Battle is prohibited, and its PunishmentAllah said, while warning against fleeing from the battlefield and threatening those who do it with the Fire,يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ زَحْفاً(O you who believe! When you meet those who disbelieve, in a battlefield,) when you get near the enemy and march towards them,فَلاَ تُوَلُّوهُمُ الأَدْبَارَ(never turn your backs to them.) do not run away from battle and leave your fellow Muslims behind,وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلاَّ مُتَحَرِّفاً لِّقِتَالٍ(And whoever turns his back to them on such a day -- unless it be a stratagem of war...)The Ayah says, whoever flees from the enemy by way of planning to pretend that he is afraid of the enemy, so that they follow him and he takes the chance and returns to kill the enemy, then there is no sin on him. This is the explanation of Sa`id bin Jubayr and As-Suddi. Ad-Dahhak also commented, "Whoever went ahead of his fellow Muslims to investigate the strength of the enemy and make use of it,أَوْ مُتَحَيِّزاً إِلَى فِئَةٍ(or to retreat to a troop (of his own)), meaning he leaves from here to another troop of Muslims to assist them or be assisted by them. So that is allowed for him, or even during the battle if he flees from his brigade to the commander. Or going to the grand Imam, would also fall under this permission."`Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, said about Abu `Ubayd when he was fighting on the bridge in the land of the Persians, because of the many Zoroastrian soldiers, "If he retreated to me then I would be as a troop for him."This is how it was reported by Muhammad bin Sirin from `Umar. In the report of Abu `Uthman An-Nahdi from `Umar, he said: When Abu `Ubayd was fighting, `Umar said, "O people! We are your troop." Mujahid said that `Umar said, "We are the troop of every Muslim." Abdul-Malik bin `Umayr reported from `Umar, "O people! Don't be confused over this Ayah, it was only about the day of Badr, and we are a troop for every Muslim." Ibn Abi Hatim recorded that Nafi` questioned Ibn `Umar, "We are people who are not stationary when fighting our enemy, and we may not know where our troop is, be it that of our Imam or our army."So he replied, "The troop is Allah's Messenger ﷺ." I said but Allah said,إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ زَحْفاًالنَّارِ(when you meet those who disbelieve in the battlefield) to the end of the Ayah . So he said; "This Ayah was about Badr, not before it nor after it."Ad-Dahhak commented that Allah's statement,أَوْ مُتَحَيِّزاً إِلَى فِئَةٍ(or to retreat to a troop), refers to "Those who retreat to the Messenger of Allah ﷺ and his Companions (when the Messenger was alive), and those who retreat in the present time to his commander or companions." However, if one flees for any other reason than those mentioned here, then it is prohibited and considered a major sin. Al-Bukhari and Muslim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said,«اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَات»("Shun the seven great destructive sins.")The people inquired, "O Allah's Messenger! What are they" He said,«الشِّرْكُ بِاللهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَات»((They are:) Joining others in worship with Allah, magic taking life which Allah has forbidden, except for a just cause (according to Islamic law), consuming Riba, consuming an orphan's wealth, fleeing the battlefield at the time of fighting, and false accusation to chaste women, who never even think of anything touching chastity and are good believers.)This is why Allah said here,فَقَدْ بَآءَ(he indeed has drawn upon himself...), and returned with,بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ(wrath from Allah. And his abode...), destination, and dwelling place on the Day of Return,جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ(is Hell, and worst indeed is that destination!)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

شہیدان وفا کے قصے ٭٭جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لیے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لیے بھاگے یا اس طرح لشکر پیچھے ہٹے اور دشمن کو گھات میں لے کر پھر ان پر اچانک چھاپہ مار دے تو بیشک اس کیلئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا میں بھی اس میں ہی تھا لوگوں میں بھگدڑ مچی میں بھی بھاگا ہم لوگ بہت ہی نادم ہوئے کہ ہم اللہ کی راہ سے بھاگے ہیں اللہ کا غضب ہم پر ہے ہم اب مدینے جائیں اور وہاں رات گذار کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوں اگر ہماری توبہ کی کوئی صورت نکل آئے تو خیر ورنہ ہم جنگوں میں نکل جائیں۔ چنانچہ نماز فجر سے پہلے ہم جا کر بیٹھ گئے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا بھاگنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم لوٹنے والے ہو میں تمہاری جماعت ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ ہم نے بےساختہ آگے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ چوم لیے۔ [سنن ترمذي:1716،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ابوداؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہہ کر فرماتے ہیں ہم اسے ابن ابی زیاد کے علاوہ کسی کی حدیث سے پہچانتے نہیں۔صفحہ نمبر3246ابن ابی حاتم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد آپ کا اس آیت «أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ» کا تلاوت کرنا بھی مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:2647،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ابوعبیدہ جنگ فارس میں ایک پل پر گھیر لیے گئے مجوسیوں کے ٹڈی دل لشکروں نے چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیا موقعہ تھا کہ آپ ان میں سے بچ کر نکل آتے لیکن آپ نے مردانہ وار اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ وہاں سے میرے پاس چلے آتے تو ان کے لیے جائز تھا کیونکہ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں مجھ سے مل جانے میں کوئی حرج نہیں اور روایت میں ہے میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ اور روایت میں ہے کہ تم اس آیت کا غلط مطلب نہ لینا یہ واقعہ بدر کے متعلق ہے۔ اب تمام مسلمانوں کیلئے وہ فعتہ جس کی طرف پناہ لینے کے لیے واپس مڑنا جائز ہے، میں ہوں۔ ابن عمر سے نافع نے سوال کیا کہ ہم لوگ دشمن کی لڑائی کے وقت ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ فئتہ سے مراد امام لشکر ہے یا مسلمانوں کو جنگی مرکز آپ نے فرمایا فئتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے اس آیت «إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ» کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا یہ آیت بدر کے دن اتری ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔ «مُتَحَيِّزًا» کے معنی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پناہ لینے والا۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں لشکر کفار سے بھاگ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس پناہ لے اس کے لیے جائز ہے۔ آج بھی امیر اور سالار لشکر کے پاس یا اپنے مرکز میں جو بھی آئے اس کیلئے یہی حکم ہے۔صفحہ نمبر3247ہاں اس صورت کے سوا نامردی اور بزدلی کے طور پر لشکر گاہ سے جو بھاگ کھڑا ہو لڑائی میں پشت دکھائے وہ جہنمی ہے اور اس پر اللہ کا غضب ہے وہ حرمت کے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو [۱] ‏ شرک باللہ [۲] ‏ جادو کرنا [۳] ‏ کسی کو نا حق قتل کردینا [۴] ‏ سود کھانا [۵] ‏ مالِ یتیم کھاجانا [۶] ‏ جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا [۷] ‏ پاک دامن اور بے گناہ عورتوں پر الزام لگانا۔ [صحیح بخاری:2766] ‏ یہ بات اور کئی طرح بھی ثابت ہے کہ یہ آیت بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” وہ بھاگے تو اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر بھاگے گا۔ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔“ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏ . بشر بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیعت کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو بیعت کے لئے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط کی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ» کی گواہی دو، میری رسالت کو مانو، نماز پابندی سے پڑھو، زکواۃ دیتے رہو، حج کرو، رمضان کے روزے رکھو اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروگے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو باتیں میرے لئے دشوار ہیں ایک تو جہاد کہ اگر بہ حالت جنگ کوئی پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہوجائے گا اور مجھے خوف ہے کہ موت سے گھبرا کر کہیں مجھ سے یہ گناہ سرزد نہ ہوجائے۔ دوسرے صدقہ سو اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے غنیمت اور اس کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے اور دس اونٹنیاں ہیں جن کا دودھ دوھ لیا، پیا پلایا، اس پر سواری کرلی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا اس کو ہلایا اور کہا جہاد بھی نہ کرو گے، صدقہ بھی نہ دوگے تو پھر جنت کا استحقاق کیسے حاصل کروگے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے منظور ہے میں ہر شرط پر بیعت کروں گا۔ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏صفحہ نمبر3248طبرانی میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ تین گناہوں کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اللہ کے ساتھ شرک، ماں باپ کی نافرمانی، لڑائی سے بھاگنا، یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1384] ‏ اسی طرح طبرانی میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے دعا «أَسْتَغْفِرُ اللہ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» پڑھ لیا اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں گو وہ لڑائی سے بھاگا ہو۔ [سنن ترمذي:3577،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتاتے ہیں اور نبی کریم کے مولیٰ زید رضی اللہ عنہ اس کے راوی ہیں۔ ان سے اس کے سوا کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ بھاگنے کی حرمت کا یہ حکم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے کہ ان پر جہاد فرض عین تھا اور کہا گیا ہے کہ انصار کے ساتھ ہی مخصوص تھا اسلئے کہ ان کی بیعت سننے اور ماننے کی تھی خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی۔صفحہ نمبر3249ایک قول یہ بھی ہے کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ یہ خاص تھا کیونکہ ان کی کوئی جماعت تھی ہی نہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ اے اللہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو پھر زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ [صحیح مسلم:1763] ‏ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ» سے مراد بدر کا دن ہے اب اگر کوئی اپنی بری جماعت کی طرف آ جائے یا کسی قلعے میں پناہ لے تو میرے خیال میں تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ بدر والے دن جو بھاگے اس کیلئے دوزخ واجب تھی اس کے بعد جنگ احد ہوئی اس وقت یہ آیتیں اتریں «‏إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّـهُ عَنْهُمْ» [ 3- آل عمران: 155 ] ‏ تک۔ اس کے سات سال بعد جنگ حنین ہوئی جس کے بارے میں قرانی ذکر ہے آیت «‏ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» [ 9- التوبہ: 25 ] ‏ یعنی ” پھر اللہ نے جس کی چاہی توبہ قبول فرمائی۔ “ اور آیت میں ہے «ثُمَّ يَتُوبُ اللَّـهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ» [ 9- التوبہ: 27 ] ‏ یعنی ” پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔“ ابوداؤد نسائی مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت بدریوں کے بارے میں اتری ہے [سنن ابوداود:2648،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن یہ یاد رہے کہ گویہ مان لیا جائے کہ سبب نزول اس آیت کا بدری لوگ ہیں مگر لڑائی سے منہ پھیرنا تو حرام ہے جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذرا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں ایک یہ بھی ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر3250

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 15 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا زحف میں باقاعدہ دو لشکروں کے ایک دوسرے کے مد مقابل آکر لڑنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ غزوۂ بدر سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علاقے میں آٹھ مہمات expeditions بھیجی گئی تھیں ‘ مگر ان میں سے کوئی مہم بھی باقاعدہ جنگ کی شکل میں نہیں تھی۔ زیادہ سے زیادہ انہیں چھاپہ مار مہمات کہا جاسکتا ہے ‘ لیکن بدر میں مسلمانوں کی کفار کے ساتھ پہلی مرتبہ دو بدو جنگ ہوئی ہے۔ چناچہ ایسی صورت حال کے لیے ہدایات دی جارہی ہیں کہ جب میدان میں باقاعدہ جنگ کے لیے تم لوگ کفار کے مقابل آجاؤ :فَلاَ تُوَلُّوْہُمُ الْاَدْبَارَ مطلب یہ ہے کہ ڈٹے رہو ‘ مقابلہ کرو۔ جان چلی جائے لیکن قدم پیچھے نہ ہٹیں۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

CommentaryOut of the verses appearing above, the first two (15-16) tell us about a military law of Islam. The word: زحف (zahf) translated here literally as 'marching to battle' denotes the confrontation and intermingling between the two armies. The sense is that once a war is on, turning back and deserting the battlefield is not permissible for Muslims.The second verse (16) refers to an exception to this rule, and to a severe punishment for illegal deserters.

Seerat Event: Death of Abu Jahl at Badr 2 AH (17 Ramadan) AH / 13 March 624 CE

Abu Jahl — the Prophet's most vicious opponent who had called himself "Pharaoh of this nation" — was mortally wounded at Badr by two young Ansar boys, Mu'adh and Mu'awwidh ibn Afra. Abdullah ibn Mas'ud found him dying and he defiantly said "you have not climbed high, little shepherd." He was buried with the Quraysh dead in a pit at Badr.

📍 Location: Badr, Hejaz
🏷️ Category: battle
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: Battle of Badr
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.