Surah Al-A'raf • Ayah 189
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
All Mankind are the Offspring of AdamAllah states that He has created all mankind from Adam, peace be upon him, and from Adam, He created his wife, Hawwa' and from them, people started to spread. Allah said in another Ayah, يأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَـكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَـكُمْ شُعُوباً وَقَبَآئِلَ لِتَعَـرَفُواْ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عَندَ اللَّهِ أَتْقَـكُمْ(O mankind! We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes, that you may know one another. Verily, the most honorable of you with Allah is that (believer) who has Taqwa) 49:13, and, يَـأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا(O mankind! Have Taqwa of your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his wife.)4:1 In this honorable Ayah, Allah said; وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا(And (then) He has created from him his wife, in order that he might enjoy the pleasure of living with her.) so that he is intimate and compassionate with her. Allah said in another Ayah, وَمِنْ ءايَـتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَجاً لِّتَسْكُنُواْ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً(And among His Signs is this, that He created for you wives (spouses) from among yourselves, that you may find repose in them, and He has put between you affection and mercy.) 30:21 Indeed, there is no intimacy between two souls like that between the spouses. This is why Allah mentioned that the sorcerer might be able with his trick to separate between a man and his wife thus indicating the difficulty of separating them in normal circumstances. Allah said next, فَلَمَّا تَغَشَّاهَا(When he covered her) meaning had sexual intercourses with her. حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِيفًا(she became pregnant and she carried it about lightly) in reference to the first stage of pregnancy when the woman does not feel pain, for at that time, the fetus will be just a Nutfah (the mixture of the male and female discharge), then becomes an `Alaqah (a piece of thick coagulated blood) and then a Mudghah (a small lump of flesh). Allah said next, فَمَرَّتْ بِهِ(and she carried it about), she continued the pregnancy, according to Mujahid. It was reported that Al-Hasan, Ibrahim An-Nakha`i and As-Suddi said similarly. Maymun bin Mahran reported that his father said, "She found the pregnancy unnoticeable." Ayyub said, "I asked Al-Hasan about the Ayah, فَمَرَّتْ بِهِ(and she carried it about) and he said, `Had you been an Arab, you would know what it means! It means that she continued the pregnancy through its various stages."' Qatadah said, فَمَرَّتْ بِهِ(and she carried it about (lightly).), means, it became clear that she was pregnant. Ibn Jarir commented, "This Ayah means that the liquid remained, whether she stood up or sat down." Al-`Awfi recorded that Ibn `Abbas said, "The semen remained in, but she was unsure if she became pregnant or not, فَلَمَّآ أَثْقَلَت(Then when it became heavy), she became heavier with the fetus", As-Suddi said, "The fetus grew in her womb." دَّعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ ءَاتَيْتَنَا صَـلِحاً(they both invoked Allah, their Lord (saying): "If You give us a Salih child,) if he is born human in every respect. Ad-Dahhak said that Ibn `Abbas commented, "They feared that their child might be born in the shape of an animal!" while Abu Al-Bakhtri and Abu Malik commented, "They feared that their newborn might not be human." Al-Hasan Al-Basri also commented, "If You (Allah) give us a boy." لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَفَلَمَّآ ءَاتَـهُمَا صَـلِحاً جَعَلاَ لَهُ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَـهُمَا فَتَعَـلَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (we shall indeed be among the grateful. But when He gave them a Salih child, they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them. High be Allah, Exalted above all that they ascribe as partners to Him.) 7:189-190 Ibn Jarir recorded that Al-Hasan commented on this part of the Ayah, جَعَلاَ لَهُ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَـهُمَا(they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them) "This occurred by followers of some religion, not from Adam or Hawwa'." Al-Hasan also said, "This Ayah refers to those among the offspring of Adam who fell into Shirk, جَعَلاَ لَهُ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَـهُمَا(they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them.)" Qatadah said, "Al-Hasan used to say that it refers to the Jews and Christians. Allah gave them children, and they turned them into Jews and Christians." The explanations from Al-Hasan have authentic chains of narration leading to him, and certainly, it is one of the best interpretations. This Ayah should therefore be understood this way, for it is apparent that it does not refer to Adam and Hawa', but about the idolators among their offspring. Allah mentioned the person first Adam and Hawwa' and then continued to mention the species mankind, many of whom committed Shirk. There are similar cases in the Qur'an. For cases, Allah said وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَـبِيحَ(And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps) It is well-known that the stars that were made as lamps in the sky are not the same as the shooting missiles that are thrown at the devils mentioned later in the Ayah. There are similar instances in the Qur'an. Allah knows best.
ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم ٭٭تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف آدم علیہ السلام سے ہی پیدا کیا , انہی سے ان کی بیوی حواء کو پیدا کیا . پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ» [49-الحجرات:13] ” لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے , پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ “ سورۃ نساء کے شروع میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً» [4-النساء:1] ” اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے۔ انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا، پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ “ یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں۔ چنانچہ ایک اور آیت میں ہے: «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً» [30-الروم:21] ” لوگو! یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں بنا دیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کر دی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کر دیتا ہے۔ “ اسی لیے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔ عورت مرد کے ملاپ سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے۔ جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے، وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے، کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اسے تو یونہی کبھی کچھ وہم سا ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گزر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے، حمل ظاہر ہو جاتا ہے، بچہ پیٹ میں بڑا ہو جاتا ہے، طبیعت تھکنے لگتی ہے، اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گزاری کریں گے۔صفحہ نمبر3159ڈر لگتا ہے کہ کہیں کچھ اور بات نہ ہو جائے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور صحیح سالم انسانی شکل و صورت کا بچہ عطا فرمایا تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے، وہ بھی بیان کروں گا۔ پھر جو بات صحیح ہے، اسے بتاؤں گا۔ ان شاءاللہ۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حواء کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا، ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے۔ شیطان نے سکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ [سنن ترمذي:3077، قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں کہتا ہوں، اس حدیث میں کئی کمزوریاں ہیں: ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے، گو امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ لیکن ابن مردویہ رحمہ اللہ نے اسے معمر سے، اس نے اپنے باپ سے، اس نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ دوسرے یہ کہ یہی روایت موقوفاً سمرہ کے اپنے قول سے مروی ہوئی ہے جو کہ مرفوع نہیں۔ ابن جریر رضی اللہ عنہ میں خود سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے کہ ”آدم علیہ السلام نے اپنے لڑکے کا نام عبدالحارث رکھا۔“ تیسرے اس آیت کی تفسیر اس کے راوی حسن سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مرفوع حدیث ان کی روایت کردہ ہوتی تو یہ خود اس کے خلاف تفسیر نہ کرتے۔صفحہ نمبر3160چنانچہ ابن جریر میں ہے , حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا واقعہ نہیں بلکہ بعض مذاہب والوں کا واقعہ ہے۔“ اور روایت میں آپ کا یہ فرمان منقول ہے کہ ”اس سے مراد بعض مشرک انسان ہیں جو ایسا کرتے ہیں،“ فرماتے ہیں کہ ”یہ یہود و نصاریٰ کا فعل بیان ہوا ہے کہ اپنی اولادوں کو اپنی روش پر ڈال لیتے ہیں۔“ یہ سب اسنادیں حسن رحمہ اللہ تک بالکل صحیح ہیں اور اس آیت کی جو کچھ تفسیر کی گئی ہے، اس میں سب سے بہتر تفسیر یہی ہے۔ خیر مقصد یہ تھا کہ اتنا بڑا متقی اور پرہیزگار آدمی ایک آیت کی تفسیر میں، ایک مرفوع حدیث قول پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرے، پھر اس کے خلاف خود تفسیر کرے، یہ بالکل ان ہونی بات ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ وہ سمرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے اسے اہل کتاب سے ماخوذ کیا ہو۔ جیسے کعب، وہب وغیرہ جو مسلمان ہو گئے تھے اس کا بیان بھی سنئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”حواء علیہ السلام کے جو بچے پیدا ہوتے تھے، ان کا نام عبداللہ، عبیداللہ وغیرہ رکھتی تھیں، وہ بچے فوت ہو جاتے تھے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا: اگر تم کوئی اور نام رکھو تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے۔ چنانچہ ان دونوں نے یہی کیا، جو بچہ پیدا ہوا، اس کا نام عبدالحارث رکھا۔“صفحہ نمبر3161اس کا بیان ان آیات میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ان کے دو بچے اس سے پہلے مر چکے تھے، اب حالت حمل میں شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہارے پیٹ میں کیا ہے؟ ممکن ہے، کوئی جانور ہی ہو۔ ممکن ہے، صحیح سالم ہو گا، زندہ رہے گا۔ یہ بھی اس کے بہکاوے میں آ گئے اور عبدالحارث نام رکھا، اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ پہلی دفعہ حمل کے وقت یہ آیا اور انہیں ڈرایا کہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلویا، اب یا تو تم میری اطاعت کرو، ورنہ میں اسے یہ کر ڈالوں گا، وہ کر ڈالوں گا وغیرہ۔ ہر چند ڈرایا مگر انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ اللہ کی شان وہ بچہ مردہ پیدا ہوا۔ دوبارہ حمل ٹھہرا، پھر یہ ملعون پھر آن پہنچا اور اسی طرح خوف زدہ کرنے لگا، اب بھی انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ چنانچہ یہ دوسرا بچہ بھی مردہ ہوا۔ تیسرے حمل کے وقت یہ خبیث پھر آیا، اب کی مرتبہ اولاد کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کی مان لی اور اس کا نام عبدالحارث رکھا۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اثر کو لے کر ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے۔ جیسے مجاہد، سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور دوسرے طبقے میں سے قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ وغیرہ۔ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر اہل کتاب سے لیا گیا ہے۔صفحہ نمبر3162اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جیسے کہ ابن ابی حاتم میں ہے، پس ظاہر ہے کہ یہ اہل کتاب کے آثار سے ہے۔ جن کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان کی باتوں کو نہ سچی کہو نہ جھوٹی۔ [سنن ابوداود:3644، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ان کی روایات تین طرح کی ہیں: ایک تو وہ جن کی صحت ہمارے ہاں کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جن کی تکذیب کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہو۔ تیسرا وہ جس کی بابت کوئی ایسا فیصلہ ہمارے دین میں نہ ملے تو بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس روایت کے بیان میں تو کوئی حرج نہیں۔ [صحیح بخاری:3461] لیکن تصدیق، تکذیب جائز نہیں۔ میرے نزدیک تو یہ اثر دوسری قسم کا ہے یعنی ماننے کے قابل نہیں اور جن صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے، انہوں نے اسے تیسری قسم کا سمجھ کر روایت کر دیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ آدم و حواء کا۔“صفحہ نمبر3163پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ اس شرک سے اور ان کے شریک ٹھہرانے سے بلند و بالا ہے۔ ان آیات میں یہ ذکر اور ان سے پہلے آدم و حواء کا ذکر مثل تمہید کے ہے کہ ان اصلی ماں باپ کا ذکر کر کے پھر اور ماں باپوں کا ذکر ہوا، اور ان ہی کا شرک بیان ہوا۔ ذکر شخص سے ذکر جنس کی طرف استطراد کے طور پر، جیسے آیت «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ» [67-الملك:5] میں ہے یعنی ” ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور انہیں شیطانوں پر انگارے برسانے والا بنایا۔ “ اور یہ ظاہر ہے کہ جو ستارے زینت کے ہیں، وہ جھڑتے نہیں، ان سے شیطانوں کو مار نہیں پڑتی۔ یہاں بھی استطراد تاروں کی شخصیت سے تاروں کی جنس کی طرف ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر3164
آیت 189 ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیْہَا ج۔ اس نکتے کی وضاحت سورة البقرۃ کی آیت 187 وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْص کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات میں جہاں اولاد کا معاملہ ہے وہاں تسکین اور سکون کا پہلو بھی ہے۔فَلَمَّا تَغَشّٰٹہَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِہٖ ج۔ ابتدا میں حمل اتنا خفیف ہوتا ہے کہ پتا بھی نہیں چلتا کہ کوئی حمل ٹھہر گیا ہے۔
The next verse 189 speaks of the most basic belief of Islam that is Tauhid and, at the same time, brings out the falsity of believing in more than one god. In the beginning of the verse Allah سُبحَانہ و تعالیٰ has mentioned the creation of Sayyidna 'Adam and Sayyidah Hawwa' (علیہما السلام) which was a manifestation of His perfect power. The verse said:هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا"He is the One who has created you from a single soul and from him created his wife, so that he may find comfort in her."This manifestation of Allah's great Power should have made mankind more grateful to Allah and they must have abstained from associating partners with Allah, but negligent as they were, they acted differently. Their neglectful attitude has been referred to in this verse and in the next, in these words:فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ ۖ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللَّـهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ﴿189﴾ فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا ۚ فَتَعَالَى اللَّـهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿190﴾"So when he covered her with himself, she carried a light burden and moved about with it. Thereafter, when she grew heavy, they both prayed to Allah, their Lord, "If you bless us with a perfect child, we shall be among the grateful." So, when Allah blessed them with a perfect one, they ascribed partners with Him."That is to say, at the initial stage of pregnancy the woman feels free to move about, but later when fetus grows heavy in her womb, the parents are anxious about their unborn. They are not sure if they would get a perfect child, because there are occasions when new born is not a normal child or is deaf dumb or blind etc. Having such apprehensions, they start praying for a perfect child and make promises with Allah to be grateful to Him if He favours them with a perfect child. Now, when Allah grants their prayers by giving them a normal and healthy baby, they ascribe partners with Allah, and thus their children, themselves, become the source of their misguidance.It happens in a variety of ways. Sometimes they are misled by their false belief that their new born is a gift of some holy or godly person. Sometimes, they devote it to some living or dead person and start making offerings in their names. Some people take their children to them and bow their forehead before them. Sometimes, they involve themselves in Shirk شِرک by naming their children like ` Abdullat عبدَاللات ` Abd ul ` Uzza عبد العُزٰی ` Abdul Shams عَبد الشمس or Bandah ` Ali بَندہِ علی etc., assigning their children to false gods, indicating that these children have been created or gifted by these gods or personalities.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.