The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-A'raf • Ayah 174

Para 9 Surah 7 : 174
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَكَذَٰلِكَ
نُفَصِّلُ
ٱلْـَٔايَـٰتِ
وَلَعَلَّهُمْ
يَرْجِعُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Covenant taken from the Descendants of AdamAllah stated that He brought the descendants of Adam out of their fathers' loins, and they testified against themselves that Allah is their Lord and King and that there is no deity worthy of worship except Him. Allah created them on this Fitrah, or way, just as He said,فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفاً فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِى فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ(So set you (O Muhammad) your face truly towards the religion, Hanifan. Allah's Fitrah with which He has created mankind. No change let there be in Khalqillah.) 30:30 And it is recorded in the Two Sahihs from Abu Hurayrah who said that the Messenger of Allah ﷺ said,«كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُولَدُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاء»(Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian. Just as animals are born having full bodies, do you see any of them having a cutoff nose (when they are born)) . Muslim recorded that `Iyad bin `Himar said that the Messenger of Allah ﷺ said;«يَقُولُ اللهُ: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُم»(Allah said, `I created My servants Hunafa' (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion, prohibiting what I allowed.) There are Hadiths that mention that Allah took Adam's offspring from his loins and divided them into those on the right and those on the left. Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said that the Prophet said,«يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي»(It will be said to a man from the people of the Fire on the Day of Resurrection, `If you owned all that is on the earth, would you pay it as ransom' He will reply, `Yes.' Allah will say, `I ordered you with what is less than that, when you were still in Adam's loins, that is, associate none with Me (in worship). You insisted that you associate with Me (in worship).') This was recorded in the Two Sahihs Commenting on this Ayah (7:172), At-Tirmidhi recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,«لَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَي كَلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هؤُلَاءِ؟ قَالَ: هؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَرَأَىَ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ قَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَالَ:رَبِّ وَكَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهُ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَيْ رَبِّ وَقَدْ وَهَبْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً فَلَمَّا انْقَضَى عُمْرُ آدَمَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ: أَوَ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ: أَوَ لَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ آدَمُ فَنِسَيتْ ذُرِّيَّتُهُ وَخَطِىءَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُه»(When Allah created Adam, He wiped Adam's back and every person that He will create from him until the Day of Resurrection fell out from his back. Allah placed a glimmering light between the eyes of each one of them. Allah showed them to Adam and Adam asked, `O Lord! Who are they' Allah said, `These are your offspring.' Adam saw a man from among them whose light he liked. He asked, `O Lord! Who is this man' Allah said, `This is a man from the latter generations of your offspring. His name is Dawud.' Adam said, `O Lord! How many years would he live' Allah said, `Sixty years.' Adam said, `O Lord! I have forfeited forty years from my life for him.' When Adam's life came to an end, the angel of death came to him (to take his soul). Adam said, `I still have forty years from my life term, don't I' He said, `Have you not given it to your son Dawud' So Adam denied that and his offspring followed suit (denying Allah's covenant), Adam forgot and his offspring forgot, Adam made a mistake and his offspring made mistakes.) At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Sahih, and it was reported from various chains of narration through Abu Hurayrah from the Prophet ". Al-Hakim also recorded it in his Mustadrak, and said; "Sahih according to the criteria of Muslim, and they did not record it." These and similar Hadiths testify that Allah, the Exalted and Most Honored, brought forth Adam's offspring from his loins and separated between the inhabitants of Paradise and those of the Fire. Allah then said,وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَلَسْتَ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى(and made them testify as to themselves (saying): "Am I not your Lord" They said: "Yes!") Therefore, Allah made them testify with themselves by circumstance and words. Testimony is sometimes given in words, such as,قَالُواْ شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا(They will say: "We bear witness against ourselves.") 6:130 At other times, testimony is given by the people themselves, such as Allah's statement,مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُواْ مَسَاجِدَ الله شَـهِدِينَ عَلَى أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ(It is not for the Mushrikin, (polytheists) to maintain the mosques of Allah, while they testify against their own selves of disbelief.) 9:17 This Ayah means that their disbelief testifies against them, not that they actually testify against themselves here. Another Ayah of this type is Allah's statement,وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ(And to that he bears witness (by his deeds). ) 100:7 The same is the case with asking, sometimes takes the form of words and sometimes a situation or circumstance. For instance, Allah said,وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ(And He gave you of all that you asked for.) 14:34 Allah said here,أَن تَقُولُواْ(lest you should say), on the Day of Resurrectionإِنَّا كُنَّا عَنْ هَـذَا(we were of this) of Tawhidغَـفِلِينَأَوْ تَقُولُواْ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَاؤُنَا(unaware. Or lest you should say: "It was only our fathers aforetime who took others as partners in worship along with Allah,") 7:172-173

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1385] ‏ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4775] ‏ حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865] ‏ قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (‏ابن جریر) [مسند احمد:435/3:ضعیف] ‏ اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔صفحہ نمبر3120مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ [صحیح بخاری:3334] ‏ مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد:272/1:صحیح] ‏ یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔صفحہ نمبر3121پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی، اسے پہلے کا وعدہ کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور جو بچپن میں ہی مر گیا، وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔ ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسے نکالیں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے۔ ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا، انہوں نے اقرار کیا، فرشتوں نے شہادت دی۔ اس لیے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15365] ‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا، اس سے اولاد نکلی۔ فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو جنتی ہے، اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں! جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے، انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا۔ [سنن ابوداود:4703،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ (‏ابوداؤد)صفحہ نمبر3122اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ یااللہ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک آدم علیہ السلام کو بہت اچھی لگی۔ پوچھا: یااللہ! یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں، ان کا نام داؤد ہے۔ پوچھا: ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: یااللہ! چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر۔ پس جب آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا: میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتے نے کہا: آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے داؤد کو ہبہ کر دیئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ چونکہ آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے۔ آدم علیہ السلام خود بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم علیہ السلام نے خطا کی، ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ [سنن ترمذي:3076،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث ترمذی میں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح لکھتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے، کوئی کوڑھی ہے، کوئی اندھا ہے، کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یااللہ! اس میں کیا مصلحت ہے؟ فرمایا: یہ کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! ان میں سے یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا: یہ انبیاء ہیں الخ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:8535/5:ضعیف] ‏صفحہ نمبر3123 کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں، یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا ہے۔ انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا: یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15377:حسن بالشواھد] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قصہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے، انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا۔ پھر فرمایا: اے دائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: اے بائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر سب کو ملا دیا۔ کسی نے پوچھا: یہ کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ ان کے لیے اور اعمال ہیں، جنہیں یہ کرنے والے ہیں۔ یہ تو صرف اس لیے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم علیہ السلام میں لوٹا دیا۔ [طبرانی کبیر:7943:ضعیف جداً] ‏ ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ کیا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں، نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے۔ میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں۔ سب نے جواب میں کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ اب جو آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر، غریب، خوبصورت اور اس کے سوا مختلف لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے: کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت میں ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لیے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔صفحہ نمبر3124آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں، ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا۔ جس کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ» [33-الأحزاب:7] ‏ میں ہے۔ اسی عام میثاق کا بیان آیت «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ» [30-الروم:30] ‏ میں ہے۔ اسی لیے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» [53-النجم:56] ‏ اسی کا بیان اس آیت میں ہے «وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ» [7-الأعراف:102] ‏ (‏مسند احمد) مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی اور بہت سے سلف رحمۃ اللہ علیہم سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا۔ ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا۔ جنتی، دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا۔ یہ جن دو احادیث میں ہے، وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں۔ اسی لیے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گزرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں «مِن بَنِي آدَمَ» فرمایا اور «مِن ظُهُورِهِمْ» کہا، ورنہ «مِنْ اٰدَمَ» اور «مِنْ ظَھْرِہِ» ہوتا۔ ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ» [6-الأنعام:165] ‏ ” اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے۔ “ اور جگہ ہے: وہی تمہیں زمین کا خلیفہ بنا رہا ہے۔ اور آیت میں ہے: جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔صفحہ نمبر3125الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے . جیسے آیت «قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا» [6-الأنعام:130] ‏ میں۔ اور شہادت کبھی حال ہوتی ہے۔ جیسے آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] ‏ میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے۔ اس طرح کی آیت «وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ» [100-العاديات:7] ‏ ہے۔ اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے «وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ» [14-إبراهيم:34] ‏ ” اس نے تمہیں تمہارا منہ مانگا دیا۔ “ کہتے ہیں کہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا، جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہیئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولوں کو ہی نہیں مانتے، وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔ اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ اس لیے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا، ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں؟ پھر تفصیل وار آیات کا بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔صفحہ نمبر3126

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 174 وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ اب آئندہ آیات میں ایک شخصیت کا واقعہ تمثیلی انداز میں بیان ہوا ہے ‘ مگر حقیقت میں یہ محض تشبیہہ نہیں ہے بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔ یہ قصہ دراصل ہمارے لیے درس عبرت ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بہت بدنصیب ہے وہ فرد یا قوم جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بیش بہا انعام و اکرام اور قرب خاص سے نوازے ‘ مگر وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کر کے خود کو ان تمام فضیلتوں سے محروم کرلے اور اللہ کی بندگی سے نکل کر شیطان کا چیلہ بن جائے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The next verse 174 said:وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ ﴿174﴾"And this is how we elaborate the verses, so that they may return."That is, Allah has made His signs clear through His elaborate verses to facilitate people to turn back to their pledge and acknowledge Him as their Lord. Any one applying his reason can find the Truth and save himself from everlasting punishment.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.