Surah Al-A'raf • Ayah 145
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Allah chooses Musa and gives Him the TabletsAllah states that He spoke to Musa directly and informed him that He has chosen him above the people of his time, by His Message and by speaking to him. Here we should mention that there is no doubt that Muhammad ﷺ is the chief of all the Children of Adam, the earlier and later ones among them. This is why Allah has chosen him to be the Final and Last Prophet and Messenger, whose Law shall remain dominant and valid until the commencement of the Last Hour. Muhammad's ﷺ followers are more numerous than the followers of all Prophets and Messengers. After Muhammad ﷺ, the next in rank of honor and virtue is Ibrahim upon him be peace,, then Musa, son of `Imran, who spoke to the Most Beneficent directly. Allah commanded Musa, saying,فَخُذْ مَآ ءاتَيْتُكَ(So hold to that which I have given you), of My Speech and conversation with you,وَكُنْ مِّنَ الشَّـكِرِينَ(and be of the grateful) , for it and do not ask for what is beyond your capacity to bear. Allah stated that He has written lessons and exhortation for all things and explanations for all things on the Tablets. It was said that in the Tablets, Allah wrote advice and the details of the commandments for lawful and prohibited matters. The Tablets contained the Tawrah, that Allah described;وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى الْكِتَـبَ مِن بَعْدِ مَآ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الاٍّولَى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ(And indeed We gave Musa -- after We had destroyed the generations of old -- the Scripture as an enlightenment for mankind)28: 43. It was also said that Allah gave Musa the Tablets before the Tawrah, and Allah knows best. Allah said next,فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ(Hold unto these with firmness), be firm on the obedience,وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُواْ بِأَحْسَنِهَا(and enjoin your people to take the better therein.) Sufyan bin `Uyaynah said, "Abu Sa`d narrated to us from `Ikrimah from Ibn `Abbas that "Musa, peace be upon him, was commanded to adhere to the toughest of what was ordained on his people." Allah's statement,سَأُوْرِيكُمْ دَارَ الْفَـسِقِينَ(I shall show you the home of the rebellious), means, you will witness the recompense of those who defy My order and deviate from My obedience, the destruction, demise and utter loss they will suffer.
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے۔ فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل ابراہیم علیہ السلام ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ! جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے، وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے، شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے۔ ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی، اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا: اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت کا انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا۔ یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پا لینے کے بعد کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر3064
آیت 145 وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَۃً وَّتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ ج۔ یعنی شریعت کے تمام بنیادی احکام ان الواح میں درج کردیے گئے تھے۔ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے بنیادی احکام شاہراہ حیات پر انسان کے لیے گویا danger signals کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے کسی پر پیچ پہاڑی سڑک پر سفر کو محفوظ بنانے کے لیے جگہ جگہ danger cautions نصب کیے جاتے ہیں اسی طرح انسانی تمدن کے پیچیدہ راستے پر آسمانی شریعت اپنے احکامات کے ذریعے caution نصب کر کے انسانی تگ و دو کے لیے ایک محفوظ دائرہ مقرر کردیتی ہے تاکہ انسان اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے ‘ اپنی عقل کو بروئے کار لاکر اپنی مرضی اور پسند ناپسند کے مطابق زندگی گزارے۔ اس دائرے کے باہر محرمات ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ ان کے قریب بھی مت جانا : تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَقْرَبُوْہَا ط البقرۃ : 187۔فَخُذْہَا بِقُوَّۃٍ وَّاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِہَا ط۔ کسی بھی حکم پر عمل درآمد کے لیے مختلف درجے ہوتے ہیں۔ یہ عمل درآمد ادنیٰ درجے میں بھی ہوسکتا ہے ‘ اوسط درجے میں بھی اور اعلیٰ درجے میں بھی۔ لہٰذا یہاں مطلب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو ترغیب دیں کہ وہ احکام شریعت پر عمل کرتے ہوئے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں۔ یہی نکتہ ہم مسلمانوں کو بھی قرآن میں بتایا گیا : الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ ط الزمر : 18 یعنی وہ لوگ کلام اللہ کو سنتے ہیں پھر جو اس کی بہترین بات ہوتی ہے اس کو اختیار کرتے ہیں۔ ایک طرز عمل یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں ڈھیل اور رعایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ امتیازی پوزیشن نہ سہی ‘ فرسٹ یا سیکنڈڈویژن بھی نہ سہی ‘ بس pass marks کافی ہیں ‘ لیکن یہ معاملہ دین میں نہیں ہونا چاہیے۔ دینی امور میں عمل کا اچھے سے اچھا اور اعلیٰ سے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی کوشش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم سورة المائدۃ میں بھی پڑھ آئے ہیں : اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ دنیوی امور میں تو ہر شخص ع ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں ! کے نظریے کا حامل نظر آتا ہی ہے ‘ لیکن دین کے سلسلے میں بھی ہر مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس کا آج اس کے کل سے بہتر ہو۔ دینی امور میں بھی وہ ترقی کے لیے حتی الامکان ہر گھڑی کوشاں رہے۔سَاُورِیْکُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ اس سے مرادفلسطین کا علاقہ ہے جس پر حملہ آور ہونے کا حکم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملنے والا تھا۔ بنی اسرائیل کا قافلہ مصر سے نکلنے کے بعد خلیج سویز کو عبور کر کے صحرائے سینا میں داخل ہوا تو خلیج سویز کے ساتھ ساتھ سفر کرتا رہا ‘ یہاں تک کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی کونے میں پہنچ گیا جہاں کوہ طور واقع ہے۔ یہاں پر اس قافلے کا طویل عرصے تک قیام رہا۔ یہیں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر طلب کیا گیا اور جب آپ علیہ السلام تورات لے کر واپس آئے تو آپ علیہ السلام کو فلسطین پر حملہ آور ہونے کا حکم ملا۔ چناچہ یہاں سے یہ قافلہ خلیج عقبہ کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف عازم سفر ہوا۔ بنی اسرائیل سات آٹھ سو سال قبل حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت پر فلسطین چھوڑ کر مصر میں آب سے تھے۔ اب فلسطین میں وہ مشرک اور فاسق قوم قابض تھی جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ سخت اور زور آور لوگ ہیں۔ چناچہ جب ان کو حکم ملا کہ جا کر اس قوم سے جہاد کرو تو انہوں نے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کردی کہ ایسے طاقتور لوگوں سے جنگ کرنا ان کے بس کی بات نہیں : قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْہَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَق المائدۃ : 22 اس واقعے کی تفصیل سورة المائدۃ میں گزر چکی ہے۔ یہاں اسی مہم کا ذکر ہو رہا ہے کہ میں عنقریب تم لوگوں کو اس سر زمین کی طرف لے جاؤں گا جو تمہارا اصل وطن ہے لیکن ابھی اس پر فاسقوں کا قبضہ ہے۔ ان نافرمان لوگوں کے ساتھ جنگ کر کے تم نے اپنے وطن کو آزاد کرانا ہے۔
The last sentence is سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِين . "I will show you the abode of the sinners". This is a kind of promise by Allah that the Israelites shall soon take over Egypt or perhaps Syria, referred to as the abode of the sinners in this verse. There are two views about the reference to the abode of the sinners. The first holds that the reference has been made to Egypt while the second takes it to refer to Syria. The difference of opinion is, in fact, based on a question whether the Israelites had returned to Egypt after the destruction of Pharaoh and his people or not. If they went back to Egypt at that time and ruled the land, as has been indicated by the verse 137 saying that Allah made the Israelites inherit the land, then, this verse definitely has referred to Syria, as the abode of the sinners. It is because, in this case, the Israelites had taken over the land of Egypt before this event of Allah's light appearing to the Mount of Sinai. In case, they did not go to Egypt after the destruction of Pharaoh, the reference may be to Egypt and Syria, both.The phrase وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ “ And we wrote for him everything on the Tablets” makes us understand that the Torah was given to the Prophet Musa علیہ السلام inscribed or written on the Tablets. (1)(1) Another view with regard to these tablets is that these tablets were given to him prior to the revelation of the Torah and were not the part of the Torah. This has been cited by Allama Shabbir Ahmad Usmani under his comments on this verse. He has cited it from Ibn Kathir. (Translator)
After the crossing, Allah commanded Musa to come to Mount Sinai for forty nights to receive the Torah (tablets). During this absence the Samaritan (al-Samiri) crafted the golden calf and the people deviated. When Musa returned with the tablets containing guidance and detail for everything (7:145), he found his community in apostasy. The Quran describes the tablets as containing guidance and mercy for those who feared their Lord.
וַיְדַבֵּ֣ר אֱלֹהִ֔ים אֵ֛ת כׇּל־הַדְּבָרִ֥ים הָאֵ֖לֶּה לֵאמֹֽר׃ {ס}
"God spoke all these words,athese words Tradition varies as to the division of the Commandments in vv. 2–14, and as to the numbering of the verses from 2 on. Cf. note at Deut. 5.6. saying:"
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.