Surah Al-A'raf • Ayah 136
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The People of Fir`awn drown in the Sea; the Children of Israel inherit the Holy LandAllah states that when the people of Fir`awn rebelled and transgressed, even though He inflicted them with consecutive signs, one after another, He took retribution from them by drowning them in the sea that Musa parted by Allah's power, and he and the Children of Israel passed through. In their pursuit, Fir`awn and his soldiers went in the sea chasing Musa and his people. When they all had gone inside the water, the sea closed in on them and they all drowned, because they belied the Ayat of Allah and were heedless of them. Allah said that He has granted the people who were considered weak, the Children of Israel, to inherit the eastern and western parts of the land. Al-Hasan Al-Basri and Qatadah commented that Allah's statement, مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا(...the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed.) refers to the Sham area (Greater Syria). Also, Mujahid and Ibn Jarir said that Allah's statement, وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِى إِسْرءِيلَ بِمَا صَبَرُواْ(And the fair Word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel, because of their endurance.) is explained by Allah's other statement, وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ - وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِى الاٌّرْضِ وَنُرِىَ فِرْعَوْنَ وَهَـمَـنَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَحْذَرونَ (And We wished to do a favor to those who were weak (and oppressed) in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors. And to establish them in the land, and We let Fir`awn and Haman and their hosts receive from them that which they feared) 28:5-6. Further, Allah's statement, وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ(And We destroyed what Fir`awn and his people produced,) meaning, We destroyed what Fir`awn and his people produced, such as agriculture and buildings. وَمَا كَانُواْ يَعْرِشُونَ(and what they erected.) Ibn `Abbas and Mujahid said that يَعْرِشُونَ(they erected) means, they built.
انجام سرکشی ٭٭جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔ بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔صفحہ نمبر3052
آیت 134 وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ ج۔ لَءِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ اگر تم نے ہم سے اس عذاب کو ہٹا دیا تو ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے آمَنَ کے ساتھ جب ل کا صلہ آتا ہے جیسے لَکَ تو اس سے مراد عقیدہ والا ایمان نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس طرح کسی کی بات کو سرسری انداز میں ماننے کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ کا مطلب ہے کہ ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ جب ب کا صلہ آئے ‘ جیسا کہ آمَنْتُ باللّٰہِ وَمَلآءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ میں ہے تو اس کے معنی پورے وثوق ‘ یقین اور گہرے اعتماد کے ساتھ ماننے کے ہوتے ہیں ‘ یعنی ایمان لانا۔وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ مصر میں بنی اسرائیل کی حیثیت حکمران خاندان کے غلاموں کی سی تھی۔ فراعنہ ان سے مشکل اور بھاری کام بیگار میں کرواتے تھے۔ اہرام مصر کی تعمیر کے دوران نہ جانے کتنے ہزار اسرائیلی اس بےرحم مشقت کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ان کی ہڈیاں اہرام مصر کی بنیادوں میں دفن ہوگئیں۔ اہراموں کی تعمیر کے دوران سینکڑوں من وزنی چٹانیں اوپر کھینچی جاتی تھیں۔ اس دوران اگر کوئی چٹان نیچے گر جاتی تو اس کے نیچے سینکڑوں اسرائیلی پس جاتے۔ چونکہ وہ لوگ فرعون کے مفت کے کارندے تھے لہٰذا وہ ان کو آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا۔ لیکن ان آیات سے پتا چلتا ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والے عذاب سہہ سہہ کر فرعون اور اس کے امراء کا غرور وتکبر کچھ کم ہوا تھا۔ چناچہ جب وہ لوگ زیادہ عاجز آجاتے تھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ وعدہ بھی کرتے تھے کہ اگر یہ مصیبت ٹل جائے تو ہم آپ علیہ السلام کی بات مان لیں گے اور آپ علیہ السلام کی قوم کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔
The sixth punishment has been mentioned in the Qur'an by the Arabic word: رِجز 'Rijz' which signifies plague or pestilence. The number of Egyptians killed in this plague is reported to have been more than seventy thousand. They were relieved of this punishment by the prayer of the prophet Musa (علیہ السلام) . Again they broke their promise as before. Now, when they showed no sign of understanding they were finally caught by the last punishment - the death. Leaving behind all their lands, houses and possessions they chased the prophet Musa (علیہ السلام) and his people and were drowned in the sea.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.