Surah Al-A'raf • Ayah 127
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Fir`awn vows to kill the Children of Israel, Who complain to Musa; Allah promises Them VictoryAllah mentions the conspiracy of Fir`awn and his people, their ill intentions and their hatred for Musa and his people. وَقَالَ الْمَلأ مِن قَوْمِ فِرْعَونَ(The chiefs of Fir`awn's people said), to Fir`awn, أَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ("Will you leave Musa and his people"), will you let them be free, لِيُفْسِدُواْ فِى الاٌّرْضِ("to spread mischief in the land"), spreading unrest among your subjects and calling them to worship their Lord instead of you Amazingly, these people were worried that Musa and his people would cause mischief! Rather, Fir`awn and his people are the mischief-makers, but they did not realize it. They said, وَيَذَرَكَ وَءالِهَتَكَ("and to abandon you and your gods") `Your gods', according to Ibn `Abbas, as As-Suddi narrated from him, "Were cows. Whenever they saw a beautiful cow, Fir`awn would command them to worship it. This is why As-Samiri, made the statue of a calf that seemed to moo for the Children of Israel." Fir`awn accepted his people's recommendation, saying, سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْيِـى نِسَآءَهُمْ("We will kill their sons, and let their women live") thus reiterating his previous order concerning the Children of Israel. He had tormented them killing every newly born male before Musa was born, so that Musa would not live. However, the opposite of what Fir`awn sought and intended occurred. The same end struck Fir`awn that he intended to subjugate and humiliate the Children of Israel with. Allah gave victory to the Children of Israel, humiliated and disgraced Fir`awn, and caused him to drown along with his soldiers. When Fir`awn insisted on his evil plot against the Children of Israel, قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُواْ بِاللَّهِ وَاصْبِرُواْ(Musa said to his people: "Seek help in Allah and be patient") and promised them that the good end will be theirs and that they will prevail, saying, إِنَّ الأَرْضَ للَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَـقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَقَالُواْ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا("Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for the pious and righteous persons." They said: "We suffered troubles before you came to us, and since you have come to us.") The Children of Israel replied to Musa, `they (Fir`awn and his people) inflicted humiliation and disgrace on us, some you witnessed, both before and after you came to us, O Musa'! Musa replied, reminding them of their present situation and how it will change in the future, عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ("It may be that your Lord will destroy your enemy. ..") encouraging them to appreciate Allah when the afflictions are removed and replaced by a bounty.
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہیئے۔ اللہ کی شان دیکھئے! یہ کیسے مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ «وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6] اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔ بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔صفحہ نمبر3037الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔ پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔صفحہ نمبر3038
آیت 127 وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَاٰلِہَتَکَ ط جس نئے نظریے کا پرچار وہ کر رہے ہیں اگر وہ لوگوں میں مقبول ہوتا گیا اور اس نظریے پر لوگ اکٹھے اور منظم ہوگئے تو ہمارے خلاف بغاوت پھوٹ پڑے گی۔ اس طرح ملک میں فساد پھیلنے کا سخت اندیشہ ہے۔یہاں پہ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قوم فرعون کے معبود بھی تھے۔ ان کا سب سے بڑا الٰہ تو سورج تھا۔ لہٰذا معاملہ یہ نہیں تھا کہ وہ خدا صرف فرعون کو مانتے تھے۔ فرعون کی خدائی سیاسی تھی ‘ اس کا دعویٰ تھا کہ حکومت میری ہے ‘ اقتدارو اختیار sovereignty کا مالک میں ہوں۔ نمرود کی خدائی کا دعویٰ بھی اسی طرح کا تھا۔ باقی پوجا پاٹ کے لیے کچھ معبود فرعون اور اس کی قوم نے بھی بنا رکھے تھے جن کے چھوٹ جانے کا انہیں خدشہ تھا۔ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَ ہُمْ وَنَسْتَحْیٖ نِسَآءَ ہُمْ ج یہ آزمائش ان پر ایک دفعہ پہلے بھی آچکی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے قبل جو فرعون برسر اقتدار تھا اس نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر میں اس کے نجومیوں نے اسے بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچے کی پیدائش ہونے والی ہے جو بڑا ہو کر آپ کی حکومت ختم کر دے گا۔ چناچہ اس خدشے کے پیش نظر فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو پیدا ہوتے ہی قتل کردیا جائے اور صرف لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ تقریباً چالیس ‘ پینتالیس سال بعد اب پھر یہ مرحلہ آگیا کہ جب موجودہ فرعون کے سرداروں نے اس کی توجہ اس طرف دلائی کہ جسے تم مشت غبار سمجھ رہے ہو وہ بڑھتے بڑھتے اگر طوفان بن گیا تو پھر کیا کرو گے ؟ اگر اس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تمہارے خلاف ایک تحریک کی شکل میں منظم کرلیا تو پھر ان کو دبانا مشکل ہوجائے گا۔ لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ nip the evil in the bud کے اصول کے تحت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا جائے ‘ لیکن فرعون کے دل میں اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے محبت ڈالی ہوئی تھی۔ کیونکہ یہ وہی فرعون تھا جس کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں کا سا رشتہ تھا ‘ جس کی وجہ سے اس کے دل میں آپ علیہ السلام کے لیے طبعی محبت ابھی بھی موجود تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے آپ علیہ السلام کو قتل کرنے کے بارے میں نہیں سوچا ‘ بلکہ اس کے بجائے اس نے بنی اسرائیل کو دبانے کے لیے پھر سے اپنے باپ کا پرانا حکم نافذ کرانے کا عندیہ دے دیا کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرتے رہیں گے تاکہ موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم سے اجتماعی افرادی قوت مہّیا نہ ہو سکے۔وَاِنَّا فَوْقَہُمْ قٰہِرُوْنَ ۔ گویا اب درباریوں اور امراء کا حوصلہ بڑھانے کے انداز میں کہا جا رہا ہے کہ تم کیوں گھبراتے ہو ‘ ہم پوری طرح ان پر چھائے ہوئے ہیں ‘ یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
Pharaoh was frightenedIt is to be noted that the Pharaoh was in some degree successful in keeping his ignorant people in their former ignorance through his clever and false statements, but at the same time, they strangely noted that all the fury and rage of Pharaoh was limited to the sorcerers only. He did not dare say a word against the prophets Musa (علیہ السلام) and Harun who were his real opponents. This is obvious from the following statement of his people: أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ ۚ"Do you leave Musa (علیہ السلام) and his people alone to spread disorder in the land, even when he abandons you and your gods?"Pharaoh had no convincing answer to this question. He only said, سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ "We shall slaughter their sons and let their women live, and we have full power over them."According to the commentators of the Holy Qur'an, Pharaoh tried to satisfy his people saying that by killing their males and leaving their women alive, he shall totally eliminate them within a period of time. Their women shall be spared to serve his people as maid servants. In fact, Pharaoh was so frightened by the miracle of the prophet Musa (علیہ السلام) that even at this occasion when he was threatening to kill all the men of Israelites, he could not utter a single word of threat against Musa and Harun (علیہ السلام) Maulana Rumi said:ھر کہ ترسید از حق وتقوی گزیدترسید ازوی جن و انس و ھر کہ دید"Whoever adopts 'Taqwa' and fears Allah is feared by all human beings and spirits" .The above statement of Pharaoh's people, 'Even when he abandons you and your gods' makes us understand that Pharaoh himself used to worship other gods, even though he claimed to be the god of his people. The law about killing of the males of the Israelites and leaving their women alive was now promulgated the second time. The first time it was put into force prior to the birth of the prophet Musa (علیہ السلام) . He was witnessing the failure of this law up to this day which was evident from the huge crowd of the Israelites present at this occasion. When Allah intends to bring disgrace to a people, all they contrive leads to nothing but disaster. We shall soon see that this tyranny and oppression, at last, led him and his people to an ignominious end.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.