Surah Al-A'raf • Ayah 105
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
وَقَالَ مُوسَى يَفِرْعَوْنُ إِنَّى رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ (And Musa said: "O Fir`awn! Verily, I am a Messenger from the Lord of all that exists".) meaning Musa said, `the one Who sent me is the Creator, Lord and King of all things,' حَقِيقٌ عَلَى أَن لاَ أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلاَّ الْحَقَّ("Proper it is for me that I say nothing concerning Allah but the truth. ") `It is incumbent and a duty for me to convey only the Truth from Him, because of what I know of His might and power.' قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ("Indeed I have come unto you from your Lord with a clear proof.") `I brought unequivocal evidence that Allah gave me to prove that I am conveying the truth to you,' فَأَرْسِلْ مَعِىَ بَنِى إِسْرَءِيلَ("So let the Children of Israel depart along with me.") means, release them from your slavery and subjugation. Let them worship your Lord and their Lord. They are from the offspring of an honorable Prophet, Isra'il, who is Ya`qub son of Ishaq son of Ibrahim, the Khalil (intimate friend) of Allah. قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِـَايَةٍ فَأْتِ بِهَآ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ (Fir`awn said: "If you have come with a sign, show it forth, if you are one of those who tell the truth.") Fir`awn said, `I will not believe in what you have said nor entertain your request'. Therefore, he said, `if you have proof, then produce it for us to see, so that we know if your claim is true.'
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔صفحہ نمبر3010
آیت 105 حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لآَّ اَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ الاَّ الْحَقَّ ط فرعون کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی اجنبی آدمی نہیں تھے۔ آپ علیہ السلام اس کے ساتھ ہی شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت جو فرعون برسر اقتدار تھا وہ اس فرعون کا باپ تھا اور اسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بچپن میں بچایا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا تھا۔ وہ صندوق فرعون کے محل کے پاس ساحل پر آ لگا تھا اور محل کے ملازمین نے اسے اٹھا لیا تھا۔ فرعون کو پتا چلا تو وہ اسرائیلی بچہ سمجھ کر آپ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوا ‘ مگر اس کی بیوی نے اسے یہ کہہ کر باز رکھا تھا کہ ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں گے ‘ یہ ہمارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا : قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ ط القصص : 9 کیونکہ اس وقت تک ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ چناچہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ بعد میں اس کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا بیٹا تقریباً ہم عمر تھے ‘ وہ دونوں اکٹھے محل میں پلے بڑھے تھے اور ان کے درمیان حقیقی بھائیوں جیسی محبت تھی ‘ بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیثیت بڑے بھائی کی تھی۔ جب بڑا فرعون بوڑھا ہوگیا تو اس نے اپنی زندگی میں ہی اقتدار اپنے بیٹے کے سپرد کردیا تھا۔ چناچہ جس فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا یہ وہی تھا جس کے ساتھ آپ علیہ السلام شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔ ابھی کچھ ہی برس پہلے آپ علیہ السلام یہاں سے مدین گئے تھے اور پھر مدین سے واپس آ رہے تھے تو آپ علیہ السلام کو نبوت اور رسالت ملی اس کی پوری تفصیل آگے جا کر سورة طٰہٰ اور سورة القصص میں آئے گی۔ اس پس منظر میں فرعون کے ساتھ آپ علیہ السلام کا بات کرنے کا انداز بھی کسی عام آدمی جیسا نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے بڑے واضح اور بےباک انداز میں فرعون کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو ! میرا یہ منصب نہیں اور یہ بات میرے شایان شان نہیں کہ میں تم سے کوئی لایعنی اور جھوٹی بات کروں۔قَدْ جِءْتُکُمْ بِبَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ بنی اسرائیل حضرت یوسف علیہ السلام کی وساطت سے فلسطین سے آکر مصر میں اس وقت آباد ہوئے تھے جب یہاں ایک عربی النسل خاندان کی حکومت تھی۔ اس خاندان کے بادشاہ چروا ہے بادشاہ Hiksos Kings کہلاتے تھے۔ ان کے دور حکومت میں حضرت یوسف علیہ السلام کے احترام کی وجہ سے بنی اسرائیل کو معاشرے میں ایک خصوصی مقام حاصل رہا اور وہ صدیوں تک عیش و عشرت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کے بعد کسی دور میں مصر کے اندر قوم پرست عناصر کے زیر اثر انقلاب آیا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں حکمران خاندان کو ملک بدر کردیا گیا اور یہاں قبطی قوم کی حکومت قائم ہوگئی۔ یہ لوگ مصر کے اصل باشندے تھے۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ تبدیلی بڑی منحوس ثابت ہوئی۔ سابق شاہی خاندان کے چہیتے ہونے کی وجہ سے وہ قبطی حکومت کے زیر عتاب آگئے اور ان کی حیثیت اور زندگی بتدریج پست سے پست اور سخت سے سخت ہوتی چلی گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں یہ لوگ مصر میں غلامانہ زندگی گزار رہے تھے ‘ بلکہ فرعونوں کی طرف سے آئے روز ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ یہ وہ حالات تھے جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلا کر واپس فلسطین لائیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دیا جائے۔
In the light of these clear signs he must believe him and let the children of Isra'il go with him free of his illegitimate surveillance.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.