The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Haqqah • Ayah 42

Para 29 Surah 69 : 42
وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَلَا
بِقَوْلِ
كَاهِنٍ
ۚ
قَلِيلًا
مَّا
تَذَكَّرُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Qur'an is the Speech of AllahAllah swears by His creation, in which some of His signs can be seen in His creatures. These also indicate the perfection of His Names and Attributes. He then swears by the hidden things that they cannot see. This is an oath swearing that the Qur'an is His Speech, His inspiration and His revelation to His servant and Messenger, whom He chose to convey His Message, and the Messenger carried out this trust faithfully. So Allah says,فَلاَ أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ - وَمَا لاَ تُبْصِرُونَ - إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ(So I swear by whatsoever you see, and by whatsoever you see not, that this is verily the word of an honored Messenger.) meaning, Muhammad ﷺ. Allah gave this description to him, a description which carries the meaning of conveying, because the duty of a messenger is to convey from the sender. Therefore, Allah gave this description to the angelic Messenger in Surat At-Takwir, where he said,إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ(Verily, this is the Word of (this Qur'an brought by) a most honorable messenger. Owner of power (and high rank) with Allah, the Lord of the Throne. Obeyed and trustworthy.) (81:19-21) And here, it refers to Jibril. Then Allah says,وَمَا صَـحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ(and your companion is not a madman. ) (81:22) meaning, Muhammad ﷺ.وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ(And indeed he saw him in the clear horizon.) (81:23) meaning, Muhammad ﷺ saw Jibril in his true form in which Allah created him.وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ(And he is not Danin with the Unseen.) (81:24) meaning, suspicious.وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَـنٍ رَّجِيمٍ(And it (the Qur'an) is not he word of the outcast Shaytan.) (81:25) This is similar to what is being said here.وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَّا تُؤْمِنُونَ - وَلاَ بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ(It is not the word of a poet, little is that you believe! Nor is it the word of soothsayer, little is that you remember!) So in one instance Allah applies the term messenger to the angelic Messenger and in another instance He applies it to the human Messenger (Muhammad ﷺ). This is because both of them are conveying from Allah that which has been entrusted to them of Allah's revelation and Speech. Thus, Allah says,تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ(This is the revelation sent down from the Lord of all that exists.)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ‏، یعنی ” یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ “، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ” تمہارے ساتھی یعنی محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ “ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ” نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ “ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ” یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ “ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ” یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے “ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ” یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے “، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔‏“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531] ‏ پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» صفحہ نمبر9777

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 40{ اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ۔ } ”یہ قول ہے ایک رسول کریم کا۔“ اصل میں تو یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سنا۔ پھر حضرت جبرائیل سے حضرت محمد ﷺ نے سنا اور اب وہ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ چناچہ ایک لحاظ سے یہ جبرائیل علیہ السلام کا قول تھا اور دوسرے لحاظ سے حضور ﷺ کا قول۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُ‌ونَ وَمَا لَا تُبْصِرُ‌ونَ (I swear by what you see, and what you do not see….69:38-39). This comprehends the entire body of creation. Some say 'what you do not see' refers to the Being of Allah Ta` ala and His attributes. Others say 'what you see' refers to things of the mortal world, and 'what you do not see,' refers to things of the Hereafter. [ Mazhari ] And Allah, the Pure and Exalted, Knows best!

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.