Surah Al-Haqqah • Ayah 23
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Happiness of the Person Who will receive His Book in His Right Hand and His Good SituationAllah informs of the happiness of those who receive their Book in the right hand on the Day of Judgement and being pleased with this. Out of his extreme pleasure is his saying to everyone that he meets,هَآؤُمُ اقْرَؤُاْ كِتَـبيَهْ(Here! read my Record!) meaning, `take my Book and read it.' He will say this because he knows that what is in it is good and purely virtuous deeds. He will be of those whom Allah replaced their bad deeds (evils) with good deeds. `Abdur-Rahman bin Zayd said, "The meaning ofهَآؤُمُ اقْرَؤُاْ كِتَـبيَهْ(Here! read my Record!) is `Here, read my Book.'... The suffix `Um' is a grammatical addition." This is what he (`Abdur-Rahman) said. It seems apparent that the suffix `Um' means here `you all.' Ibn Abi Hatim recorded that `Abdullah bin `Abdullah bin Hanzalah - and he (Hanzalah) was the Companion who was washed by the angels for his funeral - said, "Verily, Allah will stop His servant on the Day of Judgement and He will make his sins appear on the outside of his Book of Records. Then He will say to him, `Did you do this' The servant will respond, `Yes my Lord.' Then Allah will say to him, `I will not expose you (or dishonor you) for it, for verily, I have forgiven you. ' The person will then say, `Here (you all) read my Book!"'إِنِّى ظَنَنتُ أَنِّى مُلَـقٍ حِسَابِيَهْ(Surely, I did believe that I shall meet my account!) This will be when he (the servant of Allah) will be saved from being disgraced and exposed on the Day of Judgement. In the Sahih, it is recorded from Ibn `Umar that he was asked about the private counsel. He responded by saying that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,«يُدْنِي اللهُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ كُلِّهَا، حَتْى إِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ قَالَ اللهُ تَعَالى: إِنِّي سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، ثُمَّ يُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ بِيَمِينِهِ. وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَيَقُولُ الْأَشْهَادُهَـؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ»(Allah will bring the servant close (to Him) on the Day of Judgement and make him confess all of his sins. This will continue until the servant thinks that he is about to be destroyed. Then Allah will say, "Verily, I have concealed these sins for you in the worldly life and I have forgiven you for them today." Then he will be given his Book of good deeds in his right hand. However, about the disbeliever and the hypocrite, the witnesses will say, ("These are those who lied on their Lord, and verily, the curse of Allah is on the wrongdoers.")) Allah's statement,إِنِّى ظَنَنتُ أَنِّى مُلَـقٍ حِسَابِيَهْ(Surely, I did believe that I shall meet my account!) means, `I used to be certain in the worldly life that this day would definitely come.' This is as Allah says,الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَـقُوا رَبِّهِمْ((They are those) who are certain that they are going to meet their Lord.) (2:46) Allah then says,فَهُوَ فِى عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ(So he shall be in a life, well-pleasing.) (69:21) meaning, pleasant.فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍ(In a lofty Paradise,) meaning, having elevated castles, beautiful wide-eyed maidens, pleasant stations and eternal joy. It has been confirmed in the Sahih that the Prophet said,«إِنَّ الْجَنَّةَ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْض»(Verily, Paradise has one hundred levels and between each level is a distance like the distance between the earth and the sky.) Then Allah says,قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ(The fruits in bunches whereof will be low and near at hand.) Al-Bara' bin `Azib said, "This means close enough for one of them (the people of Paradise) to reach them while he is lying on his bed." More than one person has said this. Then Allah says,كُلُواْ وَاشْرَبُواْ هَنِيئَاً بِمَآ أَسْلَفْتُمْ فِى الاٌّيَّامِ الْخَالِيَةِ(Eat and drink at ease for that which you have sent on before you in days past!) meaning, this will be said to them as an invitation to them of blessing, favor and goodness. For verily, it has been confirmed in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said,«اعْمَلُوا وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّة»(Work deeds, strive, seek to draw near (to Allah) and know that none of you will be admited into Paradise because of his deeds.) They (the Companions) said, "Not even you O Messenger of Allah" He replied,«وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»(Not even me, except if Allah covers me with mercy from Himself and grace. )
دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ” بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ “ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ “ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔صفحہ نمبر9755سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ” اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا “، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» [11-ھود:18] ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا “ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ [صحیح بخاری:2441] ۔ پھر فرماتا ہے کہ ” یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے “، جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» [2-البقرۃ:46] یعنی ” انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں “۔ فرمایا ” ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی “۔ ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ ۔ [المیزان:3298:ضعیف] ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں ۔ [صحیح بخاری:2790] پھر فرماتا ہے ” اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے “، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ ۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف] صفحہ نمبر9756بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] پھر فرمایا ” انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے “۔ اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ ۔ [صحیح بخاری:6467] صفحہ نمبر9757
آیت 21 { فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ۔ } ”پس وہ پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔“ وہ خوش نصیب دل پسند عیش میں ہوگا۔ اسے ایسی زندگی عطا کی جائے گی جس میں ہر طرح کی رضا ہی رضاہو گی۔
هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (Come here, read my book… 69:19). The word ha'umu, literally means, "come" but, idiomatically, it is used in the sense of the plural imperative verb khudhu "take'. In other words, one who is given his record book in his right hand, he will be elated and, looking at the people around him, will say 'Here, take my account book and read it!'
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.