Surah Al-Haqqah • Ayah 17
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
A Mention of the Horrors of the Day of JudgementAllah informs of the horrors that will take place on the Day of Judgement. The first of these events is the blowing of fright (into the Trumpet), which will be followed by the blowing of destruction when everyone in the heavens and the earth will be struck down except whoever Allah wills. Then, after this will be the blowing of standing before the Lord of all that exists, and the resurrection, and the gathering. And this is that blowing. It is emphasized here that it is one blowing, because the command of Allah cannot be opposed or prevented, and it does not need to be repeated or stressed. Thus, Allah goes on to say,وَحُمِلَتِ الاٌّرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَحِدَةً(And the earth and the mountains shall be removed from their places, and crushed with a single crushing.) meaning, they will be stretched out to the extent of the surface (of the earth) and the earth will change into something else other than the earth.فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ(Then on that Day shall the Event occur.) meaning, the Day of Judgement.وَانشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِىَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ(And the heaven will be rent asunder, for that Day it will be frail and torn up.) Ibn Jurayj said, "This is like Allah's statement,وَفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَباً(And the heaven shall be opened, it will become as gates.) (78:19) Ibn `Abbas said, "It (the sky) will be torn apart and the Throne will be near it."وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَآئِهَآ(And the angels will be on its sides,) The word Malak here is referring to the species of angels (all of them); meaning the angels collectively will be standing on the sides of the heavens. Ar-Rabi` bin Anas said concerning Allah's statement,وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَآئِهَآ(And the angels will be on its sides,) "This means that they will be standing on what has been ground to powder of the heavens looking at the people of the earth.'The Children of Adam being presented before AllahConcerning the statement of Allah,يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لاَ تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ(That Day shall you be brought to Judgement, not a secret of you will be hidden.) meaning, `you will all be presented to the Knower of the secrets and private counsels. He is the One from Whom none of your affairs are hidden. He is the Knower of all things apparent, secret and hidden.' This is the reason that Allah says,لاَ تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ(not a secret of you will be hidden.) Imam Ahmad recorded from Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ said,«يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرْضَاتٍ، فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الْأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمالِه»(The people will be exhibited three times on the Day of Judgement. The first two presentations will be (their) arguing and offering excuses. During the third presentation the pages (records) will fly into their hands. Some of them will receive the records in their right hands and some will receive them in their left hands.) Ibn Majah and At-Tirmidhi both recorded this Hadith.
آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔ اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ” زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» [78-النبأ:19] یعنی ” آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔صفحہ نمبر9747اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭پھر فرمایا ” قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ “ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔صفحہ نمبر9748سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“ پھر فرمایا: ” قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ “ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔صفحہ نمبر9749
آیت 13 { فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ } ”تو جب صور میں پھونکا جائے گا یکبارگی۔“ یعنی اس وقت کو یاد رکھو جب ایک ہی بار صور میں پھونک مار دی جائے گی۔
وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ (...And on that Day, the Throne of your Lord will be carried above them by eight [ angels ]....69:17). In other words, on the Day of Judgment, eight angels will bear the Throne of the Rahman above their heads. According to some of the Prophetic narratives, before the Judgment Day this task will be carried out by four angels. On the Judgment Day, four more angels will be added to carry out the task.As to what is the Throne of the Rahman, what is its reality, its form and shape, how the angels carry it - are transcendental matters and are all beyond human intellect. Allah is beyond time, space and matter, and therefore we are not permitted to pursue these matters pertaining to Him to determine its exact meaning. The noble Companions, their pupils and the righteous elders took the attitude that they simply believed in all transcendental matters and never questioned about them. Whatever Allah means by them is the Truth. Their nature and reality are unknown.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.