The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Qalam • Ayah 45

Para 29 Surah 68 : 45
وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَأُمْلِى
لَهُمْ
ۚ
إِنَّ
كَيْدِى
مَتِينٌ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Terror of the Day of JudgementAfter Allah mentions that those who have Taqwa, will have Gardens of Delight with their Lord, He explains when this will be, and its actual occurrence. He says,يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ(The Day when the Shin shall be laid bare and they shall be called to prostrate themselves, but they shall not be able to do so.) meaning, the Day of Judgement and the horrors, earthquakes, trials, tests and great matters that will occur during it. Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that he heard the Prophet saying,«يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا»(Our Lord will reveal His Shin, and every believing male and female will prostrate to Him. The only people who will remain standing are those who prostrated in the worldly life only to be seen and heard (showing off). This type of person will try to prostrate at that time, but his back will made to be one stiff plate (the bone will not bend or flex).)" This Hadith was recorded in the Two Sahihs and other books from different routes of transmission with various wordings. It is a long Hadith that is very popular. Concerning Allah's statement,خَـشِعَةً أَبْصَـرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ(Their eyes will be cast down and ignominy will cover them;) means, in the final abode, due to their crimes and arrogance in the worldly life. Thus they will be punished with the opposite of what they did. When they were called to prostrate in the worldly life, they refused to do so even though they were healthy and secure. Therefore, they will be punished with the lack of ability to do so in the Hereafter. When the Almighty Lord makes Himself visible (before the believers), then the believers will fall down in prostration to Him, but no one of the disbelievers and hypocrites will be able to prostrate. rather, their backs will become one plate. Everytime one of them attempts to prostrate, he will bow his neck but will not be able to prostrate. This is just like in the life of this world, when these people were in opposition to what the believers were doing.For Whoever denies the Qur'anThen Allah says,فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ(Then leave Me alone with such as belie this narration.) meaning, the Qur'an. This is a sever threat which means, `leave Me alone with this person; I know about him and how I will gradually punish him and increase him in his falsehood. I am giving him respite for a while, then I will seize him with a mighty and powerful punishment.' Thus, Allah says,سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ(We shall punish them gradually from directions they perceive not.) meaning, and they will not even be aware of it. Rather, they will believe that it is a noble blessing from Allah, but really the same matter is actually a form of humiliation (for them). This is similar to Allah's statement,أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ(Do they think that in wealth and children with which We expand them, We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) (23:55,56) Allah also said,فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ(So, when they forgot that which they had been reminded, We opened for them the gates of everything, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We punished them, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) Therefore, Allah says here,وَأُمْلِى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ(And I will grant them a respite. Verily, My plan is strong.) meaning, `I will delay them, give them respite and extend their time. Yet, this is My plan, and My plot against them.' Thus, Allah says,إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ(Verily, My plan is strong.) meaning, `great against whoever opposes My command, rejects My Messengers and dares to disobey Me.' In the Two Sahihs it is recorded from the Messenger of Allah ﷺ that he said,«إِنَّ اللهَ تَعَالى لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتْى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»(Verily Allah the Exalted gives respite to the wrongdoer until He seizes him and he will not be able to escape Him.) Then he recited,وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ(Such is the punishment of your Lord when He seizes the towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe.) (11:102) In reference to Allah's statement,أَمْ تَسْـَلُهُمْ أَجْراً فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ - أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ(Or is it that you ask them for a wage, so that they are heavily burdened with debt Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down) the explanation of these two Ayat prece- ded in Surat At-Tur. The meaning of it is, `you, O Muhammad, call them to Allah without taking any wages from them. rather, you hope for the reward with Allah. Yet, they reject that which you have brought to them simply due to ignorance, disbelief and obstinacy.'فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہو گا ٭٭اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ” پرہیزگار لوگوں کے لیے نعمتوں والی جنتیں ہیں “، اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی؟ تو فرمایا کہ ” اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی “۔ یعنی قیامت کے دن، جو دن بڑی ہولناکیوں والا، زلزلوں والا، امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔ صحیح بخاری میں اس جگہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے ”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گر پڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہو جائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لیے جھکا نہ جائے گا“ ۔ [صحیح بخاری:4919] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ سیدنا ابن مسعود یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے «‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ» [68-القلم:42] ‏ کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے۔ جیسے شاعر کا قول ہے «وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَنْ سَاقٍ» یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہو گی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آ جاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے۔ یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں۔ اس کے بعد یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”مراد بہت بڑا نور ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:42/29:ضعیف] ‏ یہ حدیث ابویعلیٰ میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گزری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اور اقوال بھی اس طرح ٹھیک ہیں کہ جہانوں کے پروردگار کی پنڈلی بھی ظاہر ہو گی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)صفحہ نمبر9713دنیا میں سجدہ نہ کرنے والے کی قیامت کو حالت ٭٭پھر فرمایا ” جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو رک جاتے تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے پہلے کر سکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گر پڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کر سکیں گے، کمر تختہ ہو جائے گی، جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گر پڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی، وہاں بھی خلاف ہی رہے گی “۔ پھر فرمایا ” مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں خود ان سے نپٹ لوں گا، دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے، میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہو گی “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:56،55] ‏، یعنی ” کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لیے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بے شعور ہیں “۔ اور جگہ فرمایا «‏فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ» [6-الأنعام:44] ‏ ” جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہو گئیں “۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے ” میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے “۔صفحہ نمبر9714بخاری مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4686] ‏ «‏وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] ‏ یعنی ” اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے “۔ پھر فرمایا ” تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں “۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورۃ والطور میں گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی! آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔صفحہ نمبر9715

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 44{ فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّکَذِّبُ بِہٰذَاالْحَدِیْثِ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔“ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے اس گروپ کی سورتوں میں یہ کلمہ ذَرْنِیْ ‘ فَذَرْنِیْ اور یہ اسلوب بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس میں ایک طرف حضور ﷺ کی دلجوئی کا پہلو ہے تو دوسری طرف آپ ﷺ کے مخالفین کے لیے بہت بڑی وعید ہے ‘ کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں ‘ ان کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیجیے ‘ ان سے میں خود ہی نمٹ لوں گا۔ { سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”ہم انہیں رفتہ رفتہ وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے انہیں علم تک نہیں ہوگا۔“ علماء کے ہاں ”استدراج“ کا لفظ بطور اصطلاح استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد ایسا عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی ڈھیل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے باعث کسی قوم یا کسی فرد پر درجہ بدرجہ درجہ ‘ تدریج اور استدراج کا مادہ ایک ہی ہے مسلط ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے غلط راستے پر جا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کچھ دیر کے لیے ڈھیل دیتا ہے ‘ بلکہ بعض اوقات اس راستے پر اسے طرح طرح کی کامیابیوں سے بھی نوازتا ہے تاکہ اس کے اندر کی خباثت پوری طرح سے ظاہر ہوجائے۔ جب وہ شخص اپنی روش کو کامیاب دیکھتا ہے تو سرکشی میں مزید دیدہ دلیری دکھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مہلت کا وقت پورا ہوجاتا ہے اور پھر اچانک اسے عذاب کے شکنجے میں کس لیا جاتا ہے۔ استدراج کی مثال کانٹے کے ذریعے مچھلی کے شکار کی سی ہے۔ شکاری جب دیکھتا ہے کہ مچھلی نے کانٹا نگل لیا ہے تو وہ ڈور کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے ڈور کھینچ کر اسے قابو کرلیتا ہے۔ لفظ استدراج کی وضاحت کرتے ہوئے یہاں مجھے مولانا حسین احمد مدنی - کا وہ قول یاد آگیا ہے جس میں انہوں نے قیام پاکستان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ استدراج بھی ہوسکتا ہے۔ مولانا صاحب رمضان ہمیشہ سلہٹ میں گزارتے تھے۔ 1946 ء کے رمضان میں انہوں نے کہہ دیا تھا کہ ملاء اعلٰی میں پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے ٹھیک ایک سال بعد اگلے رمضان لیلۃ القدر میں پاکستان کا قیام واقعتا عمل میں آگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مولانا مدنی رح کو بذریعہ کشف قیام پاکستان کے بارے میں جس فیصلے کا علم ہوا تھا ‘ ملاء اعلیٰ میں وہ فیصلہ 1946 ء کی لیلۃ القدر میں اس اصول کے تحت ہوا تھا جس کا ذکر سورة الدخان کی آیت 4 میں آیا ہے۔ اس آیت میں لیلۃ القدر لَیْلَۃٍ مُبَارَکَۃٍ کے بارے میں فرمایا گیا ہے : { فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ۔ } کہ اس رات میں آئندہ سال کے دوران رونما ہونے والے اہم امور کے فیصلے کردیے جاتے ہیں۔ مولانا صاحب نظریاتی طور پر قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ ان کے اس انکشاف کے بعد ان کے عقیدت مندوں نے بجاطور پر ان سے پوچھا کہ اس فیصلے کا علم ہوجانے کے باوجود بھی آپ قیام پاکستان کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں ؟ اس پر مولانا صاحب رح نے جو جواب دیا تھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا تکوینی کائنات کی سلطنت کا انتظامی فیصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے کیا منظور ہے ‘ اس کا ہمیں علم نہیں۔ ہمیں چیزوں کے ظاہر اور سامنے نظر آنے والے حالات کو دیکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیکھنے سننے ‘ سمجھنے وغیرہ کی صلاحیتیں اسی لیے دی ہیں کہ وہ ان صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے فیصلے کرے۔ چناچہ اس معاملے میں ہمیں وہی موقف اپنانا چاہیے جس میں ہمیں مسلمانانِ برصغیر کی بہتری نظر آتی ہو۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق کیا ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ ”استدراج“ کی غرض سے کیا گیا ہو۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خطے کے مسلمانوں کو ڈھیل دے کر انہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہو۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مولانا مدنی رح کا خدشہ کافی حد تک درست تھا۔ اہل پاکستان پر عذاب کا ایک کوڑا تو 1971 ء میں برسا تھا۔ اس کے بعد بھی ملک کی مجموعی صورت حال کبھی تسلی بخش نہیں رہی ‘ بلکہ پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ اب ایک فیصلہ کن عذاب ہمارے سر پر آیا کھڑا ہے۔ لیکن میری رائے میں اس کا سبب ”قیامِ پاکستان نہیں“ بلکہ بحیثیت قوم ہمارا وہ مجموعی طرزعمل ہے جو قیام پاکستان کے بعد ہم نے نظام اسلام کے حوالے سے اختیار کیا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

فَذَرْ‌نِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ (So, leave Me alone with those who reject this discourse. We will draw them on little by little (towards Hell) from a way they do not know.... 68:44). Here the phrase 'So, leave me alone' in the original Arabic is an idiomatic expression which signifies 'Rely on Allah'. The disbelievers often demanded Divine punishment arguing that if they are really guilty in the sight of Allah, and if He has the power to punish, then why the punishment does not befall them forthwith. These were heart-rending demands on account of which the thought probably must have crossed the mind of the Holy Prophet ﷺ and he might have prayed to Allah to punish them sometime, in the hope that the rest of the people might draw lessons and amend their conduct. On that occasion, Allah revealed [ in verse, 45] that He is the best aware of the wisdom behind His decisions. He does not punish them immediately, but He gives them respite to test them and to give them an opportunity to believe.Towards the end, the story of Sayyidna Yunus (علیہ السلام) is concisely told that when his people constantly demanded punishment, he became indignant and prayed for the punishment to be sent down. The signs of the punishment started appearing. Sayyidna Yunus (علیہ السلام) left the place and transferred himself elsewhere. In the meantime the entire nation wept, wailed, sincerely repented and begged refuge from the Divine punishment. Allah pardoned them and took away the punishment. Sayyidna Yunus (علیہ السلام) felt embarrassed and thought that if he goes back to his people, they might think he was a liar. As a result, without the clear permission of Allah, he acted purely on his ijtihad [ independent judgment ] that he would not go back to his people. At this, Allah, in order to caution him, created a situation where he had to undertake sea voyage, and then was lowered into the sea where he was swallowed up by a fish. Being thus cautioned, Sayyidna Yunus (علیہ السلام) sought the Divine pardon. Consequently, Allah once again opened the doors of the former blessings to be restored to him. Full description of the event has been given in Surah Yunus (Verse 10:98) and other Surahs. The Holy Prophet ﷺ is comforted by this story not to be impressed by people's demands nor to be anxious to get them punished hastily. Allah's wisdom is profound and unfathomable. Allah alone knows what is in the best interests of the world. Allah should be trusted and relied on.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.