Surah Al-Qalam • Ayah 18
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔ تو فرماتا ہے کہ ” ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی “۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ” یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے “ ۔ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف] صفحہ نمبر9686صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ” ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا “۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔صفحہ نمبر9687
آیت 18{ وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ۔ } ”اور انہوں نے اس پر ان شاء اللہ بھی نہ کہا۔“ باغ کے پھل پک کر تیار ہوچکے تھے۔ انہوں نے ایک رات پروگرام طے کرلیا کہ وہ صبح سویرے جائیں گے اور سارا پھل اتار لائیں گے۔ گویا وہ اپنے اسباب و وسائل کے گھمنڈ میں مسبب ِحقیقی کو بالکل ہی بھول گئے۔
وَلَا يَسْتَثْنُونَ (and did not make any exception (by saying 'insha'Allah' ). [ 68:18] '. The word isthisna' in the original Arabic means 'to make an exception by saying "insha'Allah"'. However, some scholars interpret this word, in this context, to mean that 'they would devour the entire harvest themselves, with no exception for the poor. [ Mazhari ].
Surah al-Qalam (68:17-33) presents the parable of the owners of a fruitful garden who swore to harvest all its produce secretly before dawn so the poor could not partake of their charity. During the night, Allah sent a calamity upon it and it was destroyed. They went to find a barren ruin. This parable illustrates that wealth belongs to Allah and is a trust; ingratitude and withholding charity leads to divine removal of blessings. Many scholars associate this parable with a specific Yemeni family known to the early Muslims.
Surah Al-Qalam (68:17-33) tells of owners of a productive garden who, after the death of their righteous father, resolved to harvest it without setting aside any for the poor (as their father had done). Allah sent a calamity at night and the garden was destroyed. They blamed each other and eventually repented. This parable is about the social obligation of wealthy inheritors: prosperity maintained by righteous practices cannot be stripped of those practices without consequences. The lesson is directed particularly to the Quraysh of Makkah who had inherited the honor of the Kaaba's custodianship.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.