Surah As-Saf • Ayah 2
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed in MadinaThe Virtues of Surat As-SaffImam Ahmad recorded that `Abdullah bin Salam said, "We asked, `Who among us should go to the Messenger ﷺ and ask him about the dearest actions to Allah' None among us volunteered. The Messenger ﷺ sent a man to us and that man gathered us and recited this Surah, Surat As-Saff, in its entirety."'بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.Chastising Those Who say what They do not doWe mentioned in many a places before the meaning of Allah's statement,سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(Whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth glorifies Allah. And He is the Almighty, the All-Wise.) Therefore, we do not need to repeat its meaning here. Allah's statement,يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَ تَفْعَلُونَ(O you who believe! Why do you say that which you do not do) This refutes those who neglect to fulfill their promises. This honorable Ayah supports the view that several scholars of the Salaf held, that it is necessary to fulfill the promise, regardless of whether the promise includes some type of wealth for the person receiving the promise or otherwise. They also argue from the Sunnah, with the Hadith recorded in the Two Sahihs in which Allah's Messenger ﷺ said,«آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَان»(There are three signs for a hypocrite: when he promises, he breaks his promise; when speaks, he lies; and when he is entrusted, he betrays.) And in another Hadith in the Sahih,«أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا،وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتْى يَدَعَهَا»(There are four characteristics which if one has all of them, he is the pure hypocrite, and if anyone has any of them, he has a characteristic of hypocrisy, until he abandons it.) So he mentioned breaking the promise among these four characteristics. We mentioned the meaning of these two Hadiths in the beginning of the explanation of Sahih Al-Bukhari, and to Allah is the praise and the thanks. Therefore Allah implied this meaning, when He continued His admonishment by saying,كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لاَ تَفْعَلُونَ(Most hateful it is with Allah that you say that which you do not do.) Imam Ahmad and Abu Dawud recorded that `Abdullah bin `Amir bin Rabi`ah said, "Allah's Messenger ﷺ came to us while I was a young boy, and I went out to play. My mother said, `O `Abdullah! Come, I want to give you something.' Allah's Messenger ﷺ said to her,«وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيَهُ؟»(What did you want to give him) She said, `Dates.' He said,«أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِي كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذْبَة»(If you had not given them to him, it would have been written as a lie in your record.)" Muqatil bin Hayyan said, "The faithful believers said, `If we only knew the dearest good actions to Allah, we would perform them.' Thus, Allah told them about the dearest actions to Him,saying,إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَـتِلُونَ فِى سَبِيلِهِ صَفّاً(Verily, Allah loves those who fight in His cause in rows) Allah stated what He likes, and they were tested on the day of Uhud. However, they retreated and fled, leaving the Prophet behind. It was about their case that Allah revealed this Ayah:يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَ تَفْعَلُونَ(O you who believe! Why do you say that which you do not do) Allah says here, `The dearest of you to Me, is he who fights in My cause."' Some said that it was revealed about the gravity of fighting in battle, when one says that he fought and endured the battle, even though he did not do so. Qatadah and Ad-Dahhak said that this Ayah was sent down to admonish some people who used to say that they killed, fought, stabbed, and did such and such during battle, even though they did not do any of it. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَـتِلُونَ فِى سَبِيلِهِ صَفّاً(Verily, Allah loves those who fight in His cause in rows (ranks)) "Before Allah's Messenger ﷺ began the battle against the enemy, he liked to line up his forces in rows; in this Surah, Allah teaches the believers to do the same." He also said that Allah's statement,كَأَنَّهُم بُنْيَـنٌ مَّرْصُوصٌ(as if they were a solid structure.) means, its parts are firmly connected to each other; in rows for battle. Muqatil bin Hayyan said, "Firmly connected to each other." Ibn `Abbas commented on the meaning of the Ayah,كَأَنَّهُم بُنْيَـنٌ مَّرْصُوصٌ(as if they were a solid structure.) by saying, "They are like a firm structure that does not move, because its parts are cemented to each other."
تفسیر سورۃ الصف:سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صحابہ ایک دن بیٹھے بیٹھے آپس میں یہ تذکرے کر رہے تھے کہ کوئی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کرے کہ اللہ کو سب سے محبوب عمل کونسا ہے؟ مگر ابھی کوئی کھڑا بھی نہ ہوا تھا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد پہنچا اور ہم میں سے ایک ایک کو بلا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا، جب ہم سب جمع ہو گئے تو آپ نے اس پوری سورت کی تلاوت کی۔ [مسند احمد:452/5:صحیح] اس میں ذکر ہے کہ جہاد سب سے زیادہ محبوب الٰہی ہے۔ ابن ابی حاتم کی اس حدیث میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے ڈرے اور اس میں یہ بھی ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورت پڑھ کر سنائی تھی اسی طرح اس روایت بیان کرنے والے صحابی نے تابعی کو پڑھ کر سنائی اور تابعی نے اپنے شاگرد کو اور اس نے اپنے شاگرد کو اسی طرح آخر تک اور روایت میں ہے کہ ہم نے کہا تھا اگر ہمیں ایسے عمل کی خبر ہو جائے تو ہم ضرور اس پر عامل ہو جائیں، [سنن ترمذي:3309،قال الشيخ الألباني:صحیح] مجھ سے میرے استاد شیخ مسند ابوالعباس احمد بن ابوطالب حجاز نے بھی اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی ہے اور اس میں بھی مسلسل ہر استاد کا اپنے شاگرد کو یہ سورت پڑھ کر سنانا مروی ہے یہاں تک کہ میرے استاد نے بھی اپنے استاد سے اسے سنا ہے لیکن چونکہ وہ خود امی تھے اور اسے یاد کرنے کا انہیں وقت نہیں ملا انہوں نے مجھے پڑھ کر نہیں سنائی، لیکن الحمد اللہ میرے دوسرے استاد حافظ کبیر ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عثمان نے اپنی سند سے یہ حدیث مجھے پڑھاتے وقت یہ سورت بھی پوری پڑھ کر سنائی۔ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت ٭٭پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علماء سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں [ ۱ ] جب وعدہ کرے خلاف کرے، [ ۲ ] جب بات کرے جھوٹ بولے، [ ۳ ] جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔“ [صحیح بخاری:33] دوسری صحیح حدیث میں ہے چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو اس میں ایک خصلت نفاق کی ہے جب تک اسے نہ چھوڑے۔ ان میں ایک عادت وعدہ خلافی کی ہے۔ [صحیح بخاری:24] شرح صحیح بخاری کی ابتداء میں ہم نے ان دونوں احادیث کی پوری شرح کر دی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسی لیے یہاں بھی اس کی تاکید میں فرمایا گیا، اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو، مسند احمد اور ابوداؤد میں عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا کھیل کود کے لیے جانے لگا تو میری والدہ نے مجھے آواز دے کر کہا ادھر آ کچھ دوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ دینا بھی چاہتی ہو؟“ میری والدہ نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ ! کھجوریں دوں گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو خیر ورنہ یاد رکھو کچھ نہ دینے کا ارادہ ہوتا اور یوں کہتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا۔“ [سنن ابوداود:4991،قال الشيخ الألباني:۔صحیح] امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب وعدے کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کی تاکید کا تعلق ہو تو اس وعدے کو وفا کرنا واجب ہو جاتا ہے، مثلاً کسی شخص نے کسی سے کہہ دیا کہ تو نکاح کر لے اور اتنا اتنا ہر روز میں تجھے دیتا رہوں گا اس نے نکاح کر لیا تو جب نکاح باقی ہے اس شخص پر واجب ہے کہ اسے اپنے وعدے کے مطابق دیتا رہے اس لیے کہ اس میں آدمی کے حق کا تعلق ثابت ہو گیا جس پر اس سے باز پرس سختی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔صفحہ نمبر9473کیا ایفائے عہد واجب ہے؟ ٭٭جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایفاء عہد مطلق واجب ہی نہیں، اس آیت کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ جب لوگوں نے جہاد کی فرضیت کی خواہش کی اور فرض ہو گیا تو اب بعض لوگ دیکھنے لگے جس پر یہ آیت اتری، جیسے اور جگہ ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ ۗ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا» [4-النساء:77،78] یعنی ” کیا تو نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا تم اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز و زکوٰۃ کا خیال رکھو، پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں ایسے لوگ بھی نکل آئے جو لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ، کہنے لگے پروردگار تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں ایک وقت مقرر تک اس حکم کو مؤخر نہ کیا جو قریب ہی تو ہے۔ تو کہہ دے کہ اسباب دنیا تو بہت ہی کم ہیں ہاں پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہترین چیز ہے۔ تم پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا تم کہیں بھی ہو تمہیں موت ڈھونڈ نکالے گی گو تم مضبوط محلوں میں ہو۔“ اور جگہ ہے «وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» [47-محمد:20] الخ، یعنی ” مسلمان کہتے ہیں کیوں کوئی سورت نہیں اتاری جاتی؟ پھر جب کوئی محکم سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر ہوتا ہے تو دیکھے گا کہ بیمار دل والے تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ دیکھتا ہے جس پر موت کی بیہوشی ہو “۔ اسی طرح کی یہ آیت بھی ہے۔صفحہ نمبر9474سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعض مومنوں نے جہاد کی فرضیت سے پہلے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اللہ تعالیٰ ہمیں وہ عمل بتاتا جو اسے سب سے زیادہ پسند ہوتا تاکہ ہم اس پر عامل ہوتے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی کہ ” سب سے زیادہ پسندیدہ عمل میرے نزدیک ایمان ہے جو شک شبہ سے پاک ہو اور بےایمانوں سے جہاد کرنا ہے “، تو بعض مسلمانوں پر یہ گراں گزرا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ” وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جنہیں کرتے نہیں۔ “ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے کہا اگر ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس عمل کو اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتا ہے تو ہم ضرور وہ عمل بجا لاتے اس پر اللہ عزوجل نے وہ عمل بتایا کہ ” میری راہ میں صفیں باندھ کر مضبوطی کے ساتھ جم کر جہاد کرنے والوں کو میں بہت پسند فرماتا ہوں “، پھر احد والے دن ان کی آزمائش ہو گئی اور لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے جس پر یہ فرمان عالیشان اترا کہ ” کیوں وہ کہتے ہو جو کہ نہیں دکھاتے؟“۔صفحہ نمبر9475منافق جو کرتے نہیں وہ کہتے ہیں ٭٭بعض حضرات فرماتے ہیں یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کہیں ہم نے جہاد کیا اور حالانکہ جہاد نہ کیا ہو منہ سے کہیں کہ ہم زخمی ہوئے اور زخمی نہ ہوئے ہوں، کہیں کہ ہم پر مار پڑی اور مار نہ پڑی ہو، منہ سے کہیں کہ ہم قید کئے گئے اور قید نہ کئے گئے ہوں۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد منافق ہیں کہ مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کرتے لیکن وقت پر پورا نہ کرتے، زید بن اسلم رحمہ اللہ جہاد مراد لیتے ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کہنے والوں میں عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے جب آیت اتری اور معلوم ہوا کہ جہاد سب سے زیادہ عمدہ عمل ہے تو آپ نے عہد کر لیا کہ میں تو اب سے لے کر مرتے دم تک اللہ کی راہ میں اپنے آپ کو وقف کر چکا چنانچہ اسی پر قائم بھی رہے یہاں تک کہ فی سبیل اللہ شہید ہو گئے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے قاریوں کو ایک مرتبہ بلوایا تو تین سو قاری ان کے پاس آئے جن میں سے ہر ایک قاری قرآن تھا۔ پھر فرمایا تم اہل بصرہ کے قاری اور ان میں سے بہترین لوگ ہو، سنو ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو مسبحات کی سورتوں کے مشابہ تھی، پھر ہم اسے بھلا دیئے گئے، ہاں مجھے اس میں سے اتنا یاد رہ گیا «يَا أَيّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ فَتُكْتَب شَهَادَة فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْم الْقِيَامَة» یعنی ” اے ایمان والو وہ کیوں کہو جو نہ کرو پھر وہ لکھا جائے اور تمہاری گردنوں میں بطور گواہ کے لٹکا دیا جائے پھر قیامت کے دن اس کی بابت باز پرس ہو۔“ پھر فرمایا ” اللہ تعالیٰ کے محبوب وہ لوگ ہیں جو صفیں باندھ کر دشمنان اللہ کے مقابلے میں ڈٹ جاتے ہیں تاکہ اللہ کا بول بالا ہو، اسلام کی حفاظت ہو اور دین کا غلبہ ہو۔ “ مسند احمد میں ہے تین قسم کے لوگوں کی تین حالتیں ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور ہنس دیتا ہے رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنے والے، نماز کے لیے صفیں باندھنے والے، میدان جنگ میں صف بندی کرنے والے۔ [سنن ابن ماجہ:200،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے بروایت ابوذر ایک حدیث پہنچی تھی میرے جی میں تھا کہ خود سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مل کر یہ حدیث آمنے سامنے سن لوں، چنانچہ ایک مرتبہ جا کر آپ سے ملاقات کی اور واقعہ بیان کیا، آپ نے خوشنودی کا اظہار فرما کر کہا وہ حدیث کیا ہے؟ میں نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ تین شخصوں کو دشمن جانتا ہے اور تین کو دوست رکھتا ہے فرمایا: ہاں میں اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بول سکتا فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے، میں نے پوچھا: وہ تین کون ہیں؟ جنہیں اللہ تعالیٰ محبوب جانتا ہے فرمایا: ایک تو وہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے خالص خوشنودی اللہ کی نیت سے نکلے دشمن سے جب مقابلہ ہو تو دلیرانہ جہاد کرے تم اس کی تصدیق خود کتاب اللہ میں بھی دیکھ سکتے ہو پھر آپ نے یہی آیت «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ» [61-الصف:4] تلاوت فرمائی اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ترمذي:2568،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ابن ابی حاتم میں یہ حدیث اسی طرح ان ہی الفاظ میں اتنی ہی آئی ہے ہاں ترمذی اور نسائی میں پوری حدیث ہے اور ہم نے بھی اسے دوسری جگہ مکمل وارد کیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» صفحہ نمبر9476صف بندی تعلیم ربانی ٭٭کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ابن ابی حاتم میں منقول ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے: آپ میرے بندے متوکل اور پسندیدہ ہیں بدخلق، بدزبان، بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ درگزر کر کے معاف کر دیتے ہیں۔ آپ کی جائے پیدائش مکہ ہے، جائے ہجرت طابہ ہے، ملک آپ کا شام ہے، امت آپ کی بکثرت حمد اللہ کرنے والی ہے، ہر حال میں اور ہر منزل میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت ذکر اللہ میں ان کی پست آوازیں برابر سنائی دیتی ہیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھن بھناہٹ اپنے ناخن اور مچھیں کترتے ہیں اور اپنے تہبند اپنی آدھی پنڈلیوں تک باندھتے ہیں ان کی صفیں میدان جہاد میں ایسی ہوتی ہیں جیسی نماز میں۔“ پھر کعب رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: سورج کی نگہبانی کرنے والے، جہاں وقت نماز آ جائے نماز ادا کر لینے والے، گو سواری پر ہوں، سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفیں نہ بنوا لیتے دشمن سے لڑائی شروع نہیں کرتے تھے، پس صف بندی کی تعلیم مسلمانوں کو اللہ کی دی ہوئی ہے، ایک دوسرے سے ملے کھڑے رہیں، ثابت قدم رہیں اور ٹلیں نہیں تم نہیں دیکھتے کہ عمارت کا بنانے والا نہیں چاہتا کہ اس کی عمارت میں کہیں اونچ نیچ ہو ٹیڑھی ترچھی ہو یا سوراخ رہ جائیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے امر میں اختلاف ہو میدان جنگ میں اور بوقت نماز مسلمانوں کی صف بندی خود اس نے کی ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو جو احکام بجا لائے گا یہ اس کے لیے عصمت اور بچاؤ ثابت ہے۔ ابوبحریہ فرماتے ہیں مسلمان گھوڑوں پر سوار ہو کر لڑنا پسند نہیں کرتے تھے انہیں تو یہ اچھا معلوم ہوتا تھا کہ زمین پر پیدل صفیں بنا کر آمنے سامنے کا مقابلہ کریں، آپ فرماتے ہیں جب تم مجھے دیکھو کہ میں نے صف میں سے ادھر ادھر توجہ کی تو تم جو چاہو ملامت کرنا اور برا بھلا کہنا۔صفحہ نمبر9477
آیت 2 { یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } ”اے مسلمانو ! تم کیوں کہتے ہو وہ جو کرتے نہیں ہو ؟“ اس آیت میں زجر و توبیخ اور جھنجھوڑنے کا وہی انداز پایا جاتا ہے جو اس سے قبل ہم سورة الحدید میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ بلکہ یہ اسلوب زیر مطالعہ مدنی سورتوں میں جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔ قبل ازیں سورة الحدید کے تمہیدی کلمات میں اس اسلوب کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ ان سورتوں کے زمانہ نزول 5 ہجری کے بعد تک پرانے مسلمانوں کی نسبت نومسلموں کی تعداد زیادہ ہوچکی تھی۔ ایمان کی گہرائی اور جذبہ ایثار و قربانی کے حوالے سے نووارد مسلمانوں کی کیفیت چونکہ ”السابقون الاولون“ اور ابتدائی دور کے اہل ایمان کی سی نہیں تھی ‘ اس لیے مسلمانوں کے ایمان و عمل کے اجتماعی معیار کے اوسط میں قدرے کمی واقع ہوئی تھی اور اسی وجہ سے انہیں اس انداز میں جھنجھوڑاجا رہا ہے۔ لیکن قرآن مجید چونکہ ہر زمانے کے لوگوں سے مخاطب ہے ‘ اس لیے اس آیت کو پڑھتے ہوئے یوں سمجھیں کہ آج یہ ہم سے سوال کر رہی ہے کہ اے ایمان کے دعوے دارو ! تم کیسے مسلمان ہو ؟ تمہارے قول و فعل میں اتنا تضاد کیوں ہے ؟ تم اللہ پر ایمان کا اقرار بھی کرتے ہو اور دن رات اس کے احکام کو پائوں تلے روندتے بھی رہتے ہو ! تم رسول اللہ ﷺ کی ذات سے عشق و محبت کے دعوے بھی کرتے ہو لیکن جب عمل کے میدان میں آتے ہو تو آپ ﷺ کی سنتوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتے ہو ! ذرا تصور کیجیے ! آج اگر اللہ کا کلام نازل ہو تو ہمارے ایمان ‘ ہمارے کردار اور ہمارے عمل پر کیا کیا تبصرہ کرے ! اور اگر آج حضور ﷺ خود تشریف لاکر اپنی امت کی حالت دیکھ لیں تو کیسا محسوس کریں !
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿2﴾ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّـهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿3﴾(0 those who believe, why do you say what you do not do? It is severely hateful in Allah's sight that you say what you do not do...61:2-3)Apparently, the phrase 'what you do not do' implies that one should not claim to do something he does not intend to do. From this it may be deduced that it is prohibited to make a commitment to do a work while a person does not have the genuine intention to really do it, because this would be ostentation and a false commitment. Obviously, the blessed Companions, in the story of the background of revelation, were not making such promises without having intention to fulfill them. Instead, their intention was genuine. From this we learn that the verse includes a situation where a person commits to do something with true intention to do it, but relies solely on his own strength, it is not in keeping with his station of ` abdiyyah or 'servitude'. First of all, there is no need to make such a claim. If the occasion does arise to do something, he may go ahead and do it. If, for some reason or the other, a person has to make a promise or claim, he may affirm it by saying 'If Allah wills'. In this way, it would not be a boastful claim.RulingIt follows from the above discussion that if a person claims that he will do something in future but has no intention to do it, it is a major sin (kabirah) and a cause of incurring Allah's wrath. The sentence: كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّـهِ "It is severely hateful in Allah's sight that you say what you do not do....[ 61:3] " applies to this situation. However, in a situation where one makes a claim to do something in future with real intention to do it, it is makruh [ reprehensible ] and forbidden only if he makes the claim relying on his own strength and ability.Difference between a Claim (Da` wa) and Preaching (Da'wah)It is learnt from the foregoing discussion that these verses are related to false claims (Da` wa) to do something in future without intention to do it, which incurs Divine displeasure and indignation. This verse is not related to a situation where a preacher invites others to do something, while he himself does not do it. The rules of this situation are mentioned in other verses and Ahadith. For example: أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ , (Do you bid others to righteousness while you ignore your own selves) [ 2:44] This verse puts to shame such preachers who do not practice what they preach. The import of this verse is that when they are preaching to others, they should preach to themselves with greater force, and if they are calling other people to do good deeds, they too should practice them.All this does not imply that if a person has been lax in the performance of good deeds, he should abandon preaching to others. Or if he has been indulging in any kind of sin, he should not forbid others from indulging in such sins. It needs to be borne in mind that the performance of a righteous deed is one form of virtue, and urging others to perform this righteous deed is another form of virtue in its own right. Obviously, if one has abandoned one form of virtue, it does not necessarily follow that he should abandon the other form as well. It is possible that through the blessing of the preachment, the preacher might develop the ability to perform the righteous deed. This has been experienced widely and on a large scale. However, if the deed belongs to the category of wajib or sunnah mu'akkadah, it is obligatory, in the light of the verses, to continuously show remorse and regret on one's not practicing it. And if the action belongs to the category of mustahabbat, it is mustahab [ rewardable ] to show remorse and regret.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.