Surah As-Saf • Ayah 14
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Muslims are always the Natural Supporters of IslamAllah the Exalted orders His faithful servants to be Allah's supporters at all times, in all their statements and actions, sacrificing their selves and wealth. Allah orders them to accept His and His Messenger's call, just as the disciples said to Prophet `Isa when he said,مَنْ أَنصَارِى إِلَى اللَّهِ(Who are my helpers (in the cause) of Allah) meaning, `who will support me in conveying the Message of Allah, the Exalted and Most Honored'قَالَ الْحَوَرِيُّونَ(The Hawariyyun said:) in reference to the followers of `Isa, peace be upon him,نَحْنُ أَنصَـرُ اللَّهِ(We are Allah's helpers) meaning, `we will support you with regards to the Message you have been sent with and will help you convey it.' Whereby, `Isa sent the disciples to the various areas of Ash-Sham to call the Greeks and the Israelites to Islam. Similarly, during the days of Hajj, Allah's Messenger ﷺ used to ask,«مَنْ رَجُلٌ يُؤْوِينِي حَتْى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي؟ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي»(Who will support me in conveying the Message of my Lord Verily, the Quraysh have prevented me from conveying the Message of my Lord.) Allah the Exalted and Most Honored raised Al-Aws and Al-Khazraj to support the Prophet. They were the residents of Al-Madinah who gave the pledge to him and supported him, vowing to protect him from mankind and the Jinns if he migrated to them. When he migrated to them with his Companions, they fulfilled their vow to Allah. This is the reason why Allah and His Messenger called them, Al-Ansar, the Supporters. The name became synonymous with them. May Allah be pleased with them and please them, as well.A Group of the Children of Israel believed in `Isa and a Group of Them disbelievedAllah said,فَـَامَنَت طَّآئِفَةٌ مِّن بَنِى إِسْرَءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٌ(Then a group of the Children of Israel believed and a group disbelieved.) When `Isa, peace be on him, conveyed the Message of his Lord to his people and the disciples supported him, a group from the Children of Israel believed. They accepted the guidance that `Isa brought to them, while another group, was led astray. This group rejected what `Isa brought them, denied his prophethood and invented terrible lies about him and his mother. They are the Jews, may Allah curse them until the Day of Judgement. Another group exaggerated over `Isa, until they elevated him to more than the level of prophethood that Allah gave him. They divided into sects and factions, some saying that `Isa was the son of Allah, while others said that he was one in a trinity, and this is why they invoke the father, the son and the holy ghost! Some of them said that `Isa was Allah, as we mentioned in the Tafsir of Surat An-Nisa'.Allah gives Victory to the Believing GroupAllah said,فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَى عَدُوِّهِمْ(So, We gave power to those who believed against their enemies,) vthat is, `We gave them victory over the group of Christians which defied them,'فَأَصْبَحُواْ ظَـهِرِينَ(and they became the victorious (uppermost).) `over the disbelieving group, when We sent Muhammad ﷺ.' Imam Abu Ja`far bin Jarir At-Tabari reported that Ibn `Abbas said, "When Allah decided to raise `Isa to heaven, `Isa went to his companions while drops of water were dripping from his head. At that time, there were twelve men at the house. `Isa said to them, `Some of you will disbelieve in me twelve times after having believed in me.' He then asked, `Who among you volunteers that he be made to resemble me and be killed instead of me; he will be with me in my place (in Paradise).' One of the youngest men present volunteered, but `Isa commanded him to sit down. `Isa repeated his statement and the young man again stood up and volunteered, and `Isa again told him to sit down. `Isa repeated the same statement and the young man volunteered. This time, `Isa said, `Then it will be you.' The appearance of `Isa was cast upon that young man, while `Isa, peace be on him, was raised to heaven through an opening in the roof of the house. The Jews came looking for `Isa and arrested the one that appeared as him, killing him by crucifixion. Some of them disbelieved in `Isa twelve times, after they had believed in him. They divided into three groups. One group, Al-Ya`qubiyyah (the Jacobites), said, `Allah remained with us as much as He willed and then ascended to heaven.' Another group, An-Nasturiyyah (the Nestorians), said, `Allah's son remained with us as much as Allah willed and He then rasied him up to heaven.' A third group said, `Allah's servant and Messenger remained with us as much as Allah willed and then Allah raised him up to Him.' The last group was the Muslim group. The two disbelieving groups collaborated against the Muslim group and annihilated it. Islam remained unjustly concealed until Allah sent Muhammad ﷺ,فَـَامَنَت طَّآئِفَةٌ مِّن بَنِى إِسْرَءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٌ(Then a group of the Children of Israel believed and a group disbelieved.) This Ayah refers to the group among the Children of Israel that disbelieved and the group that believed, during the time of `Isa,فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُواْ ظَـهِرِينَ(So, We gave power to those who believed against their enemies, and they became the victorious (uppermost).) through the victory that Muhammad ﷺ gained over the religion of the disbelievers, which brought the dominance of their religion." This is the wording in his book for the Tafsir of this honorable Ayah. Similarly, An-Nasa'i collected this statement of Ibn `Abbas in his Sunan. Therefore, the Ummah of Muhammad ﷺ will always be prevalent on the truth until Allah's command (the Final Hour) commences, while they are on this path. The last group of them will fight against Ad-Dajjal along with `Isa, peace be on him, according to Hadiths in the authentic collections. This is the end of the Tafsir of Surat As-Saff. All praise and thanks are due to Allah.
عیسیٰ علیہ السلام کے ۱۲ حواریوں کی روداد ٭٭اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر آن اور ہر لحظہ جان مال، عزت آبرو، قول فعل، نقل و حرکت سے دل اور زبان سے اللہ کی اور اس کے رسول کی تمام تر باتوں کی تعمیل میں رہیں۔ پھر مثال دیتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کو دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی آواز پر فوراً لبیک پکار اٹھے اور ان کے اس کہنے پر کہ کوئی ہے جو اللہ کی باتوں میں میری امداد کرے انہوں نے بلا غور علی الفور کہہ دیا کہ ہم سب آپ کے ساتھی ہیں اور دین اللہ کی امداد میں آپ کے تابع ہیں۔ چنانچہ روح اللہ علیہ صلوالت اللہ نے اسرائیلیوں اور یونانیوں میں انہیں مبلغ بنا کر شام کے شہروں میں بھیجا، حج کے دنوں میں سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے جگہ دے تاکہ میں اللہ کی رسالت کو پہنچا دوں قریش تو مجھے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں۔ [سنن ابوداود:4734،قال الشيخ الألباني:۔صحیح] ۔ چنانچہ اہل مدینہ کے قبیلے اوس و خزرج کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت ابدی بخشی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں قبول کیں اور مضبوط عہد و پیمان کئے کہ اگر آپ ہمارے ہاں آ جائیں تو پھر کسی سرخ و سیاہ کی طاقت نہیں جو آپ کو دکھ پہنچائے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جانیں لڑا دیں گے اور آپ پر کوئی آنچ نہ آنے دیں گے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر ہجرت کر کے ان کے ہاں گئے تو فی الواقع انہوں نے اپنے کہے کو پورا کر دکھایا اور اپنی زبان کی پاسداری کی اسی لیے انصار کے معزز لقب سے ممتاز ہوئے اور یہ لقب گویا ان کا امتیازی نام بن گیا، اللہ ان سے خوش ہو اور انہیں بھی راضی کرے آمین! جبکہ حواریوں کو لے کر آپ علیہ السلام دین اللہ کی تبلیغ کے لیے کھڑے ہوئے تو بنی اسرائیل کے کچھ لوگ تو راہ راست پر آ گئے اور کچھ لوگ نہ آئے بلکہ آپ علیہ السلام کو اور آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ طاہرہ کو بدترین برائی کی طرف منسوب کیا ان یہودیوں پر اللہ کی پھٹکار پڑی اور ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ بن گئے۔ پھر ماننے والوں میں سے بھی ایک جماعت ماننے میں ہی حد سے گزر گئی اور انہیں ان کے درجہ سے بہت بڑھا دیا، پھر اس گروہ میں بھی کئی گروہ ہو گئے، بعض تو کہنے لگے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں بعض نے کہا تین میں کے تیسرے ہیں یعنی باپ بیٹا اور روح القدس اور بعض نے تو آپ علیہ السلام کو اللہ ہی مان لیا، ان سب کا ذکر سورۃ نساء میں مفصل ملاحظہ ہو۔صفحہ نمبر9494سچے عیسائی ٭٭سچے ایمان والوں کی جناب باری نے اپنے آخر الزماں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تائید کی ان کے دشمن نصرانیوں پر انہیں غالب کر دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب اللہ کا ارادہ ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لے، آپ علیہ السلام نہا دھو کر اپنے اصحاب کے پاس آئے، سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، یہ بارہ صحابہ تھے جو ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے آتے ہی فرمایا ”تم میں وہ بھی ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ کفر کریں گے اور ایک دو دفعہ نہیں بلکہ بارہ بارہ مرتبہ۔“ پھر فرمایا ”تم میں سے کون اس بات پر آمادہ ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈالی جائے اور وہ میرے بدلے قتل کیا جائے اور جنت میں میرے درجے میں میرا ساتھی بنے۔“ ایک نوجوان جو ان سب میں کم عمر تھا، اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو پیش کیا، آپ نے فرمایا ”تم بیٹھ جاؤ“، پھر وہی بات کہی اب کی مرتبہ بھی کم عمر نوجوان صحابی کھڑے ہوئے، عیسیٰ علیہ السلام نے اب کی مرتبہ بھی انہیں بٹھا دیا، پھر تیسری مرتبہ یہی سوال کیا، اب کی مرتبہ بھی یہی نوجوان کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا بہت بہتر، اسی وقت ان کی شکل و صورت بالکل عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہو گئی اور خود عیسیٰ علیہ السلام اس گھر کے ایک روزن سے آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے۔ اب یہودیوں کی فوج آئی اور انہوں نے اس نوجوان کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتار کر لیا اور قتل کر دیا اور سولی پر چڑھا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کے مطابق ان باقی کے گیارہ لوگوں میں سے بعض نے بارہ بارہ مرتبہ کفر کیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے ایماندار تھے۔صفحہ نمبر9495سچے عیسائی ٭٭پھر بنی اسرائیل کے ماننے والے گروہ کے تین فرقے ہو گئے، ایک فرقے نے تو کہا کہ خود اللہ ہمارے درمیان بصورت مسیح تھا، جب تک چاہا رہا، پھر آسمان پر چڑھ گیا، انہیں یعقوبیہ کہا جاتا ہے۔ ایک فرقے نے کہا: ہم میں اللہ کا بیٹا تھا، جب تک اللہ نے چاہا اسے ہم میں رکھا اور جب چاہا اپنی طرف چڑھا لیا، انہیں سطوریہ کہا جاتا ہے۔ تیسری جماعت حق پر قائم رہی ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول عیسیٰ علیہ السلام ہم میں تھے، جب تک اللہ کا ارادہ رہا آپ ہم میں موجود رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا، یہ جماعت مسلمانوں کی ہے۔ پھر ان دونوں کافر جماعتوں کی طاقت بڑھ گئی اور انہوں نے ان مسلمانوں کو مار پیٹ کر قتل و غارت کرنا شروع کیا اور یہ دبے بھی ہوئے اور مغلوب ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، پس بنی اسرائیل کی وہ مسلمان جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائی اور ان کافر جماعتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کفر کیا، ان ایمان والوں کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور انہیں ان کے دشمنوں پر غالب کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غالب آ جانا اور دین اسلام کا تمام ادیان کو مغلوب کر دینا ہی ان کا غالب آنا اور اپنے دشمنوں پر فتح پانا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن جریر اور سنن نسائی۔ [نسائی فی السنن الکبری:489/6] پس یہ امت حق پر قائم رہ کر ہمیشہ تک غالب رہے گی یہاں تک کہ امر اللہ یعنی قیامت آ جائے اور یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہو کر مسیح دجال سے لڑائی کریں گے جیسے کہ صحیح احادیث میں موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ صف کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» صفحہ نمبر9496
اس سورة مبارکہ کی آخری آیت ایک طویل آیت ہے اور منطقی اعتبار سے یہ اس سلسلہ مضمون کا ایک انتہائی اہم اور بلند ترین مقام ہے جو گزشتہ آیات میں چلا آ رہا ہے۔ فرمایا :آیت 14{ یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ } ”اے اہل ایمان ! تم اللہ کے مددگار بن جائو“ اللہ کے مددگار بننے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ کے دین کا جھنڈا سربلند کرنے پر کمربستہ ہو جائو۔ اور اگر تم اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کرو گے تو تم محمد عربی ﷺ کے مددگار بھی بن جائو گے ‘ کیونکہ غلبہ دین کا یہ مشن اصل میں تو اللہ کے رسول ﷺ کا مشن ہے۔ تو اے اہل ایمان ! آئو آگے بڑھو ! اللہ کے دین کا جھنڈا اٹھائو ! جان و مال کا سرمایہ لگائو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مددگاروں میں اپنانام لکھوا لو۔ { کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ } ”جیسے کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے اپنے حواریوں سے“ { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِط } ”کون ہے میرا مددگار اللہ کی طرف ؟“ یعنی کون ہے جو میری مدد کرے اللہ کی راہ میں ؟ مدد مجھے درکار ہے ‘ لیکن مشن اللہ کا ہے۔ اس فقرے میں وہی دو نسبتیں نظر آرہی ہیں جن کا ذکر سورة الفتح کی اس آیت میں حضور ﷺ کی بیعت کے حوالے سے آیا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْج } آیت 10۔ یعنی بیعت حضور ﷺ کے ہاتھ پر ہو رہی ہے لیکن سودا اللہ تعالیٰ سے ہے۔ گویا عملی طور پر اس بیعت میں دو کے بجائے تین ہاتھ ہیں : بیعت کرنے والے کا ہاتھ ‘ حضور ﷺ کا ہاتھ اور اللہ کا ہاتھ۔ چناچہ اللہ کی مدد کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ آپ اس ”بندے“ کی مدد کریں جو اللہ کے مشن کو لے کر اس کے راستے پر نکلا ہو۔ اسی فلسفے کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے اللہ کی مدد کے لیے آپ علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہا تھا اور اسی جذبے کے ساتھ حضور ﷺ کے صحابہ رض نے اپنا سب کچھ آپ ﷺ کے قدموں میں نچھاور کر کے { وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ} الفتح : 29 کی فہرست میں اپنے نام لکھوائے تھے۔ چناچہ آج بھی اس مشن کو آگے بڑھانے کا یہی طریقہ ہے کہ اللہ کی توفیق سے اللہ کا کوئی بندہ خود کو اس مشن کے لیے وقف کر کے { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِط } کی صدا بلند کرے کہ اے اللہ کے بندو ! میں نے تو یکسو ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ مجھے تو اب اس راستے پر چلنا ہی چلنا ہے۔ کوئی ساتھی ملے گا تب بھی چلوں گا اور اگر کوئی ساتھی نہیں ملے گا تب بھی چلوں گا۔ تو آئو آگے بڑھو اور میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اللہ کے مددگار بن جائو ! { قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ } ”حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار !“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مددگار بن گئے۔ بنیادی طور پر اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے خلوص و ایثار کا ذکر ہے کہ انہوں نے { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } کی دعوت پر بلاتامل خود کو پیش کردیا۔ { فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَکَفَرَتْ طَّآئِفَۃٌج } ”تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ کفر پر اڑا رہا۔“ { فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ } ”تو ہم نے مدد کی ان کی جو ایمان لائے تھے ان کے دشمنوں کے خلاف“ { فَاَصْبَحُوْا ظٰہِرِیْنَ۔ } ”تو بالآخر وہی غالب ہوئے۔“ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا دنیا میں غالب ہوئے اور اللہ کے رسول علیہ السلام کا انکار کرنے والے یہودی مغلوب ہوئے۔۔۔۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو یہ کامیابی آسانی سے نہیں ملی تھی ‘ اس کے لیے ان لوگوں کو تین سو سال تک جاں گداز جدوجہد کرنی پڑی اور بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ اس کے مقابل حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رض کی ابتلاء و آزمائش کا دورانیہ چند سال کے عرصے میں سمٹ گیا تھا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جتنے طویل عرصے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے مخالفین کی طرف سے تکلیفیں اور سختیاں برداشت کی ہیں اس کی کوئی مثال کسی اور نبی علیہ السلام یا رسول علیہ السلام کے پیروکاروں میں نہیں ملتی۔ قرآن مجید میں ان کی آزمائشوں اور قربانیوں کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً سورة یٰسین کے آغاز میں جن تین رسولوں کا ذکر آیا ہے ان کے بارے میں زیادہ تر مفسرین کی رائے یہی ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھے۔ یعنی وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے فرستادہ رسول علیہ السلام کے رسول تھے۔ اسی طرح سورة البروج میں جن اہل ایمان کا واقعہ بیان ہوا ہے وہ بھی عیسائی تھے اور انہیں بادشاہِ وقت ’ ابونواس ‘ نے خندقوں میں ڈال کر زندہ جلا دیا تھا۔ پھر اصحاب الکہف جو رومی بادشاہ کے تشدد کے خوف سے غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے وہ بھی عیسائی تھے۔ بہرحال حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکاروں کی تین صدیوں پر محیط لازوال قربانیوں کے بعد بالآخر 300 عیسوی میں رومی سلطنت نے عیسائیت قبول کرلی۔ آیت میں اسی غلبے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکار جب گمراہ ہونے پر آئے تو انہوں نے شرک بھی بدترین ایجاد کیا۔ یعنی انہوں نے اپنے پیغمبر کو بربنائے عقیدت اللہ کا صلبی بیٹا بنا ڈالا نعوذ باللہ۔ اس ضمن میں آج ہمیں بھی اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بھی بعض نعت خواں حضرات حضور ﷺ سے عقیدت اور عشق و محبت کے نام پر اتنا غلو کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اللہ کے برابر بٹھانے سے کم پر ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ایسے لوگوں نے ہندوئوں کی دیکھا دیکھی حضور ﷺ کے لیے ”اوتار“ کا عقیدہ بھی گھڑ لیا ہے۔ عبرت کے لیے ملاحظہ ہوں یہ اشعار : ؎وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیٰ ﷺ ہو کر !اور : ؎مدینے کی مسجد میں منبر کے اوپر بغیر عین کا اِک عرب ہم نے دیکھا ! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ } النساء : 171 کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم صرف یہود و نصاریٰ کے لیے ہی نہیں تھا ‘ ہمارے لیے بھی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو بھی درخورِ اعتناء نہیں سمجھا اور ہر اس گناہ اور جرم میں بےدھڑک اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی جس کا ارتکاب کر کے پچھلی امتیں راندئہ درگاہ ہوئی تھیں۔ سوائے اس کے کہ قرآن کے متن میں ہم تحریف نہیں کرسکے اور وہ بھی اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ ورنہ اگر ممکن ہوتا تو اس میدان میں بھی ہم کسی سے پیچھے نہ رہتے۔
کمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّـهِ (...just as ` Isa, son of Maryam, said to the Disciples, "Who are my supporters towards Allah?" ...[ 61:14] " The word حَوَارِيُّونَ hawariyyin is the plural of hawariyy which connotes a 'sincere friend who is free from any kind of adulteration' [ Ruh-ul-Ma’ ani, referring to Azhari ]. This is the reason why people who believed in Prophet Jesus (علیہ السلام) are called hawariyy. They were twelve in number, as is already discussed in Surah 'Al-` Imran. This verse refers to an incident of Prophet ` Isa (علیہ السلام) and urges the Muslims to gird up their loins to unselfishly help and support the religion of Allah, as when Prophet ` Isa (علیہ السلام) was hurt by the enemies, he asked his disciples مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّـهِ "Who are my supporters towards Allah?"...[ 14] In other words, 'who will help and support me in propagating the religion of Allah?' Twelve people volunteered and pledged to his loyalty and helped him in preaching the religion. Following this example, the Muslims ought to help and support Allah's religion. The blessed Companions of the Holy Prophet Muhammad ﷺ followed this example to the fullest extent, and acted upon this command to the highest degree, so much so that the example of the Holy Prophets' Companions stands unparalleled in the history of other ummahs. They helped the Holy Prophet ﷺ and, in the process, incurred the wrath and enmity of Arab and non-Arab communities for the sake of Allah's religion. They bore their tortures and persecution. They dedicated their lives, wealth and children to the cause. Eventually, Allah granted them help and victory. He granted them triumph and mastery of the world, and the territories of the enemies fell into their hands.Three Groups of Christiansفَآمَنَت طَّائِفَةٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَت طَّائِفَةٌ ۖ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ (So, a group from the children of Isra'il believed, and another group disbelieved. Then We supported those who believed against their enemy, and they became victorious...61:14)Baghawi interprets this verse in the light of a narration of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ that when Prophet ` Isa (علیہ السلام) was raised to the heaven, his followers disagreed and became three groups. A group claimed that He was Himself God who went back to the heaven. The second group claimed that He Himself was not God, but God's son. God lifted him up and salvaged him from the enemies and granted him superiority. The third group proclaimed the truth and said that he was neither god nor the son of god, but he was Allah's servant and His Messenger. Allah took him away to the heaven to protect him from the enemies, and to raise his status. These people were the true believers. Different sectors of the general public attached themselves to each one of these groups. The groups clashed with one another. The two of the non-believing groups overpowered the third group, which was a group of true believers. Eventually, Allah raised the Final Messenger of Allah ﷺ who supported the group of the true believers. This group thus dominated the others because of their correct belief and its solid proofs confirmed by the Qur'an. [ Mazhari ]In this interpretation, the phrase الَّذِينَ آمَنُوا "those who believed [ 14] " would refer to the believers of the Ummah of the Prophet ` Isa (علیہ السلام) who would triumph against the unbelievers with the help and support of the Final Messenger ﷺ . [ Mazhari ]. Some scholars hold that when Prophet Isa (علیہ السلام) was raised to the heaven, his followers were divided into two groups. One of them believed that he was God or God's son and thus they became polytheists. The other group believed that he was the servant of Allah and His Messenger, and thus they stuck to the right religion. Then there was a war between the believers and the unbelievers. Allah granted victory to the believing faction of Prophet ` Isa (علیہ السلام) against the unbelieving faction. But it is popularly understood that in the religion of Prophet ` Isa (علیہ السلام) the institution of jihad did not exist. Therefore, it is inconceivable that believers would have waged a war. [ Ruh-ul-Ma’ ani ]. However, it is possible that the unbelieving Christians might have started the war and the believing Christians were forced to defend themselves. This will not fall under the category of war.Al-hamdulillahThe Commentary onSurah As-SaffEnds here
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.