The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-An'am • Ayah 121

Para 8 Surah 6 : 121
وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَـٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَـٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَلَا
تَأْكُلُوا۟
مِمَّا
لَمْ
يُذْكَرِ
ٱسْمُ
ٱللَّهِ
عَلَيْهِ
وَإِنَّهُۥ
لَفِسْقٌ
ۗ
وَإِنَّ
ٱلشَّيَـٰطِينَ
لَيُوحُونَ
إِلَىٰٓ
أَوْلِيَآئِهِمْ
لِيُجَـٰدِلُوكُمْ
ۖ
وَإِنْ
أَطَعْتُمُوهُمْ
إِنَّكُمْ
لَمُشْرِكُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Prohibition of what was Slaughtered in other than Allah's NameThis Ayah is used to prove that slaughtered animals are not lawful when Allah's Name is not mentioned over them -- even if slaughtered by a Muslim. The Ayah about hunting game,فَكُلُواْ مِمَّآ أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُواْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ(So eat of what they (trained hunting dogs or birds of prey) catch for you, but pronounce the Name of Allah over it.) 5:4 supports this. The Ayah here emphasized this ruling, when Allah said,وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ(for surely it is disobedience.) They say that "it" refers to eating it, and others say that it refers to the sacrifice for other than Allah. There are various Hadiths that order mentioning Allah's Name when slaughtering and hunting. The Hadith narrated by `Adi bin Hatim and Abu Tha`labah (that the Prophet said);«إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكْرتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْك»(When you send your trained hunting dog and mention Allah's Name on releasing it, then eat from whatever it catches for you.) This Hadith was collected in the Two Sahihs. The Rafi` bin Khadij narrated that the Prophet said;«مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلُوه»(You can use what would make blood flow (i. e., slaughter) and you can eat what is slaughtered and the Name of Allah is mentioned at the time of slaughtering.) This Hadith was also collected in the Two Sahihs. Ibn Mas`ud narrated that Allah's Messenger ﷺ said to the Jinns.«لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْه»((For food) you have every bone on which Allah's Name was mentioned on slaughtering.) Muslim collected this Hadith. Jundub bin Sufyan Al-Bajali said that the Messenger of Allah ﷺ said,«مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ، حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ الله»(Whoever slaughtered before he prayed (the `Id prayer), let him slaughter another sacrifice in its place. Whoever did not offer the sacrifice before we finished the prayer, let him slaughter and mention Allah's Name.) The Two Sahihs recorded this Hadith.The Devil's InspirationAllah said,وَإِنَّ الشَّيَـطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَـدِلُوكُمْ(And certainly, the Shayatin do inspire their friends to dispute with you,) Ibn Abi Hatim recorded that Abu Ishaq said that a man said to Ibn `Umar that Al-Mukhtar claimed that he received revelation. So Ibn `Umar said, "He has said the truth," and recited this Ayah,وَإِنَّ الشَّيَـطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ(And certainly, the Shayatin do inspire their friends...) Abu Zamil said, "I was sitting next to Ibn `Abbas at a time when Al-Mukhtar bin Abi `Ubayd was performing Hajj. So a man came to Ibn `Abbas and said, `O Ibn `Abbas! Abu Ishaq (Al-Mukhtar) claimed that he received revelation this night.' Ibn `Abbas said, He has said the truth.' I was upset and said, `Ibn `Abbas says that Al-Mukhtar has said the truth' Ibn `Abbas replied, `There are two types of revelation, one from Allah and one from the devil. Allah's revelation came to Muhammad ﷺ, while the Shaytan's revelation comes to his friends.' He then recited,وَإِنَّ الشَّيَـطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ(And certainly, the Shayatin do inspire their friends...) We also mentioned `Ikrimah's commentary on the Ayah,يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً(Inspiring one another with adorned speech as a delusion.) Allah said next,لِيُجَـدِلُوكُمْ(to dispute with you,) Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas commented;وَلاَ تَأْكُلُواْ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ(Eat not of that on which Allah's Name has not been mentioned...) until,لِيُجَـدِلُوكُمْ(...to dispute with you,) "The devils inspire their loyal supporters, `Do you eat from what you kill but not from what Allah causes to die"' As-Suddi said; "Some idolators said to the Muslims, `You claim that you seek Allah's pleasure. Yet, you do not eat what Allah causes to die, but you eat what you slaughter' Allah said,وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ(and if you obey them...), and eat dead animals,إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ(then you would indeed be polytheists. ) Similar was said by Mujahid, Ad-Dahhak and several others among scholars of the Salaf.Giving Preference to Anyone's Saying Over the Legislation of Allah is ShirkAllah's statement,وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ(and if you obey them, then you would indeed be polytheists.) means, when you turn away from Allah's command and Legislation to the saying of anyone else, preferring other than what Allah has said, then this constitutes Shirk. Allah said in another Ayah,اتَّخَذُواْ أَحْبَـرَهُمْ وَرُهْبَـنَهُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللَّهِ(They (Jews and Christians) took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah.)9:31 In explanation of this Ayah, At-Tirmidhi recorded that `Adi bin Hatim said, "O Allah's Messenger! They did not worship them." The Prophet said,«بَلَى إِنَّهُمْ أَحَلُّوا لَهُمُ الْحَرَامَ وَحَرَّمُوا عَلَيْهِمُ الْحَلَالَ فَاتَّبعُوهُمْ فَذَلِكَ عِبَادَتُهُمْ إِيَّاهُم»(Yes they did. They (monks and rabbis) allowed the impermissible for them and they prohibited the lawful for them, and they followed them in that. That was their worship of them.)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

سدھائے ہوئے کتوں کا شکار ٭٭یہی آیت ہے جس سے بعض علماء نے یہ سمجھا ہے کہ گو کسی مسلمان نے ہی ذبح کیا ہو لیکن اگر بوقت ذبح اللہ کا نام نہیں لیا تو اس ذبیحہ کا کھانا حرام ہے، اس بارے میں علماء کے تین قول ہیں ایک تو وہی جو مذکور ہوا، خواہ جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیا ہو یا بھول کر، اس کی دلیل آیت «فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ» [5-المائدہ:4] ‏ ہے یعنی ” جس شکار کو تمہارے شکاری کتے روک رکھیں تم اسے کھا لو اور اللہ کا نام اس پر لو “ - اس آیت میں اسی کی تاکید کی اور فرمایا کہ ” یہ کھلی نافرمانی ہے “ یعنی اس کا کھانا یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا۔ احادیث میں بھی شکار کے اور ذبیحہ کے متعلق حکم وارد ہوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑے جس جانور کو وہ تیرے لیے پکڑ کر روک لے تو اسے کھا لے ۔ [صحیح بخاری:5475] ‏ اور حدیث میں ہے جو چیز خون بہا دے اور اللہ کا نام بھی اس پر لیا گیا ہو اسے کھا لیا کرو ۔ [صحیح بخاری:5503] ‏ جنوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تمہارے لیے ہر وہ ہڈی غذا ہے جس پر اللہ کا نام لیا جائے ۔ [صحیح مسلم:450] ‏ عید کی قربانی کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ جس نے نماز عید پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا وہ اس کے بدلے دوسرا جانور ذبح کر لے اور جس نے قربانی نہیں کی وہ ہمارے ساتھ عید کی نماز پڑھے پھر اللہ کا نام لے کر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کرے ۔ [صحیح بخاری:985] ‏ چند لوگوں نے حضور سے پوچھا کہ بعض نو مسلم ہمیں گوشت دیتے ہیں کیا خبر انہوں نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام بھی لیا یا نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان پر اللہ کا نام لو اور کھا لو ۔ [صحیح بخاری:5507] ‏صفحہ نمبر2742الغرض اس حدیث سے بھی یہ مذہب قوی ہوتا ہے کیونکہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی سمجھا کہ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھنا ضروری ہے اور یہ لوگ احکام اسلام سے صحیح طور پر واقف نہیں ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں کیا خبر اللہ کا نام لیتے بھی ہیں یا نہیں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بطور مزید احتیاط فرما دیا کہ تم خود اللہ کا نام لے لو تاکہ بالفرض انہوں نے نہ بھی لیا ہو تو یہ اس کا بدلہ ہو جائے ، ورنہ ہر مسلمان پر ظاہر احسن ظن ہی ہو گا۔ دوسرا قول اس مسئلہ میں یہ ہے کہ بوقت ذبح «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے اگر چھوٹ جائے گوہ عمداً ہو یا بھول کر، کوئی حرج نہیں۔ اس آیت میں جو فرمایا گیا ہے کہ یہ فسق ہے اس کا مطلب یہ لوگ یہ لیتے ہیں کہ اس سے مراد غیر اللہ کے لیے ذبح کیا ہوا جانور ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» [6-الأنعام:145] ‏ بقول عطاء رحمہ اللہ ان جانوروں سے روکا گیا ہے جنہیں کفار اپنے معبودوں کے نام ذبح کرتے تھے اور مجوسیوں کے ذبیحہ سے بھی ممانعت کی گئی۔ اس کا جواب بعض متأخرین نے یہ بھی دیا ہے کہ «وَإِنَّهُ» میں واؤ حالیہ ہے تو فسق اسی وقت ہوگا جب اسے غیر اللہ کے نام کا مان لیں اور واؤ عطف کا ہو ہی نہیں سکتا ورنہ اس سے جملہ اسمیہ جریہ کا عطف جملہ فعلیہ حالیہ پر لازم آئے گا۔ لیکن یہ دلیل اس کے بعد کے جملے «وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ» سے ہی ٹوٹ جاتی ہے اس لیے کہ وہ تو یقیناً عاطفہ جملہ ہے۔ تو جس اگلے واؤ کو حالیہ کہا گیا ہے اگر اسے حالیہ مان لیا جائے تو پھر اس پر اس جملے کا عطف ناجائز ہوگا اور اگر اسے پہلے کے حالیہ جملے پر عطف ڈالا جائے تو جو اعتراض یہ دوسرے پر وارد کر رہے تھے وہی ان پر پڑے گا ہاں اگر اس واؤ کو حالیہ نہ مانا جائے تو یہ اعتراض ہٹ سکتا ہے لیکن جو بات اور دعویٰ تھا وہ سرے سے باطل ہو جائے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر2743سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”مراد اس سے مردار جانور ہے جو اپنی موت آپ مر گیا ہو۔‏“ اس مذہب کی تائید ابوداؤد کی ایک مرسل حدیث سے بھی ہو سکتی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے اس نے اللہ کا نام لیا ہو یا نہ لیا ہو کیونکہ اگر وہ لیتا تو اللہ کا نام ہی لیتا ۔ [ابوداود فی المراسیل:341،قال الشيخ الألباني:مرسل و ضعیف] ‏ اس کی مضبوطی دارقطنی کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب مسلمان ذبح کرے اور اللہ کا نام نہ ذکر کرے تو کھا لیا کرو کیونکہ مسلمان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔‏“ اسی مذہب کی دلیل میں وہ حدیث بھی پیش ہو سکتی ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے کہ نو مسلموں کے ذبیحہ کے کھانے کی جس میں دونوں اہتمال تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو اگر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا کہنا شرط اور لازم ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تحقیق کرنے کا حکم دیتے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اگر «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کہنا بوقت ذبح بھول گیا ہے تو حلال ہے، ذبیحہ پر عمداً «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہ کہی جائے وہ حرام ہے۔ اسی لیے امام ابو یوسف اور مشائخ نے کہا ہے کہ اگر کوئی حاکم اسے بیچنے کا حکم بھی دے تو وہ حکم جاری نہیں ہو سکتا کیونکہ اجماع کے خلاف ہے۔ لیکن صاحب ہدایہ کا یہ قول محض غلط ہے، امام شافعی رحمہ اللہ سے پہلے بھی بہت سے ائمہ اس کے خلاف تھے۔ چنانچہ اوپر جو دوسرا مذہب بیان ہوا ہے کہ بسم اللہ پڑھنا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا ان کے سب ساتھیوں کا اور ایک روایت میں امام احمد رحمہ اللہ کا اور امام مالک رحمہ اللہ کا اور اشہب بن عبدالعزیز کا مذہب ہے اور یہی بیان کیا گیا ہے۔ ابن عباس، ابوہریرہ رضی اللہ عنہم، عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا اس سے اختلاف ہے۔ پھر اجماع کا دعویٰ کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر2744امام ابو جعفر بن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”جن لوگوں نے بوقت ذبح بسم اللہ بھول کر نہ کہے جانے پر بھی ذبیحہ حرام کہا ہے انہوں نے اور دلائل سے اس حدیث کی بھی مخالفت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلم کو اس کا نام ہی کافی ہے اگر وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام ذکر کرنا بھول گیا تو اللہ کا نام لے اور کھالے - [دارقطنی:296/4:ضعیف و موقوف] ‏ یہ حدیث بیہقی میں ہے لیکن اس کا مرفوع روایت کرنا خطا ہے اور یہ خطا معقل بن عبیداللہ خرزمی کی ہے، ہیں تو یہ صحیح مسلم کے راویوں میں سے مگر سعید بن منصور اور عبداللہ بن زبیر حمیری اسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کرتے ہیں -بقول امام بہیقی رحمہ اللہ یہ روایت سب سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبی اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ علیہم اس جانور کا کھانا مکروہ جانتے تھے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو گو بھول سے ہی رہ گیا ہو۔ ظاہر ہے کہ سلف کراہئیت کا اطلاق حرمت پر کرتے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں یہ یاد رہے کہ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ ان دو ایک قولوں کو کوئی چیز نہیں سمجھتے جو جمہور کے مخالف ہوں اور اسے اجماع شمار کرتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق» ۔ امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے ایک شخص نے مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس بہت سے پرند ذبح شدہ آئے ہیں ان سے بعض کے ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھی گئی ہے اور بعض پر بھول سے رہ گئی ہے اور سب غلط ملط ہوگئے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ سب کھا لو۔ پھر محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے یہی سوال ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”جن پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا انہیں نہ کھاؤ۔‏“ اس تیسرے مذہب کی دلیل میں یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطاء کو بھول کو اور جس کام پر زبردستی کی جائے اس کو معاف فرما دیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن اس میں ضعف ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بتائیے تو ہم میں سے کوئی شخص ذبح کرے اور بسم اللہ کہنا بھول جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام ہر مسلمان کی زبان پر ہے ۔ [بیہقی فی السنن الکبری:240/9:ضعیف] ‏ (‏یعنی وہ حلال ہے)۔ لیکن اس کی اسناد ضعیف ہے۔ مردان بن سالم ابوعبداللہ شامی اس حدیث کا راوی ہے اور ان پر بہت سے ائمہ نے جرح کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں تمام مذاہب اور ان کے دلائل وغیرہ تفصیل سے لکھے ہیں اور پوری بحث کی ہے، بظاہر دلیلوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذبح کے وقت بسم اللہ کہنا ضروری ہے لیکن اگر کسی مسلمان کی زبان سے جلدی میں یا بھولے سے یا کسی اور وجہ سے نہ نکلے اور ذبح ہو گیا تو وہ حرما نہیں ہوتا (‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم) عام اہل علم تو کہتے ہیں کہ اس آیت کا کوئی حصہ منسوخ نہیں لیکن بعض حضرات کہتے ہیں اس میں اہل کتاب کے ذبیحہ کا استثناء کر لیا گیا ہے اور ان کا ذبح کیا ہوا حلال جانور کھا لینا ہمارے ہاں حلال ہے تو گو وہ اپنی اصطلاح میں اسے نسخ سے تعبیر کریں لیکن دراصل یہ ایک مخصوص صورت ہے۔صفحہ نمبر2745پھر فرمایا کہ ” شیطان اپنے ولیوں کی طرف وحی کرتے ہیں “ -سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب کہا گیا کہ مختار گمان کرتا ہے کہ اس کے پاس وحی آتی ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا ”وہ ٹھیک کہتا ہے۔ شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں۔‏“ اور روایت میں ہے کہ اس وقت مختار حج کو آیا ہوا تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس جواب سے کہ وہ سچا ہے اس شخص کو سخت تعجب ہوا۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے تفصیل بیان فرمائی کہ ”ایک تو اللہ کی وحی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئی اور ایک شیطانی وحی ہے جو شیطان کے دوستوں کی طرف آتی ہے۔ شیطانی وساوس کو لے کر لشکر شیطان اللہ والوں سے جھگڑتے ہیں۔‏“ چنانچہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ کیا اندھیر ہے؟ کہ ہم اپنے ہاتھ سے مارا ہوا جانور تو کھا لیں اور جسے اللہ مار دے یعنی اپنی موت آپ مر جائے اسے نہ کھائیں؟ اس پر یہ آیت اتری [سنن ابوداود:2819،قال الشيخ الألباني:صحیح لكن ذكر اليهود فيه منكر والمحفوظ أنهم المشركون] ‏ اور بیان فرمایا کہ وجہ حلت اللہ کے نام کا ذکر ہے لیکن ہے یہ قصہ غور طلب اولاً اس وجہ سے کہ یہودی از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں جانتے تھے دوسرے اس وجہ سے بھی کہ یہودی تو مدینے میں تھے اور یہ پوری سورت مکہ میں اتری ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ حدیث ترمذی میں مروی تو ہے لیکن مرسل طبرانی میں ہے کہ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد کہ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھا لو اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ تو اہل فارس نے قریشوں سے کہلوا بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ جھگڑیں اور کہیں کہ جسے تم اپنی چھری سے ذبح کرو وہ تو حلال اور جسے اللہ تعالیٰ سونے کی چھری سے خود ذبح کرے وہ حرام؟ یعنی میتہ از خود مرا ہوا جانور۔ اس پر یہ آیت اتری۔ پس شیاطین سے مراد فارسی ہیں اور ان کے اولیاء قریش ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13808:ضعیف] ‏ اور بھی اس طرح کی بہت سی روایتیں کئی ایک سندوں سے مروی ہیں لیکن کسی میں بھی یہود کا ذکر نہیں۔صفحہ نمبر2746پس صحیح یہی ہے کیونکہ آیت مکی ہے اور یہود مدینے میں تھے اور اس لیے بھی کہ یہودی خود مردار خوار نہ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جسے تم نے ذبح کیا یہ تو وہ ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اور جو از خود مر گیا وہ وہ ہے جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا۔‏“ [سنن ابوداود:2818،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ مشرکین قریش فارسیوں سے خط و کتابت کر رہے تھے اور رومیوں کے خلاف انہیں مشورے اور امداد پہنچاتے تھے اور فارسی قریشیوں سے خط و کتابت رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف انہیں اکساتے اور ان کی امداد کرتے تھے۔ اسی میں انہوں نے مشرکین کی طرف یہ اعتراض بھی بھیجا تھا اور مشرکین نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہی اعتراض کیا اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں بھی یہ بات کھٹکی اس پر یہ آیت اتری۔ پھر فرمایا ” اگر تم نے ان کی تابعداری کی تو تم مشرک ہو جاؤ گے کہ تم نے اللہ کی شریعت اور فرمان قرآن کے خلاف دوسرے کی مان لی “ اور یہی شرک ہے کہ اللہ کے قول کے مقابل دوسرے کا قول مان لیا چنانچہ قرآن کریم میں ہے آیت «اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» [9-التوبة:31] ‏ یعنی ” انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الہ بنا لیا ہے “۔ ترمذی میں ہے کہ جب عدی بن حاتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے حرام کو حلال کہا اور حلال کو حرام کہا اور انہوں نے ان کا کہنا مانا یہی عبادت ہے ۔ [سنن ترمذي:3095،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏صفحہ نمبر2747

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 121 وَلاَ تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ ط۔ اس آیت کا تعلق بھی مشرکین عرب کے خود ساختہ اعتقادات اور توہمات سے ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بعض جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام سرے سے لینا ہی نہیں چاہیے۔ یہ حکم ایک خاص مسئلے کے حوالے سے ہے ‘ جس کی وضاحت آگے آیت 138 میں آئے گی۔وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ الآی اَوْلِیٰٓءِہِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْج وَاِنْ اَطَعْتُمُوْہُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ ۔مشرکین مکہ اپنے غلط اعتقادات کی حمایت میں طرح طرح کی حجت بازی کرتے رہتے تھے ‘ مثلاً یہ کیا بات ہوئی کہ جو جانور اللہ نے مارا ہے یعنی ازخود مرگیا ہے وہ تو حرام قرار دے دیاجائے اور جس کو تم خود مارتے ہو یعنی ذبح کرتے ہو اس کو حلال مانا جائے ؟ اسی طرح وہ سود کے بارے میں بھی دلیل دیتے تھے کہ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا 7 البقرۃ : 275 کہ یہ بیع بھی تو ربا سود ہی کی طرح ہے۔ جیسے تجارت میں نفع ہوتا ہے ایسے ہی سودی لین دین میں بھی نفع ہوتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ دس لاکھ کسی کو قرض دیے ‘ اس سے چار ہزار روپے ماہانہ منافع لے لیا تو وہ ناجائز اور دس لاکھ کا مکان کسی کو کرائے پردے کر چار ہزار روپے ماہانہ اس سے کرایہ لیا جائے تو وہ جائز ! اس طرح کے اشکالات بظاہر بڑے دلنشین ہوتے ہیں ‘ جن کے بارے میں یہاں بتایا جا رہا ہے کہ اس طرح کی باتیں ان کے شیاطین انہیں سکھاتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے مجادلہ کریں ‘ تاکہ تمہیں بھی اپنے ساتھ گمراہی کے راستے پر لے چلیں۔ لہٰذا تم ان کی اس طرح کی باتوں کو نظر انداز کرتے رہا کرو۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Linkage of VersesEarlier (116), by saying: وَ اِن تطِع (And if you obey), following people in error was prohibited absolutely. Onward from there, comes the prohibition of such following in a particular matter as necessitated by an event. That event pertains to the lawfulness of what has been slaughtered properly or improperly. The event is that disbelievers tried to put Muslims in doubt by commenting that they did not eat of the animals killed by Allah (i.e. by natural death) while they had no problem with eating of what they killed (slaughtered) themselves (as deduced by Abu Dawud and al-Hakim from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ). Some Muslims reported this doubt before the Holy Prophet ﷺ Thereupon, these verses ending at: لَمُشْرِ‌كُونَ (121) were revealed (narrated by Abu Dawud and Al Tirmidhi from Sayyidna Ibn ` Abbs as in Al-Lubab).The gist of the answer given is: You are Muslims. You observe the injunctions of Allah particularly - and Allah has told you all about the Halal and the Haram. So, keep abiding by it. Do not entertain any doubts about something Halal being حَرَام haram, and something حَرَام haram, being Halal. As for the scruples of disbelievers, just pay no attention to them.The substantiation of this answer is that rational proofs are required only to prove the basic principles of faith (like Oneness of Allah, the prophethood of His messengers etc.) but once these basic principles are established and admitted, rational arguments are no more required for establishing a subsidiary or consequential rule of the Shari'ah. What is required is to prove that this rule is based on a specific order given by Allah or His messenger. Once it is established that the rule is based on a specific injunction imposed by Allah Ta` ala or His messenger, it cannot be called in question on the basis of rational ar-guments. (because after admitting that the rule is prescribed by Allah Who is all-Wise, all-Powerful, it will always be based on wisdom which might be unknown to us.) Rather, it is sometimes harmful to mention rational wisdom for the rules of Shari'ah, because any wisdom given by one's conjectures will always remain subject to doubts on the basis of counter arguments, and there is no way to find out a certain and absolute wisdom for a subsidiary rule of Shari'ah. However, if it is evident that a person wants to know the wisdom behind a rule of Shari'ah only to seek truth and to satisfy himself, there is no harm in mentioning some possible reasons of a rule before him as a matter of additional knowledge. But in the event that the rational wisdom is asked only for the sake of confrontation, then the proper way for a Muslim should be to ignore such questions and to act according to the prescribed rules without paying attention to the critic. It is true that if a person wants to prove that a subsidiary rule of Shari'ah is repugnant to an absolute principle established by reason, the point raised by him may deserve answer, but the question raised by the mushriks in the present case was not of this nature in any way. Therefore, the Muslims are directed to ignore such absurd questions and keep believing and acting as before.It is on the basis of the aforesaid principles that the question of Mushriks has not been answered in express terms; However, the expression used has given a subtle indication to the difference between a carrion and an animal slaughtered properly. The text gives permission to eat an animal on which Allah's name is invoked (كُلُوا مِمَّا ذُكِرَ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ It is obvious that Allah's name is invoked on an animal while slaughtering it, therefore, it implies the condition of slaughtering an animal which drains out impure blood from the animal. On the other hand, it is forbidden to eat of an animal on which Allah's name is not invoked وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ. Not invoking Allah's name may happen in two different situations: (1) Not slaughtering an animal at all (2) slaughtering an animal without invoking Allah's name. Both these situations render the animal Harm according to this verse. Obviously, an animal which dies its natural death is covered under the first situation where its impure blood was not drained out and remaining in the body rendered it impure. That is why it has been held as Haram.CommentaryThe Qur'anic order of reciting the name of Allah implied; مَا ذُكِرَ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ (that upon which the name of Allah has been invoked) includes both kinds of slaughter termed in Islamic Fiqh as "al-dhabh-al-ikhtiyariyy (slaughtering an animal under control) and "al-dhabh-al-idtirariyy„ (hunting an animal out of control with an arrow or a hunting dog or falcon). The name of Allah shall be recited in the latter case when releasing the arrow or the dog or falcon.Similarly, the words " مَّا ذُكِرَ‌ اسْمُ اللَّـهِ عَلَيْهِ " include reciting actually or as implied. That is why Imam Abu Hanifah (رح) has allowed to eat an animal upon which the reciting of the name of Allah was missed inadvertently. However if it is missed deliberately, it will render the animal Haram.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.