The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Hashr • Ayah 15

Para 28 Surah 59 : 15
كَمَثَلِ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ۖ ذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

كَمَثَلِ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبْلِهِمْ
قَرِيبًا
ۖ
ذَاقُوا۟
وَبَالَ
أَمْرِهِمْ
وَلَهُمْ
عَذَابٌ
أَلِيمٌ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The False Promise of Support the Hypocrites gave to the JewsAllah states that the hypocrites, `Abdullah bin Ubayy and his like, sent a messenger to Bani An-Nadir promising them help. Allah the Exalted said,أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نَـفَقُواْ يَقُولُونَ لإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلاَ نُطِيعُ فيكُمْ أَحَداً أَبَداً وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّكُمْ(Have you not observed the hypocrites who say to their friends among the People of the Scripture who disbelieve: "If you are expelled, we indeed will go out with you, and we shall never obey anyone against you; and if you are attacked, we shall indeed help you.") Allah then said,وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ(But Allah is Witness that they verily are liars.) meaning, the hypocrites lied when they issued this promise, because it was just words that they did not intend to fulfill. Also, what they said they would do, would never have been fulfilled by them, and this is why Allah said,وَلَئِن قُوتِلُواْ لاَ يَنصُرُونَهُمْ(and if they are attacked, they will never help them.) meaning, the hypocrites will not fight along with the Jews,وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ(And (even) if they do help them, ) and even if the hypocrites did fight along their side,لَيُوَلُّنَّ الاٌّدْبَـرَ ثُمَّ لاَ يُنصَرُونَ(they will turn their backs, and they will not be victorious.) This Ayah contains good news, just as the good news that this following Ayah conveys,لاّنتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً فِى صُدُورِهِمْ مِّنَ اللَّهِ(Verily, you are more fearful in their breasts than Allah.) meaning, the hypocrites fear you more than they fear Allah, as He says;إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً(Behold! a section of them fear men as they fear Allah or even more.)(4:77) This is why Allah said,ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُونَ(That is because they are a people who comprehend not.) Allah then said,لاَ يُقَـتِلُونَكُمْ جَمِيعاً إِلاَّ فِى قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَآءِ جُدُرٍ(They fight not against you even together, except in fortified townships, or from behind walls.) meaning, they will not fight Muslims except from behind besieged fortified forts, because of their cowardice and fear of Muslims. They only fight when they have to defend themselves (even though they threaten Muslims of reprisals). Allah the Exalted said,بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ(Their enmity among themselves is very great.) meaning, the enmity they feel against each other is intense,وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ(And make you to taste the violence of one another.)(6:65) Allah said in the Ayah,تَحْسَبُهُمْ جَمِيعاً وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى(You would think they were united, but their hearts are divided.) meaning, even though one might see them combining forces and think that these forces are harmonious, yet in reality, they are divided severely. Ibrahim An-Nakha`i said that this Ayah refers to the hypocrites and the People of the Scriptures,ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَعْقِلُونَ(That is because they are a people who understand not.) Allah said,كَمَثَلِ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِيباً ذَاقُواْ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (They are like their immediate predecessors; they tasted the evil result of their conduct, and for them a painful torment.) referring to the Jewish tribe of Bani Qaynuqa`, according to Ibn `Abbas, Qatadah and Muhammad bin Ishaq.The Parable of the Hypocrites and the JewsAllah said,كَمَثَلِ الشَّيْطَـنِ إِذْ قَالَ لِلإِنسَـنِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّى بَرِىءٌ مِّنكَ(Like Shaytan, when he says to man: "Disbelieve." But when (man) disbelieves, Shaytan says: "I am free of you...") meaning, the example of the Jews being deceived by the promises of the hypocrites, who said that they will help them if Muslims fight them, is that of the devil. When matters got serious and the Jews were besieged, the hypocrites betrayed them and abandoned them to taste utter defeat. Likewise, the devil lures mankind into disbelief and when they obey him, he disowns them and declares himself free of their actions, saying,إِنِّى أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَـلَمِينَ(I fear Allah, the Lord of all that exists!) Allah said,فَكَانَ عَـقِبَتَهُمَآ أَنَّهُمَا فِى النَّارِ خَـلِدِينَ فِيهَا(So, the end of both will be that they will be in the Fire, abiding therein.) meaning, the end of both he, Shaytan, who commanded that dis- belief be committed, and those who accep- ted his call, was in the fire of Hell forever,وَذَلِكَ جَزَآءُ الظَّـلِمِينَ(Such is the recompense of the wrongdoers. ) means, this is the recompense of every unjust person.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

کفر بزدلی کی گود ہے تلبیس ابلیس کا ایک انداز ٭٭عبداللہ بن ابی اور اسی جیسے منافقین کی چالبازی اور عیاری کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہودیان بنو نضیر کو سبز باغ دکھا کر جھوٹا دلاسا دلا کر غلط وعدہ کر کے مسلمانوں سے لڑوا دیا، ان سے وعدہ کیا کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں لڑنے میں تمہاری مدد کریں گے اور اگر تم ہار گئے اور مدینہ سے دیس نکالا ملا تو ہم بھی تمہارے ساتھ اس شہر کو چھوڑ دیں گے، لیکن بوقت وعدہ ہی ایفا کرنے کی نیت نہ تھی اور یہ بھی کہ ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں کہ ایسا کر سکیں، نہ لڑائی میں ان کی مدد کر سکیں، نہ برے وقت ان کا ساتھ دیں۔ اگر بدنامی کے خیال سے میدان میں آ بھی جائیں تو یہاں آتے ہی تیر و تلوار کی صورت دیکھتے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور نامردی کے ساتھ بھاگتے ہی بن پڑے۔ پھر مستقل طور پر پیش گوئی فرماتا ہے کہ ان کی تمہارے مقابلہ میں امداد نہ کی جائے گی، یہ اللہ سے بھی اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم سے خوف کھاتے ہیں۔صفحہ نمبر9411جیسے اور جگہ بھی ہے۔ «ذَا فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً» ‏ [4-النساء:77] ‏ یعنی ” ان کا ایک فریق لوگوں سے اتنا ڈرتا ہے جتنا اللہ سے بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ۔ “ بات یہ ہے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں، ان کی نامردی اور بزدلی کی یہ حالت ہے کہ یہ میدان کی لڑائی کبھی لڑ نہیں سکتے ہاں اگر مضبوط اور محفوظ قلعوں میں بیٹھے ہوئے ہوں یا مورچوں کی آڑ میں چھپ کر کچھ کاروائی کرنے کا موقعہ ہو تو خیر بسبب ضرورت کر گزریں گے لیکن میدان میں آ کر بہادری کے جوہر دکھانا یہ ان سے کوسوں دور ہے، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ» [6-الأنعام:65] ‏ یعنی ” بعض کو بعض سے لڑائی کا مزہ چکھاتا ہے۔ “ تم انہیں مجتمع اور متفق و متحد سمجھ رہے ہو لیکن دراصل یہ متفرق و مختلف ہیں ایک کا دل دوسرے سے نہیں ملتا، منافق اپنی جگہ اور اہل کتاب اپنی جگہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں، وجہ یہ ہے کہ بےعقل لوگ ہیں۔ پھر فرمایا ” ان کی مثال ان سے کچھ ہی پہلے کے کافروں جیسی ہے جنہوں نے یہاں بھی اپنے کئے کا بدلہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے۔ “ اس سے مراد یا تو کفار قریش ہیں کہ بدر والے دن ان کی کمر کبڑی ہو گئی اور سخت نقصان اٹھا کر کشتوں کے پشتے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، یا بنو قینقاع کے یہود ہیں کہ وہ بھی شرارت پر اتر آئے، اللہ نے ان پر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے خارج البلد کرا دیا یہ دونوں واقعے ابھی ابھی کے ہیں اور تمہاری عبرت کا صحیح سبق ہیں لیکن اس وقت کہ کوئی عبرت حاصل کرنے والا انجام کو سوچنے والا ہو بھی، زیادہ مناسب مقام بنو قینقاع کے یہود کا واقعہ ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» منافقین کے وعدوں پر ان یہودیوں کا شرارت پر آمادہ ہونا اور ان کے بھرے میں آ کر معاہدہ توڑ ڈالنا پھر ان منافقین کا انہیں موقعہ پر کام نہ آنا، نہ لڑائی کے وقت مدد پہنچانا، نہ جلا وطنی میں ساتھ دینا، ایک مثال سے سمجھایا جاتا ہے کہ دیکھو شیطان بھی اسی طرح انسان کو کفر پر آمادہ کرتا ہے اور جب یہ کفر کر چکتا ہے تو خود بھی اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور اپنا اللہ والا ہونا ظاہر کرنے لگتا ہے۔صفحہ نمبر9412اسی مثال کا ایک واقعہ بھی سن لیجئے، بنی اسرائیل میں ایک عابد تھے ساٹھ سال اسے عبادت الٰہی میں گزر چکے تھے شیطان نے اسے ورغلانا چاہا لیکن وہ قابو میں نہ آیا اس نے ایک عورت پر اپنا اثر ڈالا اور یہ ظاہر کیا کہ گویا اسے جنات ستا رہے ہیں، ادھر اس عورت کے بھائیوں کو یہ وسوسہ ڈالا کہ اس کا علاج اسی عابد سے ہو سکتا ہے، یہ اس عورت کو اس عابد کے پاس لائے، اس نے علاج معالجہ یعنی دم کرنا شروع کیا اور یہ عورت یہیں رہنے لگی، ایک دن عابد اس کے پاس ہی تھا جو شیطان نے اس کے خیالات خراب کرنے شروع کئے یہاں تک کہ وہ زنا کر بیٹھا اور وہ عورت حاملہ ہو گئی۔ اب رسوائی کے خوف سے شیطان نے چھٹکارے کی یہ صورت بتائی کہ اس عورت کو مار ڈال ورنہ راز کھل جائے گا۔ چنانچہ اس نے اسے قتل کر ڈالا، ادھر اس نے جا کر عورت کے بھائیوں کو شک دلوایا وہ دوڑے آئے، شیطان راہب کے پاس آیا اور کہا وہ لوگ آ رہے ہیں اب عزت بھی جائے گی اور جان بھی جائے گی۔ اگر مجھے خوش کر لے اور میرا کہا مان لے تو عزت اور جان دونوں بچ سکتی ہیں۔ شیطان نے کہا مجھے سجدہ کر، عابد نے اسے سجدہ کر لیا، یہ کہنے لگا تف ہے تجھ پر کم بخت میں تو اب تجھ سے بےزار ہوں میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں، جو رب العالمین ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:48/12:صحیح] ‏صفحہ نمبر9413ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ ایک عورت بکریاں چرایا کرتی تھی اور ایک راہب کی خانقاہ تلے رات گزرا کرتی تھی، اس کے چار بھائی تھے، ایک دن شیطان نے راہب کو گدگدایا اور اس سے زنا کر بیٹھا اسے حمل رہ گیا۔ شیطان نے راہب کے دل میں ڈالا کہ اب بڑی رسوائی ہو گی اس سے بہتر یہ ہے کہ اسے مار ڈال اور کہیں دفن کر دے، تیرے تقدس کو دیکھتے ہوئے، تیری طرف تو کسی کا خیال بھی نہ جائے گا اور اگر بالفرض پھر بھی کچھ پوچھ گچھ ہو تو جھوٹ موٹ کہ دینا، بھلا کون ہے جو تیری بات کو غلط جانے؟ اس کی سمجھ میں بھی یہ بات آ گئی، ایک روز رات کے وقت موقعہ پا کر اس عورت کو جان سے مار ڈالا اور کسی اجاڑ جگہ زمین میں دبا دیا۔ اب شیطان اس کے چاروں بھائیوں کے پاس پہنچا اور ہر ایک کے خواب میں اسے سارا واقعہ کہہ سنایا اور اس کے دفن کی جگہ بھی بتا دی، صبح جب یہ جاگے تو ایک نے کہا: آج کی رات تو میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے ہمت نہیں پڑتی کہ آپ سے بیان کروں دوسروں نے کہا: نہیں کہو تو سہی چنانچہ اس نے اپنا پورا خواب بیان کیا کہ اس طرح فلاں عابد نے اس سے بدکاری کی پھر جب حمل ٹھہر گیا تو اسے قتل کر دیا اور فلاں جگہ اس کی لاش دبا آیا ہے، ان تینوں میں سے ہر ایک نے کہا مجھے بھی یہی خواب آیا ہے، اب تو انہیں یقین ہو گیا کہ سچا خواب ہے، چنانچہ انہوں نے جا کر اطلاع دی اور بادشاہ کے حکم سے اس راہب کو اس خانقاہ سے ساتھ لیا اور اس جگہ پہنچ کر زمین کھود کر اس کی لاش برآمد کی۔ کامل ثبوت کے بعد اب اسے شاہی دربار میں لے چلے اس وقت شیطان اس کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ سب میرے کرتوت ہیں اب بھی اگر تو مجھے راضی کر لے تو جان بچا دوں گا اس نے کہا جو تو کہے کروں گا، کہا مجھے سجدہ کر لے، اس نے یہ بھی کر دیا، پس پورا بے ایمان بنا کر شیطان کہتا ہے، میں تو تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ تعالیٰ سے جو تمام جہانوں کا رب ہے ڈرتا ہوں، چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا اور پادری صاحب کو قتل کر دیا گیا، مشہور ہے کہ اس پادری کا نام برصیصا تھا۔ سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم، طاؤس، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے یہ قصہ مختلف الفاظ سے کمی بیشی کے ساتھ مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر9414اس کے بالکل برعکس جریج عابد کا قصہ ہے کہ ایک بدکار عورت نے اس پر تہمت لگا دی کہ اس نے میرے ساتھ زنا کیا ہے اور یہ بچہ جو مجھے ہوا ہے وہ اسی کا ہے، چنانچہ لوگوں نے جریج کے عبادت خانے کو گھیر لیا اور انہیں نہایت بے ادبی سے زد و کوب کرتے ہوئے گالیاں دیتے ہوئے باہر لے آئے اور عبادت خانے کو ڈھا دیا۔ یہ بیچارے گھبرائے ہوئے ہر چند پوچھتے ہیں کہ آخر واقعہ کیا ہے؟ لیکن مجمع آپے سے باہر ہے آخر کسی نے کہا کہ اللہ کے دشمن، اولیاء اللہ کے لباس میں یہ شیطانی حرکت؟ اس عورت سے تو نے بدکاری کی۔ جریج نے فرمایا: اچھا ٹھہرو، صبر کرو اس بچے کو لاؤ چنانچہ وہ دودھ پیتا چھوٹا سا بچہ لایا گیا جریج نے اپنی عزت کی بقا کی اللہ سے دعا کی پھر اس بچے سے پوچھا: اے بچے بتا تیرا باپ کون ہے؟ اس بچے کو اللہ نے اپنے ولی کی عزت بچانے کے لیے اپنی قدرت سے گویائی کی قوت عطا فرما دی اور اس نے اس صاف فصیح زبان میں اونچی آواز سے کہا میرا باپ ایک چرواہا ہے۔ یہ سنتے ہی بنی اسرائیل کے ہوش جاتے رہے یہ اس بزرگ کے سامنے عذر معذرت کرنے لگے معافی مانگنے لگے انہوں نے کہا بس اب مجھے چھوڑ دو لوگوں نے کہا ہم آپ کی عابدت گاہ سونے کی بنا دیتے ہیں آپ نے فرمایا بس اسے جیسی وہ تھی ویسے ہی رہنے دو۔ [صحیح بخاری:3426] ‏ پھر فرماتا ہے کہ آخر انجام کفر کے کرنے اور حکم دینے والے کا یہی ہوا کہ دونوں ہمیشہ کے لیے جہنم واصل ہوئے، ہر ظالم کئے کی سزا پا ہی لیتا ہے۔صفحہ نمبر9415

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 15{ کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ } ”ان کا وہی حال ہوگا جیسے ان لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں۔“ اس سے یہودی قبیلہ بنو قینقاع کے لوگ مراد ہیں جنہیں 2 ہجری میں غزوئہ بدر کے بعد مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تھا ‘ جبکہ بنونضیر کی جلاوطنی ‘ جس کا ذکر ہم اس سورت میں پڑھ رہے ہیں ‘ 4 ہجری کو عمل میں آئی۔ اسی طرح 5 ہجری میں غزوئہ احزاب کے بعد یہود مدینہ کا تیسرا اور آخری قبیلہ بنوقریظہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ { وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ } ”اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Commentaryكَمَثَلِ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِ‌يبًا (...like those who were before them in near past ....59:15) This refers to the case of Banu Nadir, and Mujahid (رح) says that the phrase الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِ‌يبًا "those who were before them in near past " refers to the Quraish of Makkah who sustained an ignominious defeat at Badr. According to Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ it refers to Banu Qainuqa', a Jewish tribe, who were punished for their mischief and machinations after Badr. Banu Nadir were banished after the battles of Badr and 'Uhud, and Banu Qainuqa' had been banished after Badr. At Badr seventy thousand pagan Arabs were killed, and the survivors returned home disgracefully. Since pagans of Makkah and Banu qainuqa', both of them faced a deterrent punishment after Badr, both can be the purport of the words, who were before them in the past, and of: ذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِ‌هِمْ...tasted the evil consequence of their conduct...[ 59:15] "The Expulsion of Banu Qainuqa'As stated earlier, when the Holy Prophet migrated from Makkah and settled in Madinah, he concluded a peace treaty with the Jewish tribes of Madinah, and of its neighbourhood. One of its conditions stipulated that they would not fight the Messenger of Allah ﷺ and the Muslims, or assist their enemies. Banu Qainuqa' was a party to this peace agreement and was the first one to break the pledged word, within a few months. On the occasion of the battle of Badr, they connived with the Quraish of Makkah, and some incidents of their connivance came out in the open. On that occasion, the following verse was revealed وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ (And if you apprehend a breach from a people, then, throw [ the treaty ] towards them being right forward...[ 8:58] ". Banu Qainuqa`, through their treachery, had already broken the treaty. Therefore, The Holy Prophet ﷺ declared war against them and the banner of jihad was given in the hands of Sayyidna Hamzah ؓ and appointing Sayyidna Abu Lubabah ؓ his deputy in the city of Madinah, the Holy Prophet ﷺ himself joined the fighting force. Having seeing the Muslim army, the Jews shut themselves up in the fortress. The Holy Prophet ﷺ laid a siege to it for fifteen days, and the Jews had no choice but to surrender. Eventually, Allah cast terror into their hearts and they realized that fighting would not pay off. So, they opened the gate of the fortress and expressed their willingness to abide by the decision of the Holy Prophet ﷺ .The Holy Prophet's ﷺ decision was to have the Jewish men executed. But ` Abdullah Ibn 'Ubayy, the hypocrite, intervened and pleaded to the Holy Prophet ﷺ to pardon them. In the end, it was decided that they should leave the area and go into exile and their belongings would be the spoils falling to the lot of the Muslims. Accordingly, they left Madinah and proceeded to settle in an area called Adhra` at in Syria. In compliance with the law of spoils, one-fifth was retained for Bait-ul-mal [ public treasury ] and the rest of the spoils was disbursed among the fighters. After the battle of Badr, this was the first one-fifth of the booties that was retained for the public treasury. This incident took place on Monday, 15th Shawwal, in the 2nd year of Hijrah - twenty months after the migration.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.