The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Mujadila (The Pleading Woman) • Ayah 12

Para 28 Surah 58 : 12
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نَـٰجَيْتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَىٰكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

BY

O you who have believed, when you [wish to] privately consult the Messenger, present before your consultation a charity. That is better for you and purer. But if you find not [the means] - then indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

يَـٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓا۟
إِذَا
نَـٰجَيْتُمُ
ٱلرَّسُولَ
فَقَدِّمُوا۟
بَيْنَ
يَدَىْ
نَجْوَىٰكُمْ
صَدَقَةً
ۚ
ذَٰلِكَ
خَيْرٌ
لَّكُمْ
وَأَطْهَرُ
ۚ
فَإِن
لَّمْ
تَجِدُوا۟
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
غَفُورٌ
رَّحِيمٌ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Order to give Charity before One speaks to the Prophet in privateAllah commanded His believing servants, when any of them wanted to speak with Allah's Messenger ﷺ in secret, to give away charity beforehand so that his charity cleanses and purifies him and makes him worthy of having a private counsel with the Prophet . This is why Allah the Exalted said,ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ(That will be better and purer for you.) then He said,فَإِن لَّمْ تَجِدُواْ(But if you find not.) meaning, if he is unable to do so due to poverty,فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ(then verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) He only commanded those who are financially able to give this type of charity. Allah the Exalted said,أَءَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَـتٍ(Are you afraid of spending in charity before your private consultation) meaning, are you afraid that the order to give charity before speaking privately to the Prophet remains in effect foreverفَإِذْ لَمْ تَفْعَلُواْ وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُواْ الصَّلوةَ وَءَاتُواْ الزَّكَوةَ وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ(If then you do it not, and Allah has forgiven you, then perform Salah and give Zakah and obey Allah and His Messenger. And Allah is All-Aware of what you do.) Therefore, Allah abrogated the obligation of giving this charity. It was said that none has implemented this command before except its abrogation, `Ali bin Abi Talib. `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas:فَقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَةً(spend something in charity before your private consultation.) "The Muslims kept asking Allah's Messenger ﷺ questions until it became difficult on him. Allah wanted to lighten the burden from His Prophet , upon him be peace. So when He said this, many Muslims were afraid to pay this charity and stopped asking. Afterwards, Allah sent down this Ayah,أَءَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَـتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُواْ وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُواْ الصَّلوةَ وَءَاتُواْ الزَّكَوةَ(Are you afraid of spending in charity before your private consultation If then you do it not, and Allah has forgiven you, then perform Salah and give Zakah) Thus Allah made things easy and lenient for them." `Ikrimah and Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement:فَقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَةً(spend something in charity before your private consultation.) "This was abrogated by the next Ayah:أَءَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَـتٍ(Are you afraid of spending in charity before your private consultation...)." Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah and Muqatil bin Hayyan, "People kept questioning Allah's Messenger ﷺ until they made things difficult for him. Allah provided a way to stop their behavior by this Ayah. One of them would need to speak to Allah's Prophet about a real matter, but could not do so until he gave in charity. This became hard on people and Allah sent down relief from this requirement afterwards,فَإِن لَّمْ تَجِدُواْ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ(But if you find not, then verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful)." Ma`mar reported from Qatadah that the Ayah,إِذَا نَـجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَةً(When you (want to) consult the Messenger in private, spend something in charity before your private consultation.) was abrogated after being in effect for only one hour of a day. `Abdur-Razzaq recorded that Mujahid said that `Ali said, "No one except me implemented this Ayah, until it was abrogated," and he was reported to have said that it remained in effect for merely an hour.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی منسوخ شرط ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہو جاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کر سکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔صفحہ نمبر9365پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا، اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا جاتا ہے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے کا شرف صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا پھر یہ حکم ہٹ گیا، ایک دینار دے کر آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوشیدہ باتیں کیں دس مسائل پوچھے۔ پھر تو یہ حکم ہی ہٹ گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33788:ضعیف] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کر سکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھنا کر میں نے دس درہم لے لیے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دے دیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کر سکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33790:مرسل] ‏ ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بہت ہوئی“، فرمایا: پھر آدھا دینار کہا: ”ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں“ آپ نے فرمایا: ”اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر؟“ فرمایا ایک جو برابر سونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کر دی، [سنن ترمذي:3300،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے۔صفحہ نمبر9366سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مسلمان برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راز داری کرنے سے پہلے صدقہ نکالا کرتے تھے لیکن زکوٰۃ کے حکم نے اسے اٹھا دیا، آپ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم نے کثرت سے سوالات کرنے شروع کر دیئے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر آپ پر تخفیف کر دی کیونکہ اب لوگوں نے سوالات چھوڑ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کر دی اور اس حکم کو منسوخ کر دیا، عکرمہ رحمہ اللہ اور حسن بصری رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، قتادہ رحمہ اللہ اور مقاتل رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کر سکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہو گیا۔صفحہ نمبر9367

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 12{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰٹکُمْ صَدَقَۃً } ”اے اہل ایمان ! جب تم رسول ﷺ سے تخلیہ میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس بات چیت سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو۔“ اس حکم کا پس منظر یہ ہے کہ منافقین میں سے اکثر لوگ وقتاً فوقتاً بلاوجہ حضور ﷺ سے تخلیہ میں بات کرنے کا تقاضا کرتے تھے۔ حضور ﷺ مروّت کے باعث ہر کسی کی بات مان تو لیتے ‘ لیکن منافقین کا یہ طرزعمل آپ ﷺ کے لیے زحمت کا باعث تھا۔ یہ لوگ حضور ﷺ سے ایسی ملاقاتیں محض اپنی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کرتے تھے ‘ تاکہ لوگ دیکھیں کہ حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے والا یہ شخص حضور ﷺ کے بہت قریب ہے اور حضور ﷺ کو اس پر بہت اعتماد ہے۔ جیسے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا معمول تھا کہ حضور ﷺ جب خطبہ جمعہ کے لیے کھڑے ہوتے تو وہ محض اپنی چودھراہٹ جتانے کے لیے فوراً اگلی صف میں کھڑا ہوجاتا اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہتا کہ لوگو ! یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ‘ ان کی بات غور سے سنو ! یہ شخص مدینہ کے سب سے بڑے قبیلے خزرج کا سردار تھا۔ حضور ﷺ کی ہجرت سے قبل اہل مدینہ کا اتفاق ہوچکا تھا کہ مدینہ میں ایک مستحکم ریاستی نظام قائم کیا جائے تاکہ روز روز کی جنگوں اور باہمی خون ریزی سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ اس کے لیے عبداللہ بن ابی کو بادشاہ بنانے کا فیصلہ ہوچکا تھا اور اس کے لیے تاج بھی تیارہو چکا تھا۔ بس رسم تاجپوشی کا انعقاد باقی تھا کہ حضور ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور آتے ہی مدینہ کے بےتاج بادشاہ بن گئے۔ اس طرح آپ ﷺ کی وجہ سے عبداللہ بن ابی کی بادشاہت کا خواب ناتمام رہ گیا۔ حالات کا رخ دیکھتے ہوئے اس نے ظاہری طور پر تو مسلمانی کا لبادہ اوڑھ لیا لیکن عمر بھر حضور ﷺ کی مخالفت کا کوئی موقع اس نے ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ بہرحال حالات کی مجبوری تھی کہ ایسا شخص بھی حضور ﷺ سے اپنی قربت جتلانے اور اپنی خصوصی حیثیت نمایاں کرنے کے لیے جمعہ کے اجتماع میں یہ ڈرامہ رچانا ضروری سمجھتا تھا۔ منافقین کے اس طرزعمل کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے پر ایک طرح کا ٹیکس عائد کردیا کہ اگر تمہارا حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنا ایسا ہی ضروری ہے تو پہلے اپنے مال میں سے کچھ صدقہ دو اور پھر آکر اس مقصد کے لیے حضور ﷺ سے وقت مانگو۔ منافقین چونکہ انفاق سے گھبراتے ہیں اس لیے اس حکم کے بعد ان میں سے کسی ایک شخص نے بھی صدقہ دے کر حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست نہ کی۔ یہ حکم البتہ بہت تھوڑی دیر نافذ رہا اور جلد ہی اسے اگلی آیت کے ذریعے منسوخ کردیا گیا۔ حضرت علی رض کہتے ہیں کہ میں واحد شخص تھا جس نے اس حکم پر عمل کیا اور صدقہ دے کر حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست کی۔ { ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّــکُمْ وَاَطْہَرُ } ”یہ تمہارے لیے بہتر بھی ہے اور زیادہ پاکیزہ بھی۔“ { فَاِنْ لَّـمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پائو تو اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔“ یعنی غریب اور نادار لوگ اس حکم پر عمل نہیں بھی کرسکتے تو کوئی مضائقہ نہیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کا عذر قبول فرماتے ہوئے انہیں معاف فرمائے گا۔ لیکن ظاہر ہے جن لوگوں کی وجہ سے یہ حکم نازل ہوا وہ تو سب کے سب متمول ‘ مرفہ الحال اور بڑے لوگ تھے جو حضور ﷺ سے اپنی قربت جتلا کر لوگوں کے سامنے مزید ”بڑے“ بننا چاہتے تھے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّ‌سُولَ (0 those who believe, when you consult the Messenger of Allah, ...58:12) The Messenger of Allah ﷺ was preoccupied day and night with educating the people and improving their quality of life. In his general assemblies, all the members of the audience benefited from his teachings. However, there were people who wanted private meetings with the Holy Prophet ﷺ and he would grant them that. Obviously, it was not possible to grant everyone's request as it required time and effort, and that was difficult. The hypocrites made matters worse when they asked for private audiences with the Holy Prophet ﷺ in order to hurt the sincere Muslims. Besides, the hypocrites held protracted conferences with him. Some of the illiterate Muslims also held private audiences with him for a longer time than normal or necessary. This made things difficult for him. Allah provided a way to stop their irksome behaviour by this verse which lightened the burden of the Holy Prophet ﷺ . Initially, the verse provided that anyone who wishes to hold a private conference with him must advance a freewill charity, the amount or measure of which is not specified in the Qur'an. However, when this verse was revealed Sayyidna ` Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ was the first Companion to act upon it: He offered one Dinar in charity and requested a private audience with the Prophet ﷺ .Only Sayyidna ` Ali ؓ Acted upon the verseIt is a remarkable co-incidence that most of the blessed Companions ؓ ، because of financial constraints, were unable to act upon this verse. Its provision was repealed. Sayyidna Ali ؓ used to say that there is a verse in the Qur'an that none before me and none after me has ever acted upon it. The meaning of the phrase 'none before me' is obvious. The phrase 'none after me' means 'none after me will practise it' because the verse is abrogated. Although the ordinance is repealed, it achieved its basic purpose. The Muslims, because of the dictates of their sincere love, avoided their protracted audiences with the Prophet ﷺ so that he is not inconvenienced in any way. The hypocrites avoided protracted audiences with him because they feared that they would be recognized for what they are and their hypocrisy would be exposed. Allah knows best!

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.