The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Ar-Rahman • Ayah 29

Para 27 Surah 55 : 29
يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

يَسْـَٔلُهُۥ
مَن
فِى
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ
وَٱلْأَرْضِ
ۚ
كُلَّ
يَوْمٍ
هُوَ
فِى
شَأْنٍ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Allah is the Ever Living, Free of all NeedAllah states that all the residents of earth will perish and die. The residents of the heavens will die, except whomever Allah wills. Only Allah's Honorable Face will remain, because our Lord, the Exalted, the Blessed, is the Ever Living Who never dies. Qatadah said, "First, Allah mentioned His creatures and then He said that all of this will perish." And in the reported supplication: `O You the Ever Living Who sustains all that exists! O You Who created the heavens and the earth without precedence. O You, Who Owns the glory and the honor, none has the right to be worshipped except You. We seek refuge with Your mercy. Grant Us success in all of our matters. Please, do not abandon us to rely on ourselves even for an instant nor on any of Your creation." Ash-Sha`bi said, "When you have recited,كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (Whatsoever is on it (the earth) will perish.) do not stop, continue reading,وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْـلِ وَالإِكْرَامِ (And the Face of your Lord Dhul-Jalal wal-Ikram will remain forever.)" This Ayah is similar to Allah's statement,كُلُّ شَىْءٍ هَالِكٌ إِلاَّ وَجْهَهُ(Everything will perish save His Face.)(28:88) In this Ayah, Allah describes His Noble Face as being Dhul-Jalal wal-Ikram, indicating that He is Worthy of being revered, and thus, never defied; and obeyed, and thus, never disobeyed,وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ(And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and afternoon, seeking His Face.)(18:28), And as He said about those giving charity:إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ(We feed you seeking Allah's Face only.)(76:9) Ibn `Abbas commented on the meaning of Dhul-Jalal wal-Ikram, by saying, "Owner of greatness and pride." After Allah stated that all of the inhabitants of the earth will die and end up in the Hereafter when He, Dhul-Jalal wal-Ikram, will judge them by His fair judgement, He said,فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (Then which of the blessings of your Lord will you both deny) Allah said,يَسْأَلُهُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍ (Whosoever is in the heavens and on the earth begs of Him. Every day He is (engaged) in some affair.) In this Ayah, Allah affirms that He is Rich, Free of all wants for anyone else and that all creatures stand in need of Him, in all conditions and situations. They all seek His help willingly or unwillingly. Everyday, He is engaged in some affair. Al-A`mash reported from Mujahid, from `Ubayd bin `Umayr,كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍ(Every day He is (engaged) in some affair.) He said, "Of His affairs is that He answers the supplicant, or gives to the one requesting, or removing adversity, or cures the one seeking to be cured."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔صفحہ نمبر9090شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔ اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏صفحہ نمبر9091ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏صفحہ نمبر9092

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 29{ یَسْئَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط } ”اسی سے مانگتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے اللہ ہی کے در کی سوالی ہے۔ ہر کسی کو وجود بھی اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ ہر زندہ وجود کی زندگی بھی اسی کی دین ہے ‘ کسی مخلوق میں اگر کوئی صلاحیت ہے تو وہ بھی اسی کی بخشی ہوئی ہے اور تمام مخلوقات کے ایک ایک فرد کی ضرورتوں کا خبرگیر ونگہبان بھی وہی ہے۔ اس حوالے سے سورة محمد کی آیت 38 کے یہ الفاظ بہت واضح ہیں : { وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُج } کہ اللہ غنی اور بےنیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ یعنی تمہارا وجود ‘ تمہاری زندگی ‘ تمہاری صلاحیتیں ‘ غرض تمہارا سب کچھ اسی کا عطا کردہ ہے۔ تم اپنے تمام تر وسائل سے بس وہی کچھ کرسکتے ہو جس کی وہ اجازت دیتا ہے اور صرف اسی قدر جان سکتے ہو جس قدر وہ چاہتا ہے۔ اس کی مخلوق کے تمام افراد پر یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے : { وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلاَّ بِمَا شَآئَج } البقرۃ : 255 کہ وہ سب کے سب اس کے احاطہ علم میں مقید و محصور ہیں اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے ‘ مگر اسی قدر جس قدر وہ چاہتا ہے۔ { کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ۔ } ”ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔“ ہر دن اس کی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر امر کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة السجدۃ میں بایں الفاظ آیا ہے : { یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَـیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔ } ”وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ‘ پھر وہ امر چڑھتا ہے اس کی طرف ‘ یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار برس ہے“۔ یعنی کائنات اور مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فارغ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ‘ بلکہ اس کائنات کے نظام اور ارض و سماء میں پھیلی ہوئی مخلوقات سے متعلق تمام امور کو وہ لمحہ بہ لمحہ اپنی تدبیر سے چلا رہا ہے۔ اس تدبیر کی منصوبہ بندی کے لیے اس کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ چناچہ اس کے ہاں ایک ایک دن کی منصوبہ بندی ہوتی ہے ‘ اہم فیصلے کیے جاتے ہیں ‘ احکام جاری ہوتے ہیں ‘ ان احکام کی تعمیل و تنفیذ عمل میں لائی جاتی ہے اور پھر جائزہ رپورٹیں اسے پیش کی جاتی ہیں۔ اس طرح ہر دن کے لیے اس کی نئی شان ہے اور نئی مصروفیات !

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (All those in the heavens and the earth beseech Him. Every day He is at some task...55:29). The verse signifies that all creatures stand in need of Allah, in all conditions and situations. They all seek His help willingly or unwillingly. The earthly creatures ask for their specific needs. In this world, they need sustenance, health and welfare, and comfort; and in the Hereafter, they need forgiveness, mercy and Paradise. The celestial creatures do not eat and drink, they do however need Allah's mercy and grace. Allah's grace, forgiveness and so on surround them all the time. The phrase کُلَّ یَومِ every day' is the adverb of time of the verb يَسْأَلُهُ 'beseech'.(1) The 'day' is not used in its popular sense, but in the sense of 'time' in general. All His creation, in different regions, in different languages implore for their needs all the time. Obviously, each member of the earthly and celestial beings has countless needs. Who else besides the Absolutely Powerful Being, the Lord of Majesty, is able to respond to their needs every moment of the time? Therefore, 'every day' is followed by the sentence هُوَ فِي شَأْنٍ 'He is at some task', that is, His Attributes know no limit or count, and keep finding their manifestations in diverse ways all the time. He gives life to some and causes others to die. He elevates some and others He abases. Some He(1) This is according to one construction of the sentence. Other exegetes have taken the phrase 'every day' as relating to 'He is at some task'. The translation of the verse given above is based on this latter construction, which is also adopted by Moulana Thanawi (رح) . (Muhammad Taqi Usmani). causes to become ill and others He cures. He alleviates the adversity of some; He causes the aggrieved ones to smile; He grants the requests of suppliants; He forgives the sins of the sinners and makes them deserving of Paradise; He gives power to some, and He snatches it away from others and abases them. In sum, every Attribute of Allah keeps finding its manifestation in diverse ways all the time

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.