The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Ar-Rahman • Ayah 15

Para 27 Surah 55 : 15
وَخَلَقَ ٱلْجَآنَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَخَلَقَ
ٱلْجَآنَّ
مِن
مَّارِجٍ
مِّن
نَّارٍ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Creation of Humans and JinnsAllah mentions that He created mankind from clay, like that used in pottery, and created the Jinns from the tip of the flame of a smokeless fire. This was said by Ad-Dahhak from Ibn `Abbas. It was also said by `Ikrimah, Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "From the best part of the fire, from its smokeless flame." Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that Allah's Messenger ﷺ said,«خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُم»(The angels were created from light, the Jinns from a smokeless flame of fire, and `Adam from what was described to you.) Muslim also collected this Hadith. Allah's statement:فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ(Then which of the blessings of your Lord will you both deny) was explained above.Allah is the Lord of the Two Easts and the Two WestsAllah said,رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ((He is) the Lord of the two easts and the Lord of the two wests.) meaning the sunrise of summer and winter and the sunset of summer and winter. Allah said in another Ayah,فَلاَ أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَـرِقِ وَالْمَغَـرِبِ(So, I swear by the Lord of all the points of sunrise and sunset in the east and the west.)(70:40), referring to the different places from which the sun rises and then sets on people every day. Allah said in another Ayah,رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاً(The Lord of the east and the west; none has the right to be worshipped but He. So take Him alone as a trustee.)(73:9), referring to the different places of sunrise and sunset and the benefits that this variation brings to the created, mankind and Jinns,فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ(Then which of the blessings of your Lord will you both deny)Allah created Different Types of WaterAllah said,مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ(He has Maraja the two seas), or let them loose, according to Ibn `Abbas. Allah's statement,يَلْتَقِيَانِ(meeting together.) Ibn Zayd said, "He prevents them from meeting by the dividing barrier He placed between them to separate them." The two seas are the fresh and salty waters, the former coming from running rivers. We discussed this topic in Surat Al-Furqan when explaining Allah's statement;وَهُوَ الَّذِى مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَـذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَـذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخاً وَحِجْراً مَّحْجُوراً(And it is He Who has let free the two seas: one palatable and sweet, and the other salty and bitter; and He has set a barrier and a complete partition between them.)(25:53) Allah said,بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لاَّ يَبْغِيَانِ(Between them is a barrier which none of them can transgress.) meaning, He has placed a barrier of land between these two types of waters, so that they do not transgress upon each other, which would spoil the characteristics they were created with. Allah said,يَخْرُجُ مِنْهُمَا الُّلؤْلُؤُ وَالمَرْجَانُ(Out of them both come out pearls and Al-Marjan. ) pearls are well-known. As for Marjan they say it means small pearls. Mujahid, Qatadah, Abu Ruzayn, Ad-Dahhak said it, and it has also been reported from `Ali. It was also said that it means large, precious pearls, this was mentioned by Ibn Jarir from some of the Salaf. Ibn Abi Hatim recorded from Ibn `Abbas who said, "When it rains, the oysters in the sea open their mouths. What falls in them, the drops, turns into pearls." Its chain of narrators is Sahih. Since this type of adornment is a favor from Allah to the people of earth, He reminded them of it,فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ(Then which of the blessings of your Lord will you both deny) Allah said,وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَئَاتُ(And His are Al-Jawar Al-Munsha'at), meaning the ships that float,فِى الْبَحْرِ(in the seas), Mujahid said, "Whatever ship hoists a sail, it is from Munsha'at, if it does not hoist a sail, it is not from the Munsha'at." Qatadah said, "Al-Munsha'at means created." Others said that it is Al-Munshi'at meaning, "launched."كَالاٌّعْلَـمِ(like A`lam.) This means, they are like mountains with their great size, and it also refers to the trade and commercial services they make possible, transporting cargo from one area to another and from one province to another. Ships provide various benefits for people, including transporting different types of goods they need. Therefore,فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ(Then which of the blessings of your Lord will you both deny)كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ - وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْـلِ وَالإِكْرَامِ فَبِأَىِّ ءَالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔ مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔صفحہ نمبر9076سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے- امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں- بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔صفحہ نمبر9077سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔صفحہ نمبر9078

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 15 { وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ۔ } ”اور جنات کو اس نے پیدا کیا آگ کی لپٹ سے۔“ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍسے آگ کی لویا لپٹ مراد ہے۔ اس کا اطلاق آگ کے شعلے کے اس حصے پر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا لیکن انتہائی گرم ہوتا ہے۔ شعلے کے اندر سب سے زیادہ درجہ حرارت اسی نظر نہ آنے والے حصے میں ہوتا ہے۔ سورة الحجر کی آیت 27 میں آگ کی اس لپٹ کو نَارِ السَّمُوْمِ کا نام دیا گیا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِ‌جٍ مِّن نَّارٍ‌ (and created Jann [ father of the Jinns ] from a smokeless flame of fire...55:15) The word جَانَّ - jann, refers to the class of beings called jinn'. The word مَّارِ‌جٍ marij refers to the ' smokeless flame of fire'. The major element in the creation of jinn is the smokeless flame of fire, just as the major element in the creation of man is dry sounding clay.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.