Surah Al-Qamar • Ayah 14
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Story of the People of Nuh and the Lesson from itAllah the Exalted said,كَذَّبَتْ(denied) `before your people, O Muhammad,'قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ (Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ (So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,فَالْتَقَى المَآءُ(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ (So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ (And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ (And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ (Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ(Then is there any that will remember)" Allah's statement,فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ (Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ ((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً (So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
طوفان نوح ٭٭موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔صفحہ نمبر9007قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔ اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔ پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔صفحہ نمبر9008جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔صفحہ نمبر9009
آیت 14 { تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا } ”جو چل رہی تھی ہماری نگاہوں کے سامنے۔“ وہ کشتی ہماری نگرانی اور حفاظت میں چل رہی تھی۔ { جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ۔ } ”یہ بدلہ تھا اس شخص کے لیے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔“ یوں ہم نے اپنے بندے نوح علیہ السلام کی قدر افزائی فرمائی جس کی قوم نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ اس کشتی کے ذریعے ہم نے اسے اور اس کے اہل ایمان ساتھیوں کو سیلاب سے محفوظ رکھا۔
ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ (to board that [ ship ] which had planks and nails...54:13). The word alwah is the plural of lawh and it refers to a board or a plank. The word dusur is the plural of disar and it stands for nail. It also means a cord of fibres of the palm tree with which the planks of a ship are bound together.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.