Surah An-Najm • Ayah 40
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving CharityAllah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)The Meaning of `fulfilledAllah the Exalted said,أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:وَفَّى(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:وَفَّى(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:وَفَّى(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)None shall carry the Burden of Any Other on the Day of ResurrectionAllah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah statesوَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» [34-سبأ:39] ” تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ “ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» [2-البقرة:124] ، ” ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ “ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔صفحہ نمبر8953جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:123] ” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ “ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔صفحہ نمبر8954جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [35-فاطر:18] ، ” اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ “ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ ۔ [صحیح مسلم:1631] صفحہ نمبر8955اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» [36-يس:12] ، یعنی ” ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [9-التوبة:105] ، یعنی ” کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا “ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔صفحہ نمبر8956
آیت 40{ وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی۔ } ”اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب اسے دکھا دی جائے گی۔“ سورة الزلزال میں اس مضمون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے : { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } ”تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ‘ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔“
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ (and that his effort will soon be seen...53:40) In other words, outer actions of a person are not sufficient. Allah will take into account the real, inner motive and driving force behind them whether they were performed with the sincerity of purpose, or they were done with some ulterior motive. The Holy Prophet t is reported to have said:اِنَّمَا الاَعمَال بِالنِّیَّاتِ"Actions shall be judged only by the intentions."That is, the outer aspect of actions is not sufficient. The inner aspect is also necessary. Actions must be performed purely for the good pleasure of Allah and in compliance with His command.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.