Surah At-Tur • Ayah 18
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Description of the Destination of the HappyAllah the Exalted described the destination of the happy ones,إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَعِيمٍ (Verily, those who have Taqwa will be in Gardens and Delight.) in contrast to the torment and punishment of the miserable;فَـكِهِينَ بِمَآ ءَاتَـهُمْ رَبُّهُمْ(Enjoying in that which their Lord has bestowed on them,) meaning, enjoying the various types of delight that Allah has granted them therein, such as various types of foods, drinks, clothes, dwelling places, mounts, and so forth,وَوَقَـهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ(and (the fact that) their Lord saved them from the torment of the blazing Fire.) He saved them from the torment of the Fire, which is a bounty itself. Added to this blessing is the fact that they were entered into Paradise, which has delights that no eye has ever seen, no ear has ever heard, nor has a heart ever imagined. The statement of Allah the Exalted,كُلُواْ وَاشْرَبُواْ هَنِيئَاً بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ("Eat and drink with happiness because of what you used to do") is similar to another of His statements,كُلُواْ وَاشْرَبُواْ هَنِيئَاً بِمَآ أَسْلَفْتُمْ فِى الاٌّيَّامِ الْخَالِيَةِ (Eat and drink at ease for that which you have sent on before you in days past!)(69:24) meaning this is the just reward for your deeds; surely, all this is a favor from Allah and a reward from Him. Allah the Exalted said,مُتَّكِئِينَ عَلَى سُرُرٍ مَّصْفُوفَةٍ(They will recline (with ease) on thrones Masfufah.) Ath-Thawri reported from Husayn, from Mujahid, from Ibn `Abbas: "Thrones in howdahs." And the meaning of, (Masfufah) is they will be facing each other,عَلَى سُرُرٍ مُّتَقَـبِلِينَ (Facing one another on thrones.)(37:44) Allah said next,وَزَوَّجْنَـهُم بِحُورٍ عِينٍ(And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes.) We made for them righteous spouses, beautiful wives from Al-Hur Al-`Ayn. We mentioned the description of Al-Hur Al-`Ayn in several other places in this Tafsir, and therefore, it is not necessary to repeat their description here.
جنت کے مناظر ٭٭اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔صفحہ نمبر8861پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔صفحہ نمبر8862
آیت 18{ فٰـکِہِیْنَ بِمَآ اٰتٰـہُمْ رَبُّہُمْ ج } ”وہ مزے کر رہے ہوں گے ان نعمتوں کے ساتھ جو ان کے رب نے انہیں عطا کی ہوں گی۔“ { وَوَقٰـہُمْ رَبُّہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ۔ } ”اور بچا لے گا انہیں ان کا ربّ جہنم کے عذاب سے۔“
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.