The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Adh-Dhariyat • Ayah 56

Para 27 Surah 51 : 56
وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَمَا
خَلَقْتُ
ٱلْجِنَّ
وَٱلْإِنسَ
إِلَّا
لِيَعْبُدُونِ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

All Messengers met the Same Type of Denial from Their NationsAllah comforts His Prophet by saying to Him, `just as these idolators denied you, the disbelievers of old used the same words with their Messengers,'كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ(Likewise, no Messenger came to those before them but they said: "A sorcerer or a madman!") Allah the Exalted and Most Honored said,أَتَوَاصَوْاْ بِهِ(Have they transmitted this saying to these), meaning, have those of the past taught these words to the people of the presentبَلْ هُمْ قَوْمٌ طَـغُونَ(Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!) They are tyrannical people whose hearts are the same. Therefore, the latter said the same as those before them have said. Allah the Exalted said,فَتَوَلَّ عَنْهُمْ(So turn away from them,) meaning, `O Muhammad, turn away from the Quraysh idolators,'فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٍ(you are not blameworthy.) meaning, `We blame you not if you turn away from them,'وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ(And remind, for verily, the reminding profits the believers.) meaning, for only the believing hearts benefit from being reminded.Allah Only created Mankind and Jinns to worship Him AloneAllah the Exalted and Most Honored said,وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ(And I created not the Jinn and mankind except that they should worship Me.) meaning, `I, Allah, only created them so that I order them to worship Me, not that I need them.' `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented on the Ayah,إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ(...except that they should worship Me.) meaning, "So that they worship Me, willingly or unwillingly." Allah the Exalted said,مَآ أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ - إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ(I seek not any provision from them nor do I ask that they should feed Me. Verily, Allah is the All-Provider, Owner of power, the Most Strong.) Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ taught the following: (إنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِين) `Verily, I am the Provider, Owner of power, the Most Strong.' Abu Dawud, At-Tirmidhi and An-Nasa'i also collected this Hadith. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih. " The meaning of this Ayah (51:56) is that, Allah the Exalted, the Blessed created the creatures so that they worship Him Alone without partners. Those who obey Him will be rewarded with the best rewards, while those who disobey Him will receive the worst punishment from Him. Allah stated that He does not need creatures, but rather, they are in need of Him in all conditions. He is alone their Creator and Provider. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,«قَالَ اللهُ تَعَالَى: يَاابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ، وَإِلَّا تَفْعَلْ، مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَك»(Allah the Exalted said, "O Son of Adam! Busy yourself in worshipping Me, and I will fill your chest with riches and dissipate your meekness. Otherwise, I will fill your chest with distracting affairs and will not do away with your meekness.") At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith and At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." The statement of Allah the Exalted,فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذَنُوباً(And verily, for those who do wrong, there is a portion), indicates that they will receive their due share of the torment,مِّثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَـبِهِمْ فَلاَ يَسْتَعْجِلُونِ(like the evil portion (which came for) their likes (of old); so let them not ask Me to hasten on!) let them not ask that the punishment is rushed to them, for it will surely come,فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن يَوْمِهِمُ الَّذِى يُوعَدُونَ(Then woe to those who disbelieve from their Day which they have been promised.) meaning, the Day of Resurrection. This is the end of the Tafsir of Surat Adh-Dhariyat; all praise is due to Allah and all the favors come from Him Alone.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏ اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔صفحہ نمبر8830مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏ بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔صفحہ نمبر8831

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 56{ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ } ”اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔“ شیخ سعدی رح نے اس مفہوم کی ترجمانی اس طرح کی ہے : ؎زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی !یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں تخلیق انسانی کی غایت بیان کی گئی ہے۔ کائنات کی تخلیق کے حوالے سے عام طور پر ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس تخلیق کا سبب کیا ہے ؟ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ سوال ہے جس کے جواب میں ہر زمانے کے فلاسفر اور حکماء نے اپنی اپنی آراء دی ہیں۔ یہ ان تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ ایک عام شخص کے لیے تخلیق کائنات کے سبب کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری نہیں اور اس لاعلمی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی نہیں۔ البتہ اپنی تخلیق کی غرض وغایت کے بارے میں جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ اگر انسان کو اپنی غایت تخلیق ہی کا علم نہیں ہوگا تو گویا اس کی ساری زندگی رائیگاں جائے گی۔ چناچہ اس آیت میں بنی نوع انسان کو ان کی غایت تخلیق واضح طور پر بتادی گئی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ”بندگی“ کے لیے پیدا کیا ہے۔ بندگی یا عبادت کے بارے میں قبل ازیں بھی میں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ اس کے تین حصے ہیں : اوّلاً ہمہ تن اطاعت ‘ ثانیاً اطاعت کی روح یعنی اللہ تعالیٰ کی غایت درجے کی محبت۔ عبادت اصلاً ان دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے اَلْعِبَادَۃُ تَجْمَعُ اَصْلَیْنِ : غَایَۃَ الْحُبِّ مَعَ غَایَۃِ الذُّلِّ وَالْخُضُوْعِ ۔ جبکہ تیسری چیز مراسم ِعبودیت ہے ‘ جس کی حیثیت عبادت کے ظاہر یا جسم کی ہے۔ مثلاً اللہ کے سامنے عاجزی کی حالت قنوت میں کھڑے ہونا قیام ‘ رکوع ‘ سجدہ ‘ حمدیہ کلمات ادا کرنا ‘ نماز وغیرہ مراسم عبودیت ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر ہم عبادت کی اس تعریف اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت کی روشنی میں آج اپنی حالت کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت واضح ہوگی کہ ہم میں سے جو لوگ اپنے زعم میں شب و روز پابندی کے ساتھ اللہ کی عبادت پر کمر بستہ ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ دس یا پندرہ فیصد تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہیں۔ اس کا واضح تر مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگیوں کا غالب حصہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت سے نکلا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس پر کافرانہ نظام کا غلبہ ہے اور اس نظام کے تحت رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت ممکن ہی نہیں۔ ان حالات میں ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا عبادت کے تقاضوں سے کیسے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب جاننے کے خواہش مند حضرات اس موضوع پر میری کتب اور تقاریر سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں پر مختصراً یہ سمجھ لیں کہ مادی وعلمی لحاظ سے انسان جس قدر چاہے ترقی کرلے اگر وہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا بندگی کے قالب میں ڈھالنے سے قاصر رہا تو انسانی سطح پر اس کی ساری زندگی بیکار اور رائیگاں ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اپنے ان اشعار میں انسان کی اسی ناکامی کی طرف اشارہ کیا ہے : ؎ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا زندگی کی شب ِتاریک سحر کر نہ سکا !

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

[ 60]The Purpose of Jinn's and Mankind's creationوَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (And I did not create the Jinns and the human beings except that they should worship Me."...51:56). This apparently may raise two questions: [ 1] If Allah has created a creature for a particular task, and it is His will that it should perform that task, rationally it is impossible for it to deviate from that task, because doing anything contrary to the will of Allah is inconceivable. [ 2] The purpose of jinn's and man's creation has been restricted to the worship of Allah whereas there are many other underlying reasons and benefits in their creation.Scholars have made different approaches to solve these problems. Some say that this verse pertains to the believers only, that is, only believing jinn and believing mankind are created for worship and for no other task. It is obvious that the believers are more or less steadfast to worship. This is the view of Dahhak, Sufyan Thawri and others. According to one version of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word mu'minin does occur in the verse thus: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ مِنَ المُؤمِنِینَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ And I have not created the believing jinn and mankind except that they should worship Me'. This version supports the view that the verse is only in connection with the believers.Another answer to the question, given by Moulana Ashraf ` Ali Thanawi (رح) is that: Allah has commanded all to worship, but at the same time He has equipped them with free will. Some of them exercised their God-given free will correctly and chose to worship Him, but others used their God-given free will incorrectly and deviated from worshipping Him. This is what Sayyidna Ali ؓ has said, as quoted by Baghawi. Tafsir Mazhari gives a plain and simple explication of this verse: Allah has equipped every jinn and man with the innate capacity to worship. Some use the capacity rightly and succeed, while others employ it wrongly in sinning and fulfilling their base emotions, and thus destroy it. The Messenger ﷺ is reported to have said:کُلُّ مَولُودِ یُّولَدُ عَلَی الفِطرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَو یُمَجِّسَانِہٖ"Every child is born according to the fitrah but his parents [ cause him to deviate from the unadulterated propensity ] and turn him into a Jew or a Christian or a Magian."According to the majority of the scholars, fitrah here refers to the religion of Islam. Just as this Tradition tells us that every man is born with the natural capacity for Islam and true faith, but his parents adulterate and destroy that capacity, and put him on to the ways of disbelief, in the same way the phrase 'except that they should worship Me' could mean that every member of jinn and mankind has the natural, inborn capacity to worship. Allah, the Pure and Exalted, knows best.Answer to the second question is that bringing any creation into being for the purpose of worship does not necessarily imply that they are unfit for other functions of life.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.