Surah Adh-Dhariyat • Ayah 13
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed in Makkahبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.Affirming the News of the Resurrection The Commander of the faithful,`Ali bin Abi Talib may Allah be pleased with him, ascended the Minbar in Kufah and declared, "Any Ayah in the Book of Allah the Exalted and any Sunnah from Allah's Messenger ﷺ you ask me about today, I will explain them." Ibn Al-Kawwa stood up and said, "O Leader of the faithful! What is the meaning of Allah's statement,وَالذَرِيَـتِ ذَرْواً(By the scattering Dhariyat)," and `Ali said, "The wind." The man asked,فَالْحَـمِلَـتِ وِقْراً"(And the laden Hamilat)" `Ali said, "The clouds." The man again asked,فَالْجَـرِيَـتِ يُسْراً"(And the steady Jariyat)" `Ali said, "The ships." The man asked,فَالْمُقَسِّمَـتِ أَمْراً"(And the distributors of command)" `Ali said, it refers to "The angels." Some scholars said that Al-Jariyat Yusra refers to the stars that float in their orbits with ease. This would mean that the things mentioned were ascendant in their order, beginning with the lower, then mentioning the higher one after that, etc. The winds bring the clouds, the stars are above them and the angels who distribute by Allah's order are above that, and they descend with Allah's legislative orders and the decrees He determines. These Ayat contain a vow from Allah that Resurrection shall come to pass. Allah's statement,إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَـدِقٌ(Verily, that which you are promised is surely true.), it is a truthful promise,وَإِنَّ الدِّينَ(And verily, Ad-Din) the Recompense,لَوَاقِعٌ(will occur), it will surely come to pass. Then Allah the Exalted said,وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِ(By the heaven full of Hubuk,) Ibn `Abbas said; "Full of beauty, grace, magnificence and perfection." Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Abu Malik, Abu Salih, As-Suddi, Qatadah, `Atiyah Al-`Awfi, Ar-Rabi` bin Anas and others said similarly. Ad-Dahhak, Al-Minhal bin `Amr and others said, "The meandering of the water, sand and plants when the wind passes over them; carving paths out of them, that is the Hubuk." All of these sayings return to the same meaning, that of beauty and complexity. The sky is high above us, clear yet thick, firmly structured, spacious and graceful, beautified with stars such as the sun and orbiting planets such as the moon and the planets of the solar system.The Differing Claims of the IdolatorsAllah the Exalted said,إِنَّكُمْ لَفِى قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ(Certainly, you have different ideas.) Allah says, `you disbelievers who deny the Messengers have different and confused opinions that do not connect or conform to each other.' Qatadah commented on the Ayah, "You have different ideas about the Qur'an. Some of you agree that it is true while some others deny this fact." Allah said,يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ(Turned aside therefrom is he who is turned aside.) Allah says, these confused and different opinions only fool those who are inwardly misguided. Surely, such falsehood is accepted, embraced and it becomes the source of confusion only for those who are misguided and originally liars, the fools who have no sound comprehension, as Allah said,فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ - مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَـتِنِينَ - إِلاَّ مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ(So, verily you and those whom you worship cannot lead astray, except those who are predetermined to burn in Hell!)(37:161-163) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and As-Suddi said:يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ(Turned aside therefrom is he who is turned aside.) "He who is misguided is led astray from it. " Allah said;قُتِلَ الْخَرَصُونَ(Cursed be Al-Kharrasun), Mujahid said; "The liars. This is similar to what is mentioned in (Surah) `Abasa:قُتِلَ الإِنسَـنُ مَآ أَكْفَرَهُ(Be cursed man! How ungrateful he is!)(80:17) Al-Kharrasun are those who claim that they will never be brought back to life, doubting the coming of Resurrection." `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas;قُتِلَ الْخَرَصُونَ(Cursed be Al-Kharrasun), "Cursed be the doubters." Mu`adh said similarly, may Allah be pleased with him. During one of his speeches he said, "Destroyed be the doubters." Qatadah said, "Al-Kharrasun are the people of doubt and suspicion." Allah said;الَّذِينَ هُمْ فِى غَمْرَةٍ سَـهُونَ(Who are under a cover of Sahun,) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and others said; "In disbelief and doubt, they are heedless and playful." Allah said,يَسْـَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ(They ask: "When will be the Day of Ad-Din") They utter this statement in denial, stubbornness, doubt and suspicion. Allah the Exalted replied,يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ((It will be) a Day when they will be Yuftanun in the Fire!) Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and several others said that Yuftanun means punished. Mujahid said: "Just as gold is forged in the fire." A group of others also including Mujahid, `Ikrimah, Ibrahim An-Nakha`i, Zayd bin Aslam, and Sufyan Ath-Thawri said, "They will be burnt."ذُوقُواْ فِتْنَتَكُمْ(Taste you your trial!), Mujahid said, "Your burning" while others said, "Your punishment."هَـذَا الَّذِى كُنتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ(This is what you used to ask to be hastened!) This will be said admonishing, chastising, humiliating and belittling them. Allah knows best.إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَـهُمْ رَبُّهُمْ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ كَانُواْ قَلِيلاً مِّن الَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَبِالاٌّسْحَـرِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
بابخلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] صفحہ نمبر8761امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] صفحہ نمبر8762 «الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] صفحہ نمبر8763ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔صفحہ نمبر8764قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔صفحہ نمبر8765سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔“ پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8766
آیت 13{ یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ۔ } ”جس دن یہ لوگ آگ پر سینکے جائیں گے۔“ چونکہ مشرکین یہ سوال غیر سنجیدہ انداز میں کرتے تھے اس لیے جواب میں ان کے لیے ڈانٹ کا انداز پایاجاتا ہے۔
قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ (Death upon those who make conjectures - 51:10). The expression kharrasun is the plural of kharras which means one who estimates or say things by conjecture. In this context the word refers to those stubborn and obstinate infidels who, without any reason or evidence, say discordant things about the Messenger ﷺ . Thus it would not be out of turn to interpret kharrasun as kadhdhabun, meaning 'the great liars' as they are condemned, denounced, cursed and imprecated (Mazhari) in this statement. After the mention of infidels, several verses that follow describe the qualities of the righteous people and the pleasant consequences of their righteousness.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.