The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Muhammad • Ayah 18

Para 26 Surah 47 : 18
فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَآءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرَىٰهُمْ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

فَهَلْ
يَنظُرُونَ
إِلَّا
ٱلسَّاعَةَ
أَن
تَأْتِيَهُم
بَغْتَةً
ۖ
فَقَدْ
جَآءَ
أَشْرَاطُهَا
ۚ
فَأَنَّىٰ
لَهُمْ
إِذَا
جَآءَتْهُمْ
ذِكْرَىٰهُمْ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Description of the Situation of the Hypocrites and the Command to maintain Tawhid and seek ForgivenessAllah describes the hypocrites' stupidity and limited understanding. They used to sit before Allah's Messenger ﷺ and listen to his words without understanding anything. Then when they left from his presence,قَالُواْ لِلَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ(they say to those who have received knowledge) from the Companionsمَاذَا قَالَ ءَانِفاً("What is it that he has said just now") meaning, at this moment. They did not understand what he said, nor did they care about it. Allah says,أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُواْ أَهْوَآءَهُمْ(Such are the men whose hearts Allah has sealed because they followed their lusts.) which means that they had neither sound understanding nor correct intentions. Allah then says,وَالَّذِينَ اهْتَدَوْاْ زَادَهُمْ هُدًى(And as for those who accept guidance, He increases them in guidance) which means that those who seek guidance, Allah facilitates it for them; He guides them to it, makes them firm on it, and gives them more of it.وَءَاتَـهُمْ تَقُوَاهُمْ(and bestows on them their Taqwa. ) meaning, He inspires them to their righteous guidance. Allah then says,فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً(Do they then await except that the Hour should come upon them suddenly) meaning, while they are unaware of it.فَقَدْ جَآءَ أَشْرَاطُهَا(But already there have come (some of) its portents;) meaning, the signs of its approach. This is similar to Allah's saying,هَـذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الاٍّوْلَى - أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ(This is a warner of the warners of old. The approaching Day has drawn near.) (53:56-57) And His saying,اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ(The Hour has drawn near, and the moon has split.) (54:1) And His saying,أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ(The command of Allah is coming, so do not be impatient for it.) (16:1) And His saying,اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ(The people's Day of Reckoning has approached while they turn away in heedlessness.) (21:1) Thus, the Messenger's ﷺ advent is one of the signs of the Hour, because he is the Finality of the Messengers. With him, Allah has completed the religion and established the evidence against all people in a way that was never done by a previous Prophet. Allah's Messenger ﷺ has most clearly informed about the signs and indications of the Hour, as we have discussed elsewhere. Al-Bukhari recorded from Sahl bin Sa`d, may Allah be pleased with him, that he saw Allah's Messenger ﷺ bring his index and middle fingers together while he said,«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْن»(I have been sent before the Hour as these two (fingers).) Allah continues,فَأَنَّى لَهُمْ إِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ(and when it (actually) is on them, how can they benefit then by their reminder) meaning, how would remembering benefit the disbelievers when the Hour comes upon them This is similar to Allah's saying,يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى(On that Day will the human being remember, but what would that remembrance avail him then) (89:23) And His saying,وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ(They will say (in the Hereafter): "Now we believe in it!" But how could they claim belief from such a far place) (34:52) Allah then says,فَاعْلَمْ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلأاللَّهِ(So know that La ilaha illallah) This is a declaration that there is no true God except Allah. It is not something that is easy for him to command the people to have knowledge of. That is why Allah connected it with,وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَـتِ(and ask forgiveness for your sin and for the believing men and women.) In the Sahih, it is recorded that Allah's Messenger ﷺ used to say,«اللْهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللْهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئِي وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذلِكَ عِنْدِي»(O Allah, forgive my sin, my ignorance, my immoderation in my affairs, and all that You know better about my (faults) than myself. O Allah, forgive for me my joking, my seriousness, my unintended error, and my deliberate (mistakes) -- and I have done of all that.) It is also reported in the Sahih that he used to say at the end of the prayer,«اللْهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ إِلهِي لَا إِلهَ إِلَّا أَنْت»(O Allah, forgive for me what I have previously done, what I may commit in future, what I have committed secretly, what I have committed openly, what I have done excessively, and all sins that You know better than me. You are my God. There is no (true) God except You.) It is also recorded in the Sahih that he used to say,«يَاأَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ، فَإِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّة»(O people! Repent to your Lord! Verily, I ask Allah for forgiveness and repent to Him more than seventy times every day.) Allah then says,وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ(And Allah knows well your moving about, and your place of rest.) means, He knows how you behave during the day, and where you settle at night. This is similar to His saying,وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ(It is He Who takes your souls by night and knows all that you do by day.)(6:60) And He says,وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ(And there is no moving creature on earth but its provision is up to Allah, and He knows its dwelling place and its deposit (before birth and after death) -- all is in a clear register.) (11:6)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑ گئے ہیں، فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں۔ پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں، انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے، پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور ان کی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے۔ تو یہ معلوم کر لیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہو چکے ہیں۔ جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے «ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى أَزِفَتِ الْآزِفَةُ» [53-النجم:57،56] ‏ ” یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے، قریب آنے والی قریب آ چکی ہے “۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:1] ‏، قیامت قریب ہو گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:1] ‏ ” لوگوں کا حساب قریب آ گیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں “۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔صفحہ نمبر8522حسن بصری فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں «نبی التوبہ»، «نبی الملحمہ»، «حاشر» جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، «عاقب» جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ [صحیح مسلم:124] ‏ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ”میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4936] ‏ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [89-الفجر:23] ‏ ” اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ “ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» [34-سبأ:52] ‏ یعنی ” اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ “ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔ پھر فرماتا ہے ” اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں “، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔صفحہ نمبر8523صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي» ‏ یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ ۔ [صحیح بخاری:2398] ‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں کہتے «اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ» یعنی، ”اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ ۔ [صحیح مسلم:771] ‏ اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ ۔ [صحیح بخاری:6307] ‏ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔‏“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے [صحیح مسلم:2346] ‏۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم « «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» » کا اور «اَسْتَغْفِرُ اﷲَ» کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ ۔ ایک اور اثر میں ہے کہ ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ” مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں “ ۔ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] ‏ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔صفحہ نمبر8524پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:60] ‏ یعنی ” اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے “۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّ‌هَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [11-هود:6] ‏، یعنی ” زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں “۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر8525

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 18 { فَہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً فَقَدْ جَآئَ اَشْرَاطُہَا } ”تو یہ لوگ اب کس چیز کے منتظر ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آدھمکے ان پر اچانک ؟ پس اس کی علامات تو ظاہر ہو ہی چکی ہیں۔“ قیامت کی سب سے بڑی نشانی تو خود محمد عربی ﷺ کی بعثت ہے کہ آپ ﷺ آخری رسول ہیں۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو آپس میں ملا کر فرمایا : بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ 1 ”میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی مانند جڑے ہوئے بھیجے گئے ہیں“۔ ظاہر ہے آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو آپ ﷺ کے بعداب قیامت ہی کو آنا ہے۔ حضرت ابوامامہ باہلی رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَائِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ 2 ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔“ { فَاَنّٰی لَہُمْ اِذَا جَآئَ تْہُمْ ذِکْرٰٹہُمْ } ”تو جب وہ ان پر آدھمکے گی تو اس وقت ان کا نصیحت حاصل کرنا کس کام کا ہوگا ؟“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

CommentaryThe lexical item اشراط "ashrat" occurring in this passage means "signs". The portents of the last Hour starts with the very advent of Khatam-un-Nabiyyin ﷺ [ the Last of the Holy Prophets ] as the end of the Holy Prophethood is the sign of the approach of the last Hour. The miracle of the splitting of the moon by the Holy Prophet ﷺ has been described thus in the Holy Qur'an [ 54:1]: اقْتَرَ‌بَتِ السَّاعَةُ "The hour has drawn near and the moon has split." - indicating that this miracle is also one of the signs of the last Hour. These are initial portents of the Hour which appeared at the time of the revelation of the Qur'an. Besides, there are many other portents that have been predicted in authentic Ahadith, one of which is reported by Anas in which he says that I have heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Among the signs of the last hour is the removal of knowledge, abundance of ignorance, the prevalence of fornication, the prevalence of wine-drinking, the small number of men and the large number of women so that fifty women will have one man to look after them". (Bukhari and Muslim) A version has "knowledge will dwindle and ignorance will be widespread."Abu Hurayrah ؓ reports Allah's Messenger ﷺ as saying: "When the spoils of war are taken as personal wealth, property given in trust is treated as spoil, zakah is treated as a fine, learning is acquired for other than religious purpose, a man obeys his wife and is undutiful towards his mother, brings his friend near and drives his father far off, voices are raised in the mosques, the most wicked member of a tribe becomes its ruler, the most worthless member of a people becomes its leader, a man is honored through fear of the evil he may do, singing-girls and stringed-instruments make their appearance, wines are drunk, and the last members of this community curse the earlier ones, look at that time for a violent wind, an earthquake, being swallowed up by the earth, metamorphosis, pelting rain, and signs following one another like bits of a necklace falling one after the other when its string is cut. (Tirmidhi)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.