The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Az-Zukhruf • Ayah 66

Para 25 Surah 43 : 66
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

هَلْ
يَنظُرُونَ
إِلَّا
ٱلسَّاعَةَ
أَن
تَأْتِيَهُم
بَغْتَةً
وَهُمْ
لَا
يَشْعُرُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Resurrection will come suddenly, and Enmity will arise between close Friends among the DisbelievAllah says, `do these idolaters who disbelieve in the Messengers wait'إِلاَّ السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ(only for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not) means, for it is real and will inevitably come to pass, and these negligent people are unprepared for it. When it comes, it will catch them unawares, and on that Day they will feel the utmost regret when regret will not benefit them in the slightest and will not afford them any protection.الاٌّخِلاَءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلاَّ الْمُتَّقِينَ (Friends on that Day will be foes one to another except those who have Taqwa.) means, every friendship that exists for a purpose other than for the sake of Allah will turn to enmity on the Day of Resurrection, except for that which is for the sake of Allah, which will last forever. This is like the statement of Ibrahim, peace be upon him, to his people:إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَـناً مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضاً وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّن نَّـصِرِينَ(You have taken (for worship) idols instead of Allah. The love between you is only in the life of this world, but on the Day of Resurrection, you shall disown each other, and curse each other, and your abode will be the Fire, and you shall have no helper.) (29:25)Good News for Those with Taqwa on the Day of Resurrection, and Their entry into Paradiseيعِبَادِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمُوَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ(My servants! No fear shall be on you this Day, nor shall you grieve.) Then He will give them the glad tidings:الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِـَايَـتِنَا وَكَانُواْ مُسْلِمِينَ ((You) who believed in Our Ayat and were Muslims.) means, their hearts believed and they submitted inwardly and outwardly to the Laws of Allah. Al-Mu`tamir bin Sulayman narrated that his father said: "When the Day of Resurrection comes and the people are resurrected, there will be no one left who will not be filled with terror. Then a caller will cry out:يعِبَادِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ (My servants! No fear shall be on you this Day, nor shall you grieve.) So all the people will be filled with hope, but this will be followed by the words:الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِـَايَـتِنَا وَكَانُواْ مُسْلِمِينَ ((You) who believed in Our Ayat and were Muslims.) Then all of mankind will be filled with despair apart from the believers."ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ(Enter Paradise, ) means, they will be told to enter Paradise.أَنتُمْ وَأَزْوَجُكُمْ(you and your wives,) means, your counterpartsتُحْبَرُونَ(in happiness (Tuhbarun).) means, in delight and joy.يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِصِحَـفٍ مِّن ذَهَبٍ وَأَكْوَبٍ(Trays of gold and cups will be passed round them;) means, fine vessels of gold containing food and drink, without spouts or handles. (وَفِيهَا مَا تَشْتَهِي الْأَنْفُسُ) (there will be) therein all that their souls could desire). Some of them recited:مَا تَشْتَهِيهِ الاٌّنْفُسُ(that their souls desire,)وَتَلَذُّ الاٌّعْيُنُ(and all that eyes could delight in) means, of good food, delightful fragrances and beautiful scenes.وَأَنتُمْ فِيهَا(and you will therein) means, in Paradiseخَـلِدُونَ(abide forever) means, you will never leave it or want to exchange it. Then it will be said to them, as a reminder of the blessing and favor of Allah:وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِى أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (This is the Paradise, which you have been made to inherit because of your deeds that you used to do.) means, the righteous deeds which were the cause of your being included in the mercy of Allah. For no one will be admitted to Paradise by virtue of their deeds alone; that will be by the mercy and grace of Allah. But the varying ranks and degrees of Paradise will be attained according to one's righteous deeds.لَكُمْ فِيهَا فَـكِهَةٌ كَثِيرَةٌ(Therein for you will be fruits in plenty,) means, of all kinds.مِّنْهَا تَأْكُلُونَ(of which you will eat.) means, whatever you choose and desire. When food and drink are mentioned, fruit is also mentioned to complete the picture of blessing and joy. And Allah knows best.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

جنت میں جنت کے حقدار ٭٭اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی “۔ جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ‏ [ 29-العنكبوت: 25 ] ‏ ” تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے “۔صفحہ نمبر8283ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ” تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا “۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو “، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ” تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو “، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔‏“صفحہ نمبر8284سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ” یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا “۔ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف] ‏صفحہ نمبر8285پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ” تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ “۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ” اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف “، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ” وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے “، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔‏“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔صفحہ نمبر8286

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 66 { ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ } ”یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آجائے ان پر اچانک اور انہیں خبر بھی نہ ہو !“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ (and to explain to you some of those matters in which you differ...43:63) Since Bana Isra'il were drowned in arrogance and obstinacy, they had tampered with the Divine laws. Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) disclosed the reality of such distortions. The words 'some matters' are used because some other matters were purely of mundane nature. He might have not felt the need to deal with those differences. (Bayan-ul-Qur an).

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.