Surah Az-Zukhruf • Ayah 11
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Idolators' admission that Allah is the Sole Creator, and Further Evidence of thatAllah says: `If you, O Muhammad, were to ask these idolators who associate others with Allah and worship others besides Him,'مَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ("Who has created the heavens and the earth" They will surely say: "The All-Mighty, the All-Knower created them.") In other words, they will admit that the Creator of all that is Allah Alone, with no partner or associate, yet they still worship others -- idols and false gods -- alongside Him.الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّرْضَ مَهْداً(Who has made for you the earth like a bed,) means, smooth, stable and firm, so that you can travel about in it, and stand on it and sleep and walk about, even though it is created above water, but He has strengthened it with the mountains, lest it should shake.وَجَعَلَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلاً(and has made for you roads therein,) means, paths between the mountains and the valleys.لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ(in order that you may find your way.) means, in your journeys from city to city, region to region, land to land.وَالَّذِى نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً بِقَدَرٍ(And Who sends down water from the sky in due measure, ) means, according to what is sufficient for your crops, fruits and drinking water for yourselves and your cattle.فَأَنشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتاً(then We revive a dead land therewith,) means, a barren land, for when the water comes to it, it is stirred (to life), and it swells and puts forth every lovely kind (of growth). By referring to the revival of the earth, Allah draws attention to how He will bring bodies back to life on the Day of Resurrection, after they have been dead.كَذَلِكَ تُخْرَجُونَ(and even so you will be brought forth.) Then Allah says:وَالَّذِى خَلَقَ الأَزْوَجَ كُلَّهَا(And Who has created all the pairs) meaning, of everything that grows in the earth, all kinds of plants, crops, fruits, flowers, etc., and all different kinds of animals.وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ(and has appointed for you ships) or vessels,وَالاٌّنْعَـمِ مَا تَرْكَبُونَ(and cattle on which you ride.) means, He has subjugated them to you and made it easy for you to eat their meat, drink their milk and ride on their backs. Allah says:لِتَسْتَوُواْ عَلَى ظُهُورِهِ(In order that you may mount on their backs, ) meaning, sit comfortably and securely,عَلَى ظُهُورِهِ(on their backs) means, on the backs of these kinds of animals.ثُمَّ تَذْكُرُواْ نِعْمَةَ رَبِّكُمْ(and then may remember the favor of your Lord) means, whereby these animals are subjugated to you.إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُواْ سُبْحَـنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَـذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ(when you mount thereon, and say: "Glory to Him Who has subjected this to us, and we could have never had it.") means, if it were not for the fact that Allah has subjugated these things to us, we could never have done this by our own strength.' Ibn `Abbas, Qatadah, As-Suddi and Ibn Zayd said: "We could not have done this ourselves."وَإِنَّآ إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ (And verily, to Our Lord we indeed are to return.) means, `We will return to Him after our death, and our ultimate destination is with Him.' In this Ayah, mention of earthly journeys draws attention to the journey of the Hereafter, just as elsewhere, mention of earthly provision draws attention to the importance of ensuring provision for the Hereafter, as Allah says:وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى(And take a provision (with you) for the journey, but the best provision is the Taqwa) (2:197). And mention of earthly garments is also used to draw attention to the raiment of the Hereafter:وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ(and as an adornment; and the raiment of the Taqwa, that is better) (7:26).
آیات ۱۱ تا ۱۴اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہو جائے کھیتیاں اور باغات سرسبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کر دی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہو گئے پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا۔ اور فرمایا ” اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کر دیں۔ “ مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لیے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لیے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لیے مہیا کر دئیے ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو۔ اب تمہیں چاہیئے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے۔ اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی۔ اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو۔ جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا ” توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے “ اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا ” لباس تقوٰی افضل و بہتر ہے ـ“صفحہ نمبر8208سواری پر سوار ہوتے وقت دعاؤں کی حدیثیں ٭٭”سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں:“ حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا «بِسْمِ اللَّـهِ» جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» پھر تین مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» پھر فرمایا «سُبْحَانك لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْت نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي» پھر ہنس دئیے۔ میں نے پوچھا امیر المؤمنین آپ ہنسے کیوں؟ فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے «رَبّ اِغْفِرْ لِي» میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔ [سنن ابوداود:2602،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ابوداؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» کہا تین مرتبہ «سُبْحَانَ الله» اور ایک مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے ”جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا۔ [مسند احمد:330/1:ضعیف] صفحہ نمبر8209سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرّ وَالتَّقْوَى وَمِنْ الْعَمَل مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَر وَاطْوِ لَنَا الْبَعِيد اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِب فِي السَّفَر وَالْخَلِيفَة فِي الْأَهْل اللَّهُمَّ اِصْحَبْنَا فِي سَفَرنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلنَا» یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہو جائے اے اللہ ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لیے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہبان ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما۔ اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے «آيِبُونَ تَائِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّه عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» یعنی واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے ان شاءاللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔ [صحیح مسلم:1342] صفحہ نمبر8210ابو لاس خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سواری کے لیے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نہیں دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس پر سوار کرائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لیے خادم بنا لو، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے۔ [مسند احمد:221/4:حسن] سیدنا ابولاس رضی اللہ عنہ کا نام محمد بن اسود بن خلف ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو۔ [مسند احمد:494/3:حسن صحیح] صفحہ نمبر8211
آیت 11{ وَالَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً م بِقَدَرٍ } ”اور وہ جس نے اتارا آسمان سے پانی ایک اندازے کے مطابق۔“ { فَاَنْشَرْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا } ”تو اس سے ہم نے ُ مردہ زمین کو اٹھا کھڑا کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی سے بنجر زمین میں زندگی کے آثار پھیلا دیے ‘ اسے حیات تازہ بخش دی۔ { کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ } ”اسی طرح ایک روز تمہیں بھی نکال لیا جائے گا۔“ تمہیں بھی روز محشر اسی طرح زندہ کر کے تمہاری قبروں سے نکال کھڑا کیا جائے گا۔
Commentaryجَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا (has made the earth a cradle for you - 10) meaning that the comfort provided by the earth is that of a cradle; its apparent look of being a plain floor does not negate its being spherical.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.