Surah Ghafir • Ayah 74
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The End of Those Who dispute and deny the Signs of AllahAllah says, `do you not wonder, O Muhammad, at those who deny the signs of Allah and dispute the truth by means of falsehood, how their minds are diverted from the truth and are misguided'الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِالْكِـتَـبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا(Those who deny the Book, and that with which We sent Our Messengers) means, guidance and clear proof.فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ(they will come to know.) This is a stern warning and clear threat from the Lord to these people. This is like the Ayah:وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ (Woe that Day to the deniers!) (77:15)إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ(When iron collars will be rounded over their necks, and the chains.) means, the chains will be attached to the iron collars, and the keepers of Hell will drag them along on their faces, sometimes to the boiling water, and sometimes to the Fire. Allah says:يُسْحَبُونَ فِىالْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ(they shall be dragged along, in the boiling water, then they will be burned in the Fire. ) This is like the Ayat:هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ - يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ (This is the Hell which the criminals denied. They will go between it and the fierce boiling water!) (55:43-44). After describing how they will eat Zaqqum (a bitter tree of Hell) and drink Hamim (boiling water), Allah says:ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإِلَى الْجَحِيمِ (Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.) (37:68), And Allah says:وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ - فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ - وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ - لاَّ بَارِدٍ وَلاَ كَرِيمٍ h(And those on the Left Hand -- how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, (that shadow) neither cool nor (even) pleasant.) untilثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّآلُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - لاّكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ - فَمَالِـُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ - فَشَـرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ - فَشَـرِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ - هَـذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ (Then moreover, verily, -- you the erring-ones, the deniers (of Resurrection)! You verily, will eat of the trees of Zaqqum. Then you will fill your bellies therewith, and drink boiling water on top of it. And you will drink (that) like thirsty camels! That will be their entertainment on the Day of Recompense!) (56: 41-44, 51-56),إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ - كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ - خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ - ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ (Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!") (44:43-50) i.e., this will be said to them to rebuke and ridicule them.ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you considered partners -- besides Allah") means, it will be said to them, `where are the idols whom you used to worship instead of Allah Can they help you today'قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا(They will say: "They have vanished from us...") mean, they have gone away and they cannot do anything for us.'بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً(Nay, we did not invoke (worship) anything before. ) means, they will deny that they worshipped them. This is like the Ayah:ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ (There will then be (left) no Fitnah (excuse) for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.") (6:23) Allah says:كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ(Thus Allah leads astray the disbelievers).ذَلِكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ (That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.) means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.'ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ (Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, what a terrible abode and final destination, filled with humiliation and severe punishment for those who arrogantly ignored the signs of Allah and refused to accept His proof and evidence. And Allah knows best.
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید ٭٭اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اَڑتے ہیں؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» [ 77-المرسلات: 15 ] جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگِ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ» [ 55-الرحمن: 43، 44 ] ۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا «ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ» [ 37- الصافات: 68 ] کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کیطرف ہے۔صفحہ نمبر8011سورۃ الواقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا «وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ» [ 56-سورة الواقعة: 41-44 ] بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، «ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ هَـٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ» [ 56-سورة الواقعة: 51-56 ] اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہو گی۔ اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُونَ» [ 44- الدخان: 43-50 ] ، یعنی یقیناً گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ، لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریم والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ صفحہ نمبر8012ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کر دیئے جائیں گے۔ (مجمع الزوائد: [18598] ضعیف) پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہو گئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کر دیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» [ 6- الانعام: 23 ] اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بے وجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آ جاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہو جاؤ اب ہمیشہ یہیں پہ رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی ِگرو گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر8013
آیت 73 ‘ 74 { ثُمَّ قِیْلَ لَہُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک بنایا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟“ { قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًاط } ”وہ کہیں گے : سب گم ہوگئے ہم سے ‘ بلکہ ہم نہیں پکار رہے تھے اس سے پہلے کسی بھی شے کو۔“ اے اللہ ! آج اس وقت ہم پر یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ جنہیں معبود سمجھ کر ہم پکارا کرتے تھے ان کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ { کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْکٰفِرِیْنَ۔ ’ ‘ ’ اسی طرح اللہ بھٹکا دیتا ہے کافروں کو۔“
In verse 74, it was said: قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا (They will say, "They are lost to us,...), that is, once they reach Jahannam, the disbelievers will say that all those idols and shaitans they used to worship have disappeared in the sense that they do not see them around, though, they might as well be lying somewhere in a corner of Jahannam, as their being in Jahannam stands proved from other verses of the Qur'an, for instance: إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ , (Surely, you and whatever you worship other than Allah are the fuel for Jahannam - Al-Anbiya', 21:98)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.