The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Ghafir • Ayah 56

Para 24 Surah 40 : 56
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُجَـٰدِلُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـٰنٍ أَتَىٰهُمْ ۙ إِن فِى صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَـٰلِغِيهِ ۚ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

إِنَّ
ٱلَّذِينَ
يُجَـٰدِلُونَ
فِىٓ
ءَايَـٰتِ
ٱللَّهِ
بِغَيْرِ
سُلْطَـٰنٍ
أَتَىٰهُمْ
ۙ
إِن
فِى
صُدُورِهِمْ
إِلَّا
كِبْرٌ
مَّا
هُم
بِبَـٰلِغِيهِ
ۚ
فَٱسْتَعِذْ
بِٱللَّهِ
ۖ
إِنَّهُۥ
هُوَ
ٱلسَّمِيعُ
ٱلْبَصِيرُ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Victory of the Messengers and the Believersإِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life). As-Suddi, "Allah never sends a Messenger to a people and they kill him or some of the believers who call them to the truth, then that generation passes away, but He then sends them someone who will support their call and will seek vengeance for their blood from those who did that to them in this world. So the Prophets and believers may be killed in this world, but their call will prevail in this world." Allah granted victory to His Prophet Muhammad ﷺ and his Companions over those who had opposed him, disbelieved in him and shown hostility towards him. He caused His Word and His religion to prevail over all other religions, commanded him to emigrate from his people to Al-Madinah, where He gave him supporters and helpers. Then He caused him to prevail over the idolators on the day of Badr, when He granted him victory over them and he humiliated them, killing their leaders and taking their elite prisoner, driving them before him in chains. Then he did them the favor of accepting ransom from them. Shortly after that, Allah enabled him to conquer Makkah, and he rejoiced in his return to his homeland, the sacred and holy land of Al-Haram. Through him, Allah saved it from its disbelief and Shirk. Then Allah enabled him to conquer the Yemen, and the entire Arabian Peninsula submitted to him, and the people entered the religion of Allah in crowds. Then Allah took him (in death), because of his high status and honor, and He established his Companions as his Khalifahs. They conveyed the religion of Allah from him, called mankind to Allah, they conquered many regions, countries and cities, and opened people's hearts, until the call of Muhammad ﷺ spread throughout the world, east and west. This religion will continue to prevail until the Hour begins. Allah says:إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth) meaning, on the Day of Resurrection the victory will be greater and more complete. Mujahid said, "The witnesses are the angels."يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers.) is referring to the same as;وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ(...the Day when the witnesses will stand forth.) Others read it with that meaning;وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُيَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ(And the Day the witnesses will stand forth, is a Day when there will be no profit to wrongdoers.) and the wrongdoers are the idolators.مَعْذِرَتُهُمْ(their excuses) means, no excuse or ransom will be accepted from them.وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ(Theirs will be the curse,) means, they will be cast out far away from the mercy of Allah.وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ(and theirs will be the evil abode.) means, the Hell-fire, as As-Suddi said, a terrible abode and dwellingplace.Indication that the Messenger and the Believers will prevail just as Musa and the Children of Israel prevailedوَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى(And, indeed We gave Musa the guidance.) means, the guidance and light with which Allah sent him.وَأَوْرَثْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ(and We caused the Children of Israel to inherit the Scripture.) means, `We caused them to prevail in the end and they inherited the land and accumulated wealth of Fir`awn, because of their patience in obeying Allah and following His Messenger Musa.' The Scripture which they inherited, the Tawrah, wasهُدًى وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ(A guide and a reminder for men of understanding.) i.e. those of a sound and upright nature.فَاصْبِرْ(So be patient) means, `O Muhammad,'إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ(Verily, the promise of Allah is true,) means, `We have promised that your word will prevail and that the ultimate victory will be for you and those who follow you, and Allah does not break His promises. What We have told you is true and there is no doubt in it whatsoever.'وَاسْتَغْفِـرْ لِذَنبِكَ(and ask forgiveness for your fault,) This encourages the Ummah to seek forgiveness.وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ(and glorify the praises of your Lord in the `Ashi) meaning, at the end of the day and the beginning of the night,وَالابْكَارِ(and in the Ibkar.) meaning, at the beginning of the day and the end of the night.إِنَّ الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ(Verily, those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority having come to them,) means, they try to refute the truth with falsehood, and to refute sound evidence with dubious arguments, having no proof or evidence from Allah.إِن فِى صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّـا هُم بِبَـلِغِيهِ(there is nothing else in their breasts except pride. They will never have it.) means, they are too proud to follow the truth and submit to the one who has brought it. But their attempts to suppress the truth and elevate falsehood will fail; the truth will prevail and their words and aspirations will be defeated.فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ(So seek refuge in Allah. ) means, from being like these people,إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ(Verily, it is He Who is the All-Hearer, the All-Seer.) or seek refuge with Him from being like these people who dispute about the Ayat of Allah without any authority having come to them.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت ٭٭آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کر دیا، جیسے حضرت یحییٰ، زکریا، شعیب صلوات اللہ علیہم و سلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔صفحہ نمبر7980چنانچہ یحییٰ، زکریا علیہ السلام، شعیب علیہ السلام کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کر دیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا؟ حضعر عیسیٰ علیہ السلام کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کر دیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔ اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کر دیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔ [صحیح بخاری:6502] ‏صفحہ نمبر7981دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے۔ [شرح السنۃ للبغوی:1242] ‏۔ اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔ امام سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آئے یا ایماندار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بے حرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔ پس گو انبیاء علیہ السلام اور مومنین رحمہ اللہ علیہم یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔صفحہ نمبر7982اشرف الانبیاء حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بے نتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمے کو بلند و بالا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سردارانِ مشرکین یا تو ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔ اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کر دیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول صلی اللہ علیہ وسلم محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بے ادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کر دیا گیا۔صفحہ نمبر7983بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آ گیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہو گئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیک نہاد صحابہ رضی اللہ عنہم کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لیے کھڑے ہو گئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کر دیا۔ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کونا اپنے قبضے میں کر لیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین!صفحہ نمبر7984الحمدللہ آج تک اللہ کا دین غالب اور منصور ہے۔ آج تک مسلمانوں میں حکومت اور سلطنت موجود ہے۔ آج تک ان ہاتھوں میں اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہو گی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔صفحہ نمبر7985گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں «‏يَوْمَ» بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہو گا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہو گا۔ ان کی عاقبت خراب ہو گی، موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہو گا انجام کے لحاظ سے آپ ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلا شک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔ آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر، کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہا کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہو گا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہو جائیں گے۔صفحہ نمبر7986پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع و بصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پرہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔صفحہ نمبر7987

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 56 { اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰٹہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں جھگڑے ڈالتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو“ { اِنْ فِیْ صُدُوْرِہِمْ اِلَّا کِبْرٌ مَّا ہُمْ بِبَالِغِیْہِ } ”نہیں ہے ان کے دلوں میں کچھ ‘ مگر تکبر جس تک وہ پہنچنے والے نہیں ہیں۔“ ان کے دلوں میں صرف بڑائی کی خواہش ہے ‘ جو کبھی پوری نہیں ہوگی۔ { فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ } ”پس آپ اللہ کی پناہ طلب کیجیے ‘ یقینا وہ سب کچھ سننے والا ‘ ہرچیز کو دیکھنے والا ہے۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In verse 56, it was said: إِن فِي صُدُورِ‌هِمْ إِلَّا كِبْرٌ‌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ (there is nothing in their hearts but pride of greatness that they are not [ able ] to reach). It means that people who quarrel in the matter of the verses of Allah without having any valid argument really look forward to rejecting this faith simply because their hearts are filled with pride and arrogance. They would like to stay ahead in the game and are so dim-witted that they have taken for granted that they have this position of strength as a result of their staunch adherence to their faith, and if they were to surrender this stance by becoming Muslims, they will be left without any power and territory of their own. The Qur'an said: مَّا هُم بِبَالِغِيهِ (they are not [ able ] to reach), that is, these people will never reach the goals of their assumed pride, greatness and state power without embracing Islam. However, had they embraced Islam, honor and greatness would have followed in their footsteps. (Qurtubi)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.