Surah Ghafir • Ayah 30
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
يقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الاٌّحْزَابِ(O my people! Verily, I fear for you an end like that day (of disaster) of the groups (of old)!) meaning, those of the earlier nations who disbelieved the Messengers of Allah, such as the people of Nuh, `Ad, Thamud and the disbelieving nations who came after them, how the punishment of Allah came upon them and they had no one to protect them or ward off that punishment.وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعِبَادِ(And Allah wills no injustice for (His) servants.) means, Allah destroyed them for their sins and for their disbelief in and rejection of His Messengers; this was His command and His decree concerning them that was fulfilled. Then he said:وَيقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ(And, O my people! Verily, I fear for you the Day when there will be mutual calling.) meaning, the Day of Resurrection.يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ(A Day when you will turn your backs and flee) means, running away.كَلاَّ لاَ وَزَرَ - إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ(No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day.) (75:11-12) Allah says:مَا لَكُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ(having no protector from Allah.) meaning, `you will have no one to protect you from the punishment and torment of Allah.'وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ(And whomsoever Allah sends astray, for him there is no guide.) means, whomever Allah sends astray will have no other guide except Him. Allah's saying:وَلَقَدْ جَآءَكُـمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَـتِ(And indeed Yusuf came to you, in times gone by, with clear signs,) refers to the people of Egypt. Allah sent a Messenger to them before the time of Musa, peace be upon him, in the person of Yusuf, peace be upon him, who attained a high position in the government of the people of Egypt. He was a Messenger who called his people to Allah with justice, but they did not obey him in matters of worshipping Allah, they only obeyed him in worldly matters that pertained to his position in the government. Allah says:فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُـمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً(but you ceased not to doubt in that which he brought to you, till when he died, you said: "No Messenger will Allah send after him.") means, `you despaired, and said by way of wishful thinking,'لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً(No Messenger will Allah send after him.) This was because of their disbelief and rejection (of the Messengers).كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ(Thus Allah leaves astray him who is a transgressor and a skeptic. ) means, this is the state of the one whom Allah sends astray because of his sinful actions and the doubts in his heart.الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ(Those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority that has come to them,) means, those who attempt to refute truth with falsehood and who dispute the proof without evidence or proof from Allah, Allah will hate them with the utmost loathing. Allah says:كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ(it is greatly hateful and disgusting to Allah and to those who believe.) meaning, the believers too will despise those who are like this, and whoever is like this, Allah will put a seal on his heart so that after that he will not acknowledge anything good or denounce anything evil. Allah says:كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُـلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ(Thus does Allah seal up the heart of every arrogant.) meaning, so that they cannot follow the truth.جَبَّارٍ(tyrant.)
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت ٭٭اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یا روکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لیے وبالِ جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور پھٹ جائے گی تو لوگ مارے گھبراہٹ کے ادھر ادھر پریشان حواس بھاگنے لگیں گے۔ اور ایک دوسرے کو آواز دیں گے۔ حضررت ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب جہنم لائی جائے گی اور لوگ اسے دیکھ کر ڈر کر بھاگیں گے اور فرشتے انہیں میدان محشر کی طرف واپس لائیں گے۔صفحہ نمبر7949جیسے فرمان اللہ ہے «وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ» [ 69- الحاقة: 17 ] یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ اور فرمان ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [ 55- الرحمن: 33 ] ، یعنی اے انسانو! اور جنو! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے بھاگ نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل بھاگو لیکن یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔ حضرت حسن رحمہ اللہ اور حضرت ضحاک رحمہ اللہ کی قرأت میں «یوم التناد» دال کی تشدید کے ساتھ ہے۔ اور یہ ماخوذ ہے «ندالبعیر» سے، جب اونٹ چلا جائے اور سرکشی کرنے لگے تو یہ لفظ کہا جاتا ہے، کہا گیا ہے کہ جس ترازو میں عمل تولے جائیں گے وہاں ایک فرشتہ ہو گا جس کی نیکیاں بڑھ جائیں گی وہ با آواز بلند پکار کر کہے گا لوگو فلاں کا لڑکا فلاں سعادت والا ہو گیا اور آج کے بعد سے اس پر شقاوت کبھی نہیں آئے گی اور اس کی نیکیاں گھٹ گئیں تو وہ فرشتہ آواز لگائے گا کہ فلاں بن فلاں بدنصیب ہو گیا اور تباہ و برباد ہو گیا۔صفحہ نمبر7950حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کو «يَوْمَ التَّنَادِ» اس لیے کہا گیا ہے کہ جنتی جنتیوں کو اور جہنمی جہنمیوں کو پکاریں گے اور اعمال کے ساتھ پکاریں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ» [ 7-الأعراف: 44 ] وجہ یہ ہے کہ جنتی دوزخیوں کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے سچ پایا۔ تم بتاؤ کہ کیا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» [ 7-الأعراف: 50 ] اسی طرح جہنمی جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں تھوڑا سا پانی ہی چھوا دو یا وہ کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے۔ جنتی جواب دیں گے کہ یہاں کے کھانے پینے کو اللہ نے کافروں پر حرام کر دیا ہے اسی طرح سورۃ الاعراف میں یہ بھی بیان ہے کہ اعراف والے دوزخیوں اور جنتیوں کو پکاریں گے۔ بغوی وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ہیں اور ان سب وجوہ کی بنا پر قیامت کے دن کا نام «يَوْمَ التَّنَادِ» ہے۔ یہی قول بہت عمدہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، اس دن لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے اور کہہ دیا جائے گا «كَلَّا لَا وَزَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [ 75-القيامة: 11، 12 ] آج ٹھہرنے کی جگہ یہی ہے اس دن کوئی نہ ہو گا جو بچا سکے اور اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں وہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، پھر فرماتا ہے کہ اس سے پہلے اہل مصر کے پاس یوسف علیہ السلام اللہ کے پیغمبر بن کر آئے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بعثت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے ہوئی تھی۔ عزیز مصر بھی آپ علیہ السلام ہی تھے اور اپنی امت کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ لیکن قوم نے ان کی اطاعت نہ کی، ہاں بوجہ دنیوی جاہ کے اور وزارت کے تو انہیں ماتحتی کرنی پڑتی تھی۔ پس فرماتا ہے کہ تم ان کی نبوت کی طرف سے بھی شک میں ہی رہے۔ آخر جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم بالکل مایوس ہو گئے اور امید کرتے ہوئے کہنے لگے کہا اب تو اللہ تعالیٰ کسی کو نبی بنا کر بھیجے گا ہی نہیں۔ یہ تھا ان کا کفر اور ان کی تکذیب اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کر دیتا ہے جو بےجا کام کرنے والا حد سے گزرے جانے والا اور شک شبہ میں مبتلا رہنے والا ہو۔ یعنی جو تمہارا حال ہے یہی حال ان سب کا ہوتا ہے جن کے کام اسراف والے ہوں اور جن کا دل شک شبہ والا ہو، جو لوگ حق کو باطل سے ہٹاتے ہیں اور بغیر دلیل کے دلیلوں کو ٹالتے ہیں اس پر اللہ ان سے ناخوش ہے اور سخت تر ناراض ہے۔ ان کے یہ افعال جہاں اللہ کی ناراضگی کا باعث ہیں وہاں ایمان داروں کی بھی ناخوشی کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں میں ایسی بیہودہ صفتیں ہوتی ہیں ان کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر کر دیتا ہے جس کے بعد انہیں نہ اچھائی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ برائی بری لگتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق سے سرکشی کرنے والا ہو اور تکبر و غرور والا ہو۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جبار وہ شخص ہے جو دو انسانوں کو قتل کر ڈالے۔ حضرت ابوعمران جونی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا فرمان ہے کہ جو بغیر حق کے کسی کو قتل کرے وہ جبار ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر7951
آیت 30 { وَقَالَ الَّذِیْٓ اٰمَنَ یٰــقَوْمِ } ”اور مرد مومن نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا : اے میری قوم کے لوگو !“ { اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِ } ”مجھے اندیشہ ہے تم پر ایسے دن کا جیسے دن پہلی قوموں پر آئے تھے۔“
In verse 28, it was said: يَكْتُمُ إِيمَانَهُ (who had kept his faith secret). This tells us that a person who does not declare his 'iman (faith) before people, yet remains staunch in his faith by heart, then, this person is a believer. But, it stands proved from clear textual authority (of the Qur'an and Hadith) that, for 'iman to be acceptable, the simple certitude of the heart is not enough, instead, it is subject to the condition of a verbal confession and declaration. Unless the person concerned declares it verbally, he or she will not be regarded as a believer. However, making this verbal declaration before people publicly is not necessary. The only reason why it is needed is that unless people come to know about the person's 'iman, they would remain unable to interact with him or her in the same way as they do with Muslims. (Qurtubi)Earlier in the verse, by saying: مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ (a believing man from the House of the Pharaoh), it is virtually demonstrated that the believer, in his ensuing dialogue with Pharaoh and his people, invited them toward truth and faith as well as restrained them from killing Sayyidna Musa (علیہ السلام) .
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.