Surah Ghafir • Ayah 3
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Virtues of the Surahs that begin with Ha MimIbn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Everything has an essence and the essence of the Qur'an is the family of Ha Mim," or he said, "the Ha Mims." Mis`ar bin Kidam said, "They used to be called `the brides'." All of this was recorded by the the Imam, great scholar, Abu `Ubayd Al-Qasim bin Sallam, may Allah have mercy upon him, in his book Fada'il Al-Qur'an. Humayd bin Zanjuyah narrated that `Abdullah, may Allah be pleased with him, said, "The parable of the Qur'an is that of a man who sets out to find a place for his family to stay, and he comes to a place where there is evidence of rainfall. While he is walking about, admiring it, he suddenly comes upon beautiful gardens. He says, `I liked the first traces of rainfall, but this is far better.' It was said to him, `The first place is like the Qur'an, and these beautiful gardens are like the splendor of family of Ha Mim in relation to the rest of the Qur'an'." This was recorded by Al-Baghawi. Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said, "When I reach the family of Ha Mim, it is like reaching a beautiful garden, so I take my time."بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.«إِنْ بُيِّتُّمُ اللَّيْلَةَ فَقُولُوا: حم لَا يُنْصَرُون»(When you go to bed tonight, recite Ha Mim, La Yunsarun.)" Its chain of narrators is Sahih.تَنزِيلُ الْكِتَـبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ(The revelation of the Book is from Allah, the Almighty, the All-Knower.) means, this book -- the Qur'an -- is from Allah, the Owner of might and knowledge, Who cannot be overtaken and from Whom nothing is hidden, not even an ant concealed beneath many layers.غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ(The Forgiver of sin, the Acceptor of repentance,) means, He forgives sins that have been committed in the past, and He accepts repentance for sins that may be committed in the future, from the one who repents and submits to Him.شَدِيدُ الْعِقَابِ(the Severe in punishment,) means, to the one who persists in transgression and prefers the life of this world, who stubbornly turns away from the commands of Allah and commits sin. This is like the Ayah:نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ(Declare unto My servants that truly I am the Oft-Forgiving, the Most-Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment.) (15:49-50). These two attributes (mercy and punishment) are often mentioned together in the Qur'an, so that people will remain in a state of both hope and fear.ذِى الطَّوْلِ(the Bestower.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "This means He is Generous and Rich (Independent of means)." The meaning is that He is Most Generous to His servants, granting ongoing blessings for which they can never sufficiently thank Him.وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَا(And if you would count the favors of Allah, never could you be able to count them...) (16:18).لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ(La ilaha illa Huwa) means, there is none that is equal to Him in all His attributes; there is no God or Lord besides Him.إِلَيْهِ الْمَصِيرُ(to Him is the final return.) means, all things will come back to Him and He will reward or punish each person according to his deeds.وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ(and He is Swift at reckoning) (13:41).
تفسیر سورۃ غافر:بعض سلف کا قول ہے کہ جن سورتوں کی ابتداء «حم» سے ہے انہیں «حوامیم» کہنا مکروہ ہے۔ «ال حم» کہا جائے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ال حم» قرآن کا دیباچہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کا دروازہ «ال حم» ہے یا فرمایا «حوامیم» ہیں۔ مسعر بن کدام رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سورتوں کو «عرائس» کہا جاتا تھا۔ «عروس» دلہن کو کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے کسی اچھی منزل کی تلاش میں نکلا تو ایک جگہ ایسی ہے جہاں گویا ابھی ابھی بارش برس چکی ہے، یہ ذرا ہی کچھ آگے بڑھا ہو گا کہ دیکھتا ہے کہ تروتازہ لہلہاتے ہوئے چند چمن ہیں۔ یہ پہلے تر زمین کو دیکھ کر ہی تعجب میں تھا اب تو اس کا تعجب اور بڑھ گیا۔ اس سے کہا گیا کہ پہلے کی مثال تو قرآن کریم کی عظمت کی مثال ہے اور ان باغیچوں کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن میں «حم» والی سورتیں۔ [ بغوی] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ یہی «حم» والی سورتیں ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں تلاوت کرتا ہوا «حم» والی سورتوں پر پہنچتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا میں ہرے بھرے، پھلے پھولے باغوں کی سیر کر رہا ہوں، ایک شخص نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو مسجد بناتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ میں اسے «حم» والی سورتوں کے لئے بنا رہا ہوں، ممکن ہے یہ مسجد وہ ہو جو دمشق کے قلعہ کے اندر ہے اور آپ ہی کے نام سے منسوب ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی حفاظت سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی نیک نیتی کی اور جس وجہ سے یہ مسجد بنائی گئی تھی اس کی برکت کے باعث ہو۔ اس کلام میں دشمنوں پر فتح و ظفر کی دلیل بھی ہے۔ جیسے کہ نبی علیہ السلام نے اپنے بعض جہادوں میں اپنے لشکروں سے فرما دیا تھا کہ اگر رات کو تم اچانک حملہ کرو تو تمہاری پہچان کے خاص الفاظ «حم لَا يُنْصَرُونَ» ہیں ایک روایت میں «تُنْصَرُونَ» ہے۔ مسند بزار میں ہے جس نے آیت الکرسی اور سورۃ حم المومن کا ابتدائی حصہ پڑھا وہ سارے دن کی برائی سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور اس کے ایک راوی پر کچھ جرح بھی ہے۔ (سنن ترمذي:2879،قال الشيخ الألباني:ضعیف)یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ٭٭سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں «یذکرنی حم والرمح شاجر» «فھلا تلا حم قبل التقدم» یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حٰمٗ کیوں نہ کہہ دیا۔صفحہ نمبر7896ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو «" حم " لا ينصرون "» کہنا، [سنن ترمذي:1682،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو «حم لاینصروا» یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہو گے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کر کے آخرت سے بے رغبت ہو جائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دینے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے «نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» [ 15- الحجر: 50، 49 ] یعنی میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف و امید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا» [ 14-إبراهيم: 34 ] بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کر سکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ «وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ 13-الرعد: 41 ] اور بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ایک شخص آ کر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کر دیا ہے کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ [ ابن ابی حاتم ] صفحہ نمبر7897سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیر المؤمنین رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کر دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعد از سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کر دے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا خط ملا تو اس نے اسے باربار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رو دیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی۔ جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔ حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جا کر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورۃ مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی «الیہ المصیر» تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب «غافر الذنب» پڑھو تو کہو «یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی» اور جب «قابل التوب» پڑھو تو کہو «یَا قَاُبَل الثّْوبْ اِقْبَْل تَْوبَتِیْ» اور جب «شدید العقاب» تو کہو «یاشدید العقاب لا تعاقبنی» ۔۔صفحہ نمبر7898سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ الیاس علیہ السلام تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں الیاس کا ذکر نہیں۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم» ۔صفحہ نمبر7899
آیت 3 { غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ لا ذِی الطَّوْلِ } ”وہ اللہ کہ جو بخشنے والا ہے گناہ کا ‘ قبول کرنے والا ہے توبہ کا ‘ سزا دینے میں بہت سخت ہے ‘ وہ بہت طاقت اور قدرت والا ہے۔“ یہاں اللہ تعالیٰ کی چار شانوں کا ذکر مرکب اضافی کی صورت میں ہوا ہے۔ آگے چل کر بھی اس سورت میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے یہ انداز اور اسلوب نظر آئے گا۔ { لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَط اِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ } ”اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ‘ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ یہاں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اس سورت میں ”توبہ“ اور ”استغفار“ کا ذکر بار بار آئے گا ‘ بلکہ اس حوالے سے فرشتوں کا ذکر بھی آئے گا کہ وہ بھی بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ سورة المومن کا سورة الزمر کے ساتھ چونکہ جوڑے کا تعلق ہے اس لیے ان دونوں سورتوں کے بنیادی اور مرکزی مضمون میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس مماثلت کے حوالے سے قبل ازیں تمہیدی کلمات میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ سورة الزمر کا مرکزی مضمون ”توحید فی العبادت“ ہے اور سورة المومن کا مرکزی مضمون ”توحید فی الدعاء“ ہے۔ ”دعا“ کے بارے میں حضور ﷺ کا فرمان ہے : اَلدُّعَائُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ 1 یعنی دعا عبادت کا جوہر ہے۔ ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں : اَلدُّعُائُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ 2 کہ دعا ہی اصل عبادت ہے۔ اس لحاظ سے توحید فی العبادت اور توحید فی الدعاء آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ چناچہ جس طرح عبادت کے حوالے سے سورة الزمر میں بار بار ”مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ“ کی تکرار ہے ‘ اسی طرح اس سورت میں { فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } کی بار بار تاکید ہے۔ یعنی دعا کرو اللہ سے اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ ایسا نہ ہو کہ دعا تو اللہ سے مانگو اور اطاعت کسی اور کی کرو۔ اگر ایسا ہوگا تو یہ انتہائی بےتکی حرکت ہوگی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کو جزوی اطاعت قبول نہیں اسی طرح اسے اس شخص کی دعا سننا بھی منظور نہیں جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ کسی اور کی اطاعت کا طوق بھی اپنی گردن میں ڈالے ہوئے ہے۔ چناچہ ایسے شخص کو چاہیے کہ جس ”معبود“ کی وہ اطاعت کرتا ہے ‘ دعا بھی اسی سے کرے۔ آج ہم پاکستانیوں کو من حیث القوم اس تناظر میں اپنی حالت کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آج ہم ہر میدان میں ذلیل و رسوا کیوں ہو رہے ہیں اور روز بروز ہمارے قومی و ملکی حالات بد سے بد تر کیوں ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ 1971 ء میں نہ صرف ہمارا ملک دولخت ہوگیا بلکہ بد ترین شکست کا داغ بھی ہمارے ماتھے پر لگ گیا۔ آج ہماری حالت پہلے سے بھی بدتر ہے۔ اس وقت ہمارے باقی ماندہ ملک کی سلامتی بھی ڈانواں ڈول ہے۔ انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ مانگی گئی ہماری دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور رو رو کر کی گئی فریادیں بھی نہیں سنی جاتیں۔ یہ دراصل کوئی غیر متوقع اور غیر معمولی صورت ِحال نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی و قومی رویے کا منطقی نتیجہ ہے۔ اور یہ رویہ ّیا طرز عمل کیا ہے ؟ آج ہم نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں ‘ ہماری اطاعت اللہ کے لیے خالص نہیں رہی ‘ بلکہ ہم اللہ کی اطاعت کو چھوڑ کر بہت سی دوسری اطاعتوں کے غلام بن گئے ہیں۔ ہم نے اللہ کے نام پر یہ ملک اس وعدے کے ساتھ حاصل کیا تھا کہ اس ملک میں ہم اللہ کے دین کا بول بالا کریں گے۔ مگر آج ہم اللہ کے ساتھ کیے گئے اس وعدے سے ِپھر چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں وہ ہماری دعائیں کیونکر سنے گا ؟ کیوں وہ ہماری فریاد رسی کرے گا اور کیوں ہماری مدد کو پہنچے گا ؟ چناچہ آج اصولی طور پر ہمیں چاہیے کہ ہم دعائیں بھی اسی ”سپر پاور“ سے کریں جس کی اطاعت کا طوق اپنی گردنوں میں ڈالے پھرتے ہیں۔
The expression: غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ (ghafiridh-dhanb) in verse 3: all literally means the one who puts a cover on sins (in the sense that they are no more seen or known by anyone), and: قَابِلِ التَّوْبِ (gabilit-tawb) means: He who accepts taubah or repentance. These two expressions appear separately, though the sense of both appears to be almost the same. The reason is that by saying: غَافِرِ الذَّنبِ (ghafiridh-dhanb), the purpose is to indicate that Allah Ta’ ala does already possess the standing authority and power to forgive the sin of a servant even without taubah - while forgiving those who repent is yet another attribute of Allah. (Mazhari)The word: طَول (tawl) which follows immediately in: ذِي الطَّوْلِ (dhit-tawl) literally means vastness and being need-free. Then, it could also mean power or favor. (Mazhari)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.