Surah Ghafir • Ayah 25
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Story of Musa and Fir`awnAllah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the disbelief of his people and gives him the glad tidings of good consequences and victory in this world and the Hereafter, as happened to Musa bin `Imran, peace be upon him, whom Allah sent with clear proof and definitive evidence. Allah says:بِـَايَـتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ(with Our Ayat, and a manifest authority). Authority means proof and evidence.إِلَى فِرْعَوْنَ(to Fir`awn), who was the king of the Copts of Egypt.وَهَـمَـنَ(Haman) who was his adviser.وَقَـشرُونَ(and Qarun) who was the richest trader among the people of his time.فَقَالُواْ سَـحِرٌ كَـذَّابٌ(but they called (him): "A sorcerer, liar!") means, they rejected him and thought he was a sorcerer, a madman and an illusionist who was telling lies about having been sent by Allah. This is like the Ayah:كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ - أَتَوَاصَوْاْ بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَـغُونَ(Likewise, no Messenger came to those before them but they said: "A sorcerer or a madman!" Have they transmitted this saying to these Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!) (51:52-53)فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِندِنَا(Then, when he brought them the Truth from Us,) means, with definite evidence that Allah had sent him to them,قَالُواْ اقْتُلُواْ أَبْنَآءَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ وَاسْتَحْيُواْ نِسَآءَهُمْ(they said: "Kill with him the sons of those who believe and let their women live;) This was a second command from Fir`awn to kill the males of the Children of Israel. The first command had been as a precaution against the emergence of a man like Musa, or an act intended to humiliate this people or reduce their numbers or both. The second command was for the second reason, to humiliate the people so that they would regard Musa as a bad omen. they said:أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ("We (Children of Israel) had suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act") (7:129). Qatadah said, this was one command after another.وَمَا كَـيْدُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ(but the plots of disbelievers are nothing but in vain!) means, their schemes and intentions -- to reduce the numbers of the Children of Israel lest they prevail over them -- were doomed to failure.وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ(Fir`awn said: "Leave me to kill Musa, and let him call his Lord!...") Fir`awn, may Allah curse him, resolved to kill Musa, peace be upon him, i.e., he said to his people, `let me kill him for you.'وَلْيَدْعُ رَبَّهُ(and let him call his Lord!) means, `I do not care.' This is the utmost in offensive stubbornness.إِنِّى أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُـمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى الاٌّرْضِ الْفَسَادَ(I fear that he may change your religion, or that he may cause mischief to appear in the land!) means, Musa; Fir`awn was afraid that Musa would lead his people astray and change their ways and customs. As if Fir`awn would be concerned about what Musa might do to his people! The majority understood this as meaning, `he will change your religion and cause mischief to appear in the land.'وَقَالَ مُوسَى إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ(Musa said: "Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord from every arrogant who believes not in the Day of Reckoning!") means, when he heard that Fir`awn had said,ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى(Leave me to kill Musa,) Musa, peace be upon him, said, "I seek refuge and protection with Allah from his evil and the evil of those like him." So he said:إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ(Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord) -- those who were being addressed here --مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ(from every arrogant) means, from every evildoer,لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ(who believes not in the Day of Reckoning!) It was reported in the Hadith narrated from Abu Musa, may Allah be pleased with him, that when the Messenger of Allah ﷺ was afraid of some people, he would say:«اللْهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ، وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِم»(O Allah, we seek refuge in You from their evil and we seek Your help in repulsing them.)
فرعون کا بدترین حکم ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہو گی جیسے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل و براہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء علیہم السلام کو دیتے رہے۔صفحہ نمبر7937جیسے ارشاد ہے «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ» [ 51- الذاريات: 53، 52 ] ، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ اس رسول علیہ السلام پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کر دو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کر چکا تھا۔ اس لیے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ علیہ السلام پیدا نہ ہو جائیں یا اس لیے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا کہ «قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [ 7-الاعراف: 129 ] تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟صفحہ نمبر7938حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہو جائیں بے فائدہ اور فضول تھی۔ فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لیے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لیے عرب میں یہ مثل مشہور ہو گئی «صار فرعون مذكرا» یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِمْ» یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1537،قال الشيخ الألباني:صحیح] صفحہ نمبر7939
آیت 25 { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْٓا اَبْنَآئَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ وَاسْتَحْیُوْا نِسَآئَ ہُمْ } ”تو جب وہ آیا ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھو۔“ { وَمَا کَیْدُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ } ”لیکن کافروں کا دائو بھٹک کر ہی رہ جاتا ہے۔“ اس سے پہلے ہم سورة الاعراف کے پندرھویں رکوع میں بھی سردارانِ قوم فرعون کے اس مطالبے کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ آپ موسیٰ علیہ السلام ٰ کو کب تک ڈھیل دیتے رہیں گے ؟ لوگ دھڑا دھڑ اس پر ایمان لا رہے ہیں ‘ روز بروز اس کی طاقت بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کے اندر فساد پھیل رہا ہے۔ آپ اسے قتل کیوں نہیں کروا دیتے ؟ لیکن جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ فرعون ایک وقت تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی سخت اقدام کرنے سے کتراتا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گویا اپنا بڑا بھائی سمجھتا تھا اور اس تعلق کی وجہ سے وہ دل میں آپ علیہ السلام کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کی پیدائش سے لے کر بحیثیت ِرسول علیہ السلام فرعون کے سامنے آنے تک کے واقعات کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیجیے۔ ان تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت رعمسیس دوم فرعون برسر اقتدار تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کو دریا سے نکال کر جب اس کے محل میں لایا گیا تو اس کی بیوی نے کسی طرح اسے قائل کرلیا کہ اس بچے کو قتل نہ کیا جائے۔ اس موقع پر فرعون کی بیوی کے اپنے شوہر کے ساتھ مکالمے کو سورة القصص میں یوں نقل کیا گیا ہے : { وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَط لَا تَقْتُلُوْہُ ق عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا } آیت 9 ”اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لیے بھی اور تمہارے لیے بھی۔ تم اسے قتل مت کرو ‘ ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں“۔ غالب گمان یہی ہے کہ وہ خاتون حضرت آسیہ رض ہی تھیں جن کا ذکر سورة التحریم میں آیا ہے۔ اس وقت تک فرعون بےاولاد تھا۔ بعد میں اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ چناچہ فرعون کا حقیقی بیٹا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سگے بھائیوں کی طرح اکٹھے رہے اور ایک ساتھ جوانی کی عمر کو پہنچے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی کا قتل ہوگیا تو آپ علیہ السلام مدین چلے گئے۔ مدین سے آپ علیہ السلام کی واپسی کے زمانے میں بڑا فرعون اگرچہ زندہ تھا مگر بڑھاپے کی وجہ سے اس نے تمام امور سلطنت اپنے بیٹے منفتاح کو سونپ رکھے تھے۔ اس طرح عملی طور پر اس کا بیٹاہی حکمران تھا جو ایک طرح سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھائی اور بچپن کا ساتھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اپنے بڑے بڑے سرداروں کے پر زور مطالبے کے باوجود بھی وہ کئی سال تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف انتہائی اقدام کرنے سے گریز کرتا رہا۔ پھر جب اس نے کسی سخت اقدام کو ناگزیر سمجھا بھی تو آپ علیہ السلام کی ذات کے بجائے آپ علیہ السلام کی قوم کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت اس نے ایک دفعہ پھر حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکوں کو قتل کردیا جائے اور صرف ان کی بیٹیوں کو ہی زندہ رہنے دیا جائے۔ اس کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اس تحریک کو کچلنے اور بنی اسرائیل کی طاقت کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اس کے اسی منصوبے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے مخالفین کی کوئی چال بھی اللہ کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔
CommentaryFrequent references were made earlier in the text to the warnings given to deniers of pure monotheism and prophethood which brought more opposition and hostility from disbelievers. Naturally, this situation made the Holy Prophet ﷺ sad. It was to comfort him that, in nearly two sections cited above, mentioned there is the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Pharaoh. In this story, there is a lengthy dialogue between the Pharaoh, his people and a righteous elder who, despite being a scion of the House of the Pharaoh, had believed in the faith of Sayyidna Musa (علیہ السلام) after having seen the miracles shown at his hands - but, had kept his faith secret until that time. Once this dialogue took place, his faith stood declared automatically and conclusively.Out of early Tafsir authorities, Muqatil, Suddiyy and Hasan have said that he was a cousin of the Pharaoh and was the same person who, at the time they were talking in the court of Pharaoh about killing Sayyidna Musa (علیہ السلام) in retaliation against the killing of the Copt, had come running from the far side of the city and apprised Sayyidna Musa (علیہ السلام) of the danger and advised him to go out of Egypt. This event has been mentioned in Surah Al-Qasas: وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ (And there came a man running, from the farthest part of the city. - A1-Qasas, 28:20)The name of this believing member of the House of the Pharaoh has been given as Habib in some sources. But, the truth of the matter is that Habib is the name of the person who has been mentioned in Surah Sin (36:20). The name of this person is شَمعان (Shama'n). Suhaili considers this name as most correct. Others say that his name is Hizgil. Tha'labi has reported the same name from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ .In a Hadith, the Holy Prophet ﷺ said, 'Of some صِّدِّيقِين (siddiqin: the truthful ones), there is Habib najjar (carpenter) whose incident appears in Surah Ya Sin; the other is the believer from the House of Pharaoh; the third, Abu Bakr (Sayyidna Abu Bakr as۔ ؓ ), and he is the foremost among them.' (Qurtubi)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.