The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nisa • Ayah 39

Para 5 Surah 4 : 39
وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِهِمْ عَلِيمًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَمَاذَا
عَلَيْهِمْ
لَوْ
ءَامَنُوا۟
بِٱللَّهِ
وَٱلْيَوْمِ
ٱلْـَٔاخِرِ
وَأَنفَقُوا۟
مِمَّا
رَزَقَهُمُ
ٱللَّهُ
ۚ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
بِهِمْ
عَلِيمًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Censure of Stingy BehaviorAllah chastises the stingy behavior of those who refuse to spend their money for what Allah ordered them, such as being kind to parents and compassionate to relatives, orphans, the poor, the relative who is also a neighbor, the companion during travel, the needy wayfarer, the slaves and servants. Such people do not give Allah's right from their wealth, and they assist in the spread of stingy behavior. The Messenger of Allah ﷺ said,«وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْل»(What disease is more serious than being stingy) He also said,«إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيْعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا»(Beware of being stingy, for it destroyed those who were before you, as it encouraged them to cut their relations and they did, and it encouraged them to commit sin and they did.) Allah said,وَيَكْتُمُونَ مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ(and hide what Allah has bestowed upon them of His bounties,) Therefore, the miser is ungrateful for Allah's favor, for its effect does not appear on him, whether in his food, clothes or what he gives. Similarly, Allah said,إِنَّ الإِنسَـنَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ - وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ(Verily, man is ungrateful to his Lord. And to that he bears witness.) by his manners and conduct,وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ(And verily, he is violent in the love of wealth.) Allah said,وَيَكْتُمُونَ مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ(and hide what Allah has bestowed upon them of His bounties) and this is why He threatened them,وَأَعْتَدْنَا لِلْكَـفِرِينَ عَذَاباً مُّهِيناً(And We have prepared for the disbelievers a disgraceful torment.) Kufr means to cover something. Therefore, the Bakhil (miser) covers the favors that Allah has blessed him with, meaning he does not spread those favors. So he is described by the term Kafir (ungrateful) regarding the favors that Allah granted him. A Hadith states that,«إِنَّ اللهَ إِذَا أَنْعَمَ نِعْمَةً عَلى عَبْدٍ،أَحَبَّ أَنْ يَظْهَرَ أَثَرُهَا عَلَيْه»(When Allah grants a servant a favor, He likes that its effect appears on him.) Some of the Salaf stated that this Ayah 4:37 is describing the Jews who hid the knowledge they had about the description of Muhammad ﷺ, and there is no doubt that the general meaning of the Ayah includes this. The apparent wording for this Ayah indicates that it is talking about being stingy with money, even though miserly conduct with knowledge is also included. The Ayah talks about spending on relatives and the weak, just as the Ayah after it,وَالَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَلَهُمْ رِئَـآءَ النَّاسِ(And (also) those who spend of their wealth to be seen of men, ) Allah first mentions the punished misers who do not spend, then He mentions those who spend to show off to gain the reputation that they are generous, not for the Face of Allah. A Hadith states that the first three persons on whom the fire will feed are a scholar, a fighter and a spender who shows off with their actions. For instance,«يَقُولُ صَاحِبُ الْمَالِ: مَا تَرَكْتُ مِنْ شَيْءٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهِ، إِلَّا أَنْفَقْتُ فِي سَبِيلِكَ، فَيَقُولُ اللهُ: كَذَبْتَ، إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: جَوَادٌ، فَقَدْدِقيل»(The wealthy will say, "I did not leave any area that You like to be spent on, but I spent on it in Your cause." Allah will say, "You lie, you only did that so that it is said, `He is generous.' And it was said...") meaning you acquired your reward in the life, and this is indeed what you sought with your action. This is why Allah said,وَلاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلاَ بِالْيَوْمِ الاٌّخِرِ(and believe not in Allah and the Last Day,) meaning, it is Shaytan who lured them to commit this evil action, instead of performing the good deed as it should be performed. Shaytan encouraged, excited and lured them by making the evil appear good,وَمَن يَكُنِ الشَّيْطَـنُ لَهُ قَرِيناً فَسَآءَ قِرِيناً(And whoever takes Shaytan as an intimate; then what a dreadful intimate he has!) Allah then said,وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ ءَامَنُواْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقَهُمُ اللَّهُ(And what loss have they if they had believed in Allah and in the Last Day, and they spend out of what Allah has given them for sustenance) This Ayah means, what harm would it cause them if they believe in Allah, go on the righteous path, replace showing off with sincerity, have faith in Allah, and await His promise in the Hereafter, for those who do good and spend what He has given them on what He likes and is pleased with. Allah's statement:وَكَانَ اللَّهُ بِهِم عَلِيماً(And Allah is Ever All-Knower of them.) means, He has perfect knowledge of their intentions, whether good or evil. Indeed, Allah knows those who deserve success, and He grants them success and guidance, directing them to perform righteous actions that will earn them His pleasure. He also knows those who deserve failure and expulsion from His great mercy, which amounts to utter failure in this life and the Hereafter for them, we seek refuge in Allah from this evil end.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ سے کترانے والے بخیل لوگ ٭٭ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کے موقعہ پر مال خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں مثلاً ماں باپ کو دینا، قرابت داروں سے اچھا سلوک نہیں کرتے، یتیم مسکین پڑوسی رشتہ دار غیر رشتہ دار پڑوسی ساتھی مسافر غلام اور ماتحت کو ان کی محتاجی کے وقت فی سبیل اللہ نہیں دیتے، اتنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کو بھی بخل اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کون سی بیماری بخل کی بیماری سے بڑھ کر ہے؟ ‏ [صحیح بخاری:4383] ‏ اور حدیث میں ہے لوگو بخیلی سے بچو اسی نے تم سے اگلوں کو تاخت و تاراج کیا اسی کے باعث ان سے قطع رحمی اور فسق و فجور جیسے برے کام نمایاں ہوئے۔ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر فرمایا یہ لوگ ان دونوں برائیوں کے ساتھ ہی ساتھ ایک تیسری برائی کے بھی مرتکب ہیں یعنی اللہ کی نعمتوں کو چھپاتے ہیں انہیں ظاہر نہیں کرتے نہ ان کے کھانے پینے میں وہ ظاہر ہوتی ہیں نہ پہننے اوڑھنے میں نہ دینے لینے میں جیسے اور جگہ ہے «اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ» [100-العاديات:6-7] ‏ یعنی ” انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور وہ خود ہی اپنی اس حالت اور اس خصلت پر گواہ ہے “، پھر «وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ» ‏ [100-العاديات:8] ‏ ” وہ مال کی محبت میں مست ہے “، پس یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کے فضل کو یہ چھپاتا رہتا ہے۔صفحہ نمبر1700پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے کہ کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھے ہیں، «کفر» کے معنی ہیں پوشیدہ رکھنا اور چھپا لینا پس بخیل بھی اللہ کی نعمتوں کا چھپانے والا ان پر پردہ ڈال رکھنے والا بلکہ ان کا انکار کرنے والا ہے پس وہ نعمتوں کا کافر ہوا۔ حدیث شریف میں ہے اللہ جب کسی بندے پر اپنی نعمت انعام فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو۔ [مسند احمد:3/473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دعا نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے «‏وَاجْعَلنَْا شَاکِرِیْنَ لِنِعْمَتِکَ مُثْنِیْنَ بِھَا عَلَیْکَ قَابِلِیْھَاوَاتِمَّـهَا عَلَیْناَ» اے اللہ! ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار بنا اور ان کی وجہ سے ہمیں اپنا ثنا خوان بنا ان کا قبول کرنے والا بنا اور ان کی نعمتوں کو ہمیں بھرپور عطا فرما۔ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ بعض سلف کا قول ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے اس بخل کے بارے میں ہے جو وہ اپنی کتاب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کے چھپانے میں کرتے تھے اسی لیے اس کے آخر میں ہے کہ کافروں کے لیے ذلت آمیز عذاب ہم نے تیار کر رکھے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ اس آیت کا اطلاق ان پر بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بظاہر یہاں مال کا بخل بیان ہو رہا ہے گو علم کا بخل بھی اس میں بطور اولیٰ داخل ہے۔ خیال کیجئے کہ بیان آیت «اقرباضعفا» کو مال دینے کے بارے میں ہے اسی طرح اس کے بعد والی آیت میں ریاکاری کے طور پر فی سبیل اللہ مال دینے کی مذمت بھی بیان کی جا رہی ہے۔ پہلے ان کا بیان ہوا جو ممسک اور بخیل ہیں کوڑی کوڑی کو دانتوں سے تھام رکھتے ہیں۔صفحہ نمبر1701پھر ان کا بیان ہوا جو دیتے تو ہیں لیکن بدنیتی اور دنیا میں اپنی واہ واہ ہونے کی خاطر دیتے ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں سے جہنم کی آگ سلگائی جائے گی وہ یہی ریاکار ہوں گے، ریاکار عالم، ریاکار غازی، ریا کار سخی ایسا سخی کہے گا باری تعالیٰ تیری ہر ہر راہ میں، میں نے اپنا مال خرچ کیا تو اسے اللہ تعالیٰ کی جناب سے جواب ملے گا کہ تو جھوٹا ہے تیرا ارادہ تو صرف یہ تھا کہ تو سخی اور جواد مشہور ہو جائے سو وہ ہو چکا۔ [صحیح مسلم:1905] ‏ یعنی تیرا مقصود دنیا کی شہرت تھی وہ میں نے تجھے دنیا میں ہی دے چکا پس تیری مراد حاصل ہو چکی۔ اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تیرے باپ نے اپنی سخاوت سے جو چاہتا تھا وہ اسے مل گیا۔ [مسند احمد:258/4:حسن بالشواھد] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عبداللہ بن جدعان تو بڑا سخی تھا جس نے مساکین و فقراء کے ساتھ بڑے سلوک کئے اور نام الہ بہت سے غلام آزاد کئے تو کیا اسے ان کا نفع نہ ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں اس سے تو عمر بھر میں ایک دن بھی نہ کہا کہ اے اللہ میرے گناہوں کو قیامت کے دن معاف فرما دینا۔‏“ [صحیح مسلم:214] ‏ اسی لیے یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان کا ایمان اللہ اور قیامت پر نہیں۔ ورنہ شیطان کے پھندے میں نہ پھنس جاتے اور بد کو بھلا نہ سمجھ بیٹھتے یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان ان کا ساتھی ہے ساتھی کی برائی پر ان کی برائی بھی سوچ لو عرب شاعر کہتا ہے «عن المرء لا تسال وسل عن قرینہ» * «‏فکل قرین بالمقارن یقتدی» ‏ انسان کے بارے میں نہ پوچھ اس کے ساتھیوں کا حال دریافت کر لے۔ ہر ساتھی اپنے ساتھی کا ہی پیرو کار ہوتا ہے۔صفحہ نمبر1702پھر ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں اللہ پر ایمان لانے اور صحیح راہ پر چلنے اور ریاکاری کو چھوڑ دینے اور اخلاص و یقین پر قائم ہو جانے سے کون سی چیز مانع ہے؟ ان کا اس میں کیا نقصان ہے؟ بلکہ سراسر فائدہ ہے کہ ان کی عاقبت سنور جائے گی یہ کیوں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے تنگ دلی کر رہے ہیں۔ اللہ کی محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ اللہ انہیں خوب جانتا ہے ان کی بھلی اور بری نیتوں کا اسے علم ہے، اہل توفیق اور غیر اہل توفیق سب اس پر ظاہر ہیں، وہ بھلوں کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما کر اپنی خوشنودی کے کام ان سے لے کر اپنی قربت انہیں عطا فرماتا ہے اور بروں کو اپنی عالی جناب اور زبردست سرکاری سے دھکیل دیتا ہے جس سے ان کی دنیا اور آخرت برباد ہوتی ہے۔ «عَیَاذًا ابِاللہِ مِنْ ذٰلِکَ» صفحہ نمبر1703

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 37 نِ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبُخْلِ ّجن میں یہ شیخی خوری اور اکڑ ہوتی ہے پھر وہ بخیل بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ غرور و تکبرعام طور پر دولت کی بنا پر ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ہمارے پاس جو دولت ہے اگر یہ خرچ ہوگئی تو ہمارا وہ مقام نہیں رہے گا ‘ لوگوں کی نظروں میں ہماری عزت نہیں رہے گی۔ لہٰذا وہ اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ اس پر انہیں یہ اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ ہمیں ملامت کریں گے کہ تم بڑے بخیل ہو ‘ چناچہ وہ خود لوگوں کو اس طرح کے مشورے دینے لگتے ہیں کہ بابا اس طرح کھلا خرچ نہ کیا کرو ‘ تم خواہ مخواہ پیسے اڑاتے ہو ‘ عقل کے ناخن لو ‘ کچھ نہ کچھ بچا کے رکھا کرو ‘ وقت پر کام آئے گا۔ اس طرح وہ لوگوں کو بھی بخل ہی کا مشورہ دیتے ہیں۔ وَیَکْتُمُوْنَ مَآاٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط۔اپنی دولت کو چھپا چھپا کر رکھتے ہیں۔ انہیں یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ دولت ظاہر ہوگی تو کوئی سائل سوال کر بیٹھے گا۔ لہٰذا خود ہی مسکین صورت بنائے رکھتے ہیں کہ کوئی ان کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Previous verses carried the condemnation of those who refused to believe in Allah and in the Akhirah and were miserly. The present verses persuade people to believe in Allah and the Akhirah and engage in the gainful activity of spending in the way of Allah. Then, towards the end (41-42), a description of the trying situations prevailing on the plains of Resurrection appears to warn people, who refuse to believe and refuse to do what is good, of their evil end.CommentaryIn the first verse (39): وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللَّـهِ it is said: What conceivable harm could have affected them if they had believed in Allah and the Last Day and spent out of what Allah had given them? at is so tough, difficult or frightening about it? All these are as easy as they come. Going by them, taking to them and believing in them does not hurt or harm or cause any inconvenience. Why then, would someone elect to be disobedient, the certain outcome of which is nothing but disaster in the Akhirah?

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.