The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nisa • Ayah 144

Para 5 Surah 4 : 144
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْكَـٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا۟ لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـٰنًا مُّبِينًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

يَـٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوا۟
لَا
تَتَّخِذُوا۟
ٱلْكَـٰفِرِينَ
أَوْلِيَآءَ
مِن
دُونِ
ٱلْمُؤْمِنِينَ
ۚ
أَتُرِيدُونَ
أَن
تَجْعَلُوا۟
لِلَّهِ
عَلَيْكُمْ
سُلْطَـٰنًا
مُّبِينًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Prohibition of Wilayah with the DisbelieversAllah forbids His believing servants from taking the disbelievers as friends instead of the believers. This includes being friends and associates of the disbelievers, advising them, being intimate with them and exposing the secrets of the believers to them. In another Ayah, Allah said,لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ إِلاَ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَـةً وَيُحَذِّرْكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ(Let not the believers take the disbelievers as friends instead of the believers, and whoever does that, will never be helped by Allah in any way, except if you indeed fear a danger from them. And Allah warns you against Himself). meaning, He warns you against His punishment if you fall into what He has prohibited. This is why Allah said here,أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ للَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَاناً مُّبِيناً(Do you wish to offer Allah a manifest Sultan against yourselves) meaning, proof against you that warrants receiving His torment. Ibn Abi Hatim narrated that Ibn `Abbas commented;سُلْطَاناً مُّبِيناً(manifest Sultan), "The word Sultan in the Qur'an means proof. " There is an authentic chain of narration for this statement, which is also the saying of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, Ad-Dahhak, As-Suddi and An-Nadr bin `Arabi.The Hypocrites and the Friends of Disbelievers are in the LowestDepth of the Fire, Unless they RepentAllah then states that,إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ فِى الدَّرْكِ الاٌّسْفَلِ مِنَ النَّارِ(Verily, the hypocrites will be in the lowest depths of the Fire;) on the Day of Resurrection due to their tremendous Kufr. Al-Walibi `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said,فِى الدَّرْكِ الاٌّسْفَلِ مِنَ النَّارِ(in the lowest depths (grade) of the Fire;) means, in the bottom of the Fire. Other scholars said that the Fire has ever lower depths just as Paradise had ever higher grades. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that,إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ فِى الدَّرْكِ الاٌّسْفَلِ مِنَ النَّارِ(Verily, the hypocrites will be in the lowest depths (grade) of the Fire), "Inside coffins of Fire that surround them, for they are closed and sealed in them." Ibn Abi Hatim recorded that when Ibn Mas`ud was asked about the hypocrites, he said, "They will be placed in coffins made of fire and they will be closed in them in the lowest depth of the Fire."وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيراً(no helper will you find for them. ) to save them from their misery and painful torment. Allah then states that whoever among the hypocrites repents in this life, Allah will accept his repentance and sorrow, if his repentance were sincere and he then follows it by performing righteous deeds, all the while depending on his Lord. Allah said, aإِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَاعْتَصَمُواْ بِاللَّهِ وَأَخْلَصُواْ دِينَهُمْ للَّهِ(Except those who repent (from hypocrisy), do righteous good deeds, depend on Allah, and purify their religion for Allah) replacing showing off with sincerity, so that their good deeds will benefit them, even if they were minute.فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ(then they will be with the believers.) on the Day of Resurrection,وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْراً عَظِيماً(And Allah will grant to the believers a great reward.) Allah then states that He is too Rich to need anyone and that He only punishes the servants because of their sins,مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَءَامَنْتُمْ(Why should Allah punish you if you have thanked (Him) and have believed in Him.) by correcting your actions and having faith in Allah and His Messenger ,وَكَانَ اللَّهُ شَـكِراً عَلِيماً(And Allah is Ever All-Appreciative (of good), All-Knowing.) Allah appreciates those who appreciate Him, and has knowledge of those whose hearts believe in Him, and He will give them perfect rewar.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے ٭٭کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» [3-آل عمران:28] ‏ ” مومنوں کو چاہیئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں“ ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہیئے، ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہو گا اور پوری دلیل ہو گی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔صفحہ نمبر2007پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے «درک» درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں «درک» ہیں ایک سے ایک پست۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہو جائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کر لیں نادم ہو جائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لیے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کر لو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہو جائے گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:6162/4:ضعیف] ‏صفحہ نمبر2008پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بے نیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہو جائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے والا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کون سا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھرپور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (‏اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر و ثواب سے نہال کرے آمین)صفحہ نمبر2009 «الحمداللہ» تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عامل بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر نیکیاں تحریر فرما اور اپنے نیک بندوں میں شمار کر، «آمین» صفحہ نمبر2010

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 144 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط یہ مضمون پہلے آیت 139 میں بھی آچکا ہے۔ یہ بھی نفاق کی ایک علامت ہے کہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کے ساتھ دوستیوں کی پینگیں بڑھائی جائیں ‘ ان کو اپنا حمایتی ‘ مددگار اور راز دار بنایا جائے۔اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا اس طرح تم لوگ خود ہی اپنے خلاف ایک حجت فراہم کر رہے ہو۔ جب اللہ تعالیٰ آخرت میں تمہارا محاسبہ کرے گا ‘ تب اس سوال کا کیا جواب دو گے کہ تمہاری دوستیاں کافروں کے ساتھ کیوں تھیں ؟ اس طرح تمہارا یہ فعل تمہارے اپنے خلاف حجت قاطع بن جائے گا۔اب جو آیت آرہی ہے وہ ایک اعتبار سے منافقین کے حق میں قرآن حکیم کی سخت ترین آیت ہے۔ اگرچہ بعض دوسرے اعتبارات سے ‘ بلکہ ایک خاص لطیف پہلو سے ایک آیت اس سے بھی سخت تر ہے جو سورة التوبہ میں آئے گی۔ در اصل طویل سورتوں میں سے سورة النساء اور سورة التوبہ دو ایسی سورتیں ہیں جن میں نفاق کا مضمون بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Maulana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) has, in his Tafsir Bay-an al-Qur'an, taken up the question of 'standing up lazily' in the expression: قَامُوا كُسَالَ which appears in verse 142 saying: 'The laziness censured here is doctrinal laziness, (that is, slothfulness towards observance of the articles of faith due to lack of true conviction). However, laziness which is there despite correct beliefs stands excluded from the purview of this censure. Then, should this laziness be there due to some excuse, such as, sickness, fatigue or sleepiness, it is not even blameworthy. But, when without excuse, it is.'

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.